سب جگہ ایک سا عالم تھا۔ اپنی خواہش کا لباس پہننے والی عورت بدچلن ٹھہری،
ننگے سر بازار میں نکلنے والی عورت بے حیا کہلائی، محبت کرنے والی عورت
بدکردار سمجھی گئی، اپنی مرضی سے شادی کرنے والی عورت کاری بنی۔ فحش اشاروں
اور تصویروں کا کاروبار کرنے والے مرد معزز رہے پر اس دھندے کی بابت پوسٹر
بنا کر احتجاج کرنے والی عورت کے سر سے عزت کی ردا چھین لی گئی۔ بھنگڑا
ڈالنے والے مرد معتبر رہے پر دھمال ڈالنے والی عورت گالیوں کا رزق بنا دی
گئی۔ سوشل میڈیا پر اپنی جائیدادیں بیچ کر راتیں خریدنے والا بھولا ریکارڈ
ایک خوشی، ایک مذاق اور دل لگی کا سامان رہا پر اپنے پورے گھر کو پالنے
والی قندیل بلوچ فاحشہ قرار دے کر قتل کر دی گئی۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
-
1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد لکھی ہوئی احمدفرازکی عظیم الشان انقلابی نظم ان کے جنم دن پر پیش کی جارہی ہے۔آج فراز نوّے برس کے ہو ...
-
وہ ہم نہیں تھے پھر کون تھا سر ِبازار! جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارہ نہیں! ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین! ہمارے پاس زمینوں کا...
-
آئیں آپ کو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کی بابت چند نئے پہلو بتائیں ۔ محمد بن قاسم کا حملہ ایک تاریخی جائزہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ...
No comments:
Post a Comment