Sunday, 15 August 2021

Afghanistan- Farooq Tariq

The US occupation took only human lives: Taliban victory is not a sign of peace

 Farooq Tariq

It is now evident  that the US imperialism has lost all its human and financial investment in Afghanistan. The Taliban have almost occupied Afghanistan without a fight. What has been spent in Afghanistan in the name of development, ‘democracy’ and training of the armed forces for the last 20 years was unprecedented in the history of the world.

According to the Cost of War Project, the United States poured $ 2226 billion into Afghanistan. This money could have provided basic education and health care all over the world. According to a 2020 report by the US Department of Defense, the United States spent $ 815.7 billion on war expenses. Pakistan's total foreign debt is currently $ 116 billion, it is 7 times more than Pakistan's total foreign debt. Despite doing so much, the Americans hasty pull out from Afghanistan and the collapse of Ashraf Ghani’s government implies that all the US investment is now being handed over to the Taliban, without a single bullet fired.

The casualties in this war can be estimated from the fact that by April 2021, 47,235 civilians, 72 journalists and 444 aid workers had been killed in this war. 66,000 Afghan soldiers also fell victim to this war.

The United States lost 2,442 troops and 20,666 were wounded. In addition, 3,800 private security personnel were killed. Soldiers from 40 countries were taking part in NATO's Afghan forces. Of these, 1,144 soldiers were killed.

The number of people who sought refuge outside the country is 2.7 million, while 4 million have been internally displaced. The US imperialism lavishly borrowed to fund this war. It paid an estimated $ 536 billion in interest alone. In addition, it spent $ 296 billion on medical and other expenses for returning combat troops.

The $ 88 billion spent on training the 300,000 Afghan soldiers who are surrendering without a fight, and the $ 36 billion spent on reconstruction projects such as dams, highways, etc., $ 9 billion was spent as compensation so the Afghans should not cultivate poppy and sell heroine.

The Americans thought that Development would persuade Afghans not to side with the Taliban. But this did not happen (though Taliban popularity was also questionable) and nor it eradicated poverty. At present, the unemployment rate in Afghanistan is 25 percent and the poverty ratio is 47 percent. These are World Bank estimates.

Although some human progress has been made. For example, the average age has risen from 56 to 64 years, and the number of children who die before the age of 5 has halved. The literacy increased from 8% to 43%. 89% have access to safe drinking water in the cities. It was only 16% before.

Now whatever the Americans has spent will fall into the hands of the Taliban. Afghan soldiers are leaving their weapons and fleeing, those weapons have fallen into the hands of the Taliban. The Taliban are no longer occupying 1996 Afghanistan but the Afghanistan of 2021, where trillions of dollars have been invested.

This defeat of the Americans cannot be compared to the Soviet Union's withdrawal from Afghanistan after the 1986 Geneva Accords. The USSR trained forces and men survived in government another 3 years after their departure. Here Ashraf Ghani & Co. has fallen within days once the Taliban offendce started after the withdrawal of American and NATO forces.

The historical lesson of Afghanistan is that the forces created by the direct military intervention of foreign forces cannot defend the country. 

Soviet forces stay lasted 10 years and failed. For 20 years, the US and NATO forces remained stationed in Afghnaitsan, their trained Afghan army dispersed without a fight.
The reason is clear: the Afghan people and soldiers had no ideological basis to fight. 

Ashraf Ghani & Co. were involved in mega corruption. The class divide was sharp. Afghans did not fight for the Americans, how could they fight for their agents.

Ashraf Ghani & Co. represents the worst form of capitalism. The Taliban, on the other hand, who, despite all their brutality, were able to cleverly exploit religion. They had an idea of a religious state. Ashraf Ghani could never make it clear which state he wanted.

The Taliban's victory is bad news for the progressives around the world. Criticism of American agents is not intended a support of the Taliban. Opposition to both will continue. Only the victory of a truly democratic socialist ideology can stop the future bloodshed in Afghanistan.

The Taliban's victory is not a sign of peace but a message of perpetual civil war. The establishment of another religious fanatic state in South Asia will promote religious sectarianism throughout the region and anti-peace measures will continue.

Farooq Tariq
15 August 2021

اففانستان - حاشر ابن ارشاد

یہ حق افغانستان کے عوام کا ہے کہ وہ کس کو اپنا حکمران دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ حق  ہتھیاروں کے زور پر امریکا کا نہیں تھا تو یہ حق ویسے ہی ہتھیاروں کے زور پر کابل کا اب محاصرہ کیے ہوئے بھاری پگڑی والوں کا بھی نہیں ہے۔ 

لیکن یہ حق ہم نے دہائیوں سے نہیں ، صدیوں سے غصب ہوتے دیکھا ہے۔ افغانستان میں صرف طاقت کی کرنسی چلتی ہے۔ لوگ کیا کہتے اور کیا سوچتے ہیں، یہ اہم نہیں ہے اور نصف آبادی جو خواتین پر مشتمل ہے، اس کی رائے اسی برقعے میں دم توڑ دیتی ہے جس میں گھٹا ہوا سانس لینا ہی اس کی زندگی ہے۔ افغانستان کی عورت کی رائے اور شناخت دونوں بے نشاں ہیں ، بے چہرہ ہیں۔ کبھی کبھی اس دشت ادبار میں کچھ بارشوں کے وقفے آئے ہیں لیکن پھر وہی باد سموم اپنا ڈیرہ جما لیتی ہے جس کا ایک روپ آج کابل کے بازاروں میں پھر رہا ہے۔ 

سقوط کابل ووٹ کی پرچی پر نہیں ، بندوق کی نوک پر ہوا ہے اور اسکی خوشیاں منانے والے بھی دلیل سے نہیں ، بندوق سے ہلاک ہونے کو ترجیح دینے والے ہیں۔ کس کس کا نام لیں۔ 

یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ اے پی ایس کو خون سے پینٹ کرنے والے بھی انہی کے ہم نام تھے۔ جس نظام کے وہ نام لیوا تھے، کل سے وہ افغانستان کا مقدر ہو گا۔ اپنی صفوں میں موجود ان لوگوں کو پہچان لیجیے۔ یقین رکھیے کہ ان کا بس چلتا اور انہیں اپنی بوٹیاں نوچ لیے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو یہ بھی قاتلوں کے ترجمان کی طرح اے پی ایس سانحے کی بھی تاویلیں پیش کرنے سے ذرا نہ چوکتے۔ یہ قاتلوں کے مداح، آزادی رائے کے ناقد، جنس زدہ، وحشی قلم اور میڈیا سنبھالے ہوئے طے شدہ امور کے نقیب آفت گر آج خوش ہیں۔ اور اس دن تک یہ خوش رہیں گے جب ان کے بچے ذبح ہوں گے، جب ان کی عورتوں کو کھلے میدان میں سنگسار کیا جائے گا۔ 

افغانستان میں لاشوں کے اوپر ایک اور شیطانی قصر حکومت تعمیر ہو رہا ہے۔ ہمارے دانشورانِ امت اپنی مزدوری یہیں بیٹھے انجام دے رہے ہیں۔ وحشت کا رقص برہنہ ادھر دیکھ لیجیے، جہالت کا ننگا ناچ تو ہماری اپنی گلیوں میں ہو رہا ہے۔

افغانستان -شعیب عادل

افغانستان کی صورتحال گھمبیر اور پیچیدہ ہوچکی ہے۔ جس طریقے سے طالبان نے فتوحات حاصل کی  ہیں، اس پر امریکی میڈیا میں کافی بحث مباحثہ ہورہا ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ امریکہ جس افغان آرمی کی تربیت کرتا رہا ہے وہ کسی کام نہ آسکی۔  یہ بتایا جارہا ہے کہ افغان آرمی میں زیادہ تر لوگ اچھی تنخواہوں کےلیے بھرتی ہوئے تھے۔ ان میں لڑائی کا جذبہ بالکل نہیں ہے اور وقت آنے پر ہتھیاروں اور اسلحے سمیت فرار ہوگئے اور یہ اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ بڑی تعداد میں پاکستانی طالبان افغانستان پہنچ چکے ہیں ۔ گو پاکستانی ریاست  پاکستانی طالبان کی مدد نہیں کررہی مگر ان پر پابندیاں بھی نہیں لگا رہی اور انہیں سرحد پار آنے جانے کی کھلی اجازت ہے۔ ذرائع کے مطابق  جیش محمد، لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خیبر پختونخواہ ، پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں  جتنے بھی مدرسے  ہیں  ان کے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد افغانستان کے ان علاقوں میں  موجود ہے۔طالبان کے ساتھ نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ القاعدہ اور داعش کے ارکان بھی جاملے ہیں۔
کچھ صحافیوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ چند ایک جگہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے پاکستانی طالبان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے تو فورسز پر حملے بھی ہوئے ہیں۔ چینی انجنئیر پر حملے بھی اسی کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے وہ بے بس ہیں۔ 
امریکہ یا مغرب کو طالبان سے زیادہ القاعدہ اور داعش کے دوبارہ ایکٹیو ہونے کی تشویش ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ، برسلز اور برطانیہ میں مختلف سطحوں پر اجلاس ہورہے ہیں ۔ اس کے متعلق کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔امریکہ نے یواین او کو کہا ہےکہ اگر طالبان کابل پر قبضہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے۔
کہا یہ جارہا ہے کہ طالبان کابل کا محاصرہ کرکے جنگ بندی کا اعلان کرکے  اپنی ٹرمز پر کابل حکومت سے مذاکرات کا اعلان کریں گے۔ ان کا پہلا مطالبہ تو یہ ہے اشرف غنی استعفیٰ دے۔ طالبان کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی جائے اور پھر طالبان فیصلہ کریں گے کہ کسی کو کتنی نمائندگی دی جائے۔
ایک اہم بات اور ہے کہ چونکہ اس وقت لڑائی جاری ہے اور طالبان کے بےشمار گروہ اس میں حصہ لے رہے ہیں اور اس وقت متحد ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان لڑائی کے وقت ہی متحدہوتےہیں جب امن قائم ہوتا ہے تو پھر یہ آپس میں لڑائی شروع کردیتے ہیں۔ جب جنگ بندی ہوگی تو پھر طالبان کے اندر اقتدار میں کتنا حصہ لیا جائے کی لڑائی بھی لڑی جائے گی۔
 امریکہ اور یورپی ادارے پاکستان کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔امریکہ  نے آئی ایس آئی کے چیف  اور  نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف کے حالیہ دورے میں ان کو ایک ڈوزئیر دیا ہے کہ آپ کی ریاست طالبان کی بھرپور امداد کررہی ہے۔ کئی پاکستانی فوجی افسر جذبہ جہاد سے سرشار طالبان کی بھرپور رہنمائی کررہے ہیں ۔ افغانستان کے ساتھ جتنے بھی ممالک کی سرحد ملتی ہے انھوں نے اپنے بارڈر بند کر دیئے ہیں لیکن پاکستان نے بند نہیں کیا۔
پاکستانی ریاست دفاعی گہرائی حاصل کرتے کرتے اب اس لڑائی میں سینڈوچ بن چکی ہے۔طالبان جتنی بھی فتوحات حاصل کرلیں جب تک اقوام متحدہ اسے تسلیم نہیں کرے گی پاکستان کی مشکلات کم ہونے والی نہیں۔
شعیب عادل

افغانستان -شاہ جہاں سالف

بغیر کسی جنگ کے تمام کے تمام صوبے تلبان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔۔ بس کابل اور ایک آدھ صوبہ رہتا ہے وہ بھی ان کے حوالے ہو جائیں گے۔۔
وہ تلبان جو پچھلے پانچ برس سے کسی ایک چوکی یا دیہی علاقے پر قبضہ نہیں کر سکے جبکہ امریکی افواج غیر فعال تھیں اور تلبان کو افغان فوج و دیگر سیکورٹی کے لوگ روکے ہوئے تھے اور پچھلے کئی ماہ سے شدید کوشش کے باوجود چند دیہات نما اضلاع کے علاوہ کہیں قابض نہیں ہو سکے تھے اب وہی تلبان  بغیر کسی بڑی کوشش کے تقریبا" تمام صوبے لے چکے ہیں بلکہ ان کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔۔
یہی کچھ امریکہ نے عراق میں بھی کیا تھا جب امریکہ وہاں سے نکلا اور دعش آئی تو بغیر کسی بڑی جنگ کے انہوں نے مختلف بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور امریکہ کے چھوڑے ہوئے لوگوں مے وہ علاقے چپ چاپ دعش کے حوالے کیے اور چلتے بنے۔۔
یہی کچھ امریکہ نے افغانستان میں کیا۔۔ امریکہ نے سب پہلے سے طے کر رکھا ہے۔۔ امریکہ ایک ایک کرکے اپنے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔۔  اشرف غنی اور اور دوسرے دھڑوں کے رہنماؤں کی اب اس کو ضرورت نہیں ہے۔  اب تلبان سے اس کا معاہدہ ہے۔۔
تلبان افغانستان کے بالادست اور امیر طبقے کو کچھ نہیں کہہ رہے البتہ غریب سپاہیوں اور لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔۔
اس بار ایران بھی کھل کر تلبان کے ساتھ ہے۔۔
کابل میں امن ہے اور تمام لوگ بالکل نارمل انداز سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔ باقی چند جگہوں پر ہلکی پھلکی جنگ ہوئی مگر کابل پر جنگ نہیں ہوگی بلکہ کابل بھی شاید اسی طرح سکون سے حوالے کر دیا جائے جس طرح امریکہ نے بہت ساری جگہوں پر اپنے اسلحے کے انبار تلبان کے حوالے کیے۔۔
سب گیم پہلے سے طے شدہ ہے۔۔ ہوگا وہی جو امریکہ چاہے گا۔۔ افغانستان کو ایک بار پھر درندوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔۔ اسی لیے عاملی میڈیا کے بڑے ستون وقت سے پہلے ہی بتا رہے تھے کہ اسی فیصد افغانستان پر تلبان کا قبضہ ہو گیا ہے جبکہ ابھی تلبان کے پاس افغانستان کا پانچ فیصد حصہ بھی نہیں تھا۔۔
لیکن نا امیدی نہیں ہے۔۔ وہ دن بھی جلد ہی آئے گا جب افغان عوام اپنی جنگ خود لڑیں گے اور اپنے بالادست طبقے سمیت تمام دہشت گردوں اور سامراجیوں کو خاک چٹا کر افغانستان کا نظم و نسق خود سنبھالیں گے۔۔
امریکہ یہاں سوشلزم کو روکنے کے لیے آیا تھا اور اپنے گماشتوں کی مدد سے افغانستان و افغان عوام کو تباہ برباد کر دیا اور اس کی تباہی ابھی جاری ہے اور آگے بھی کچھ عرصہ جاری رہے گی مگر ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں۔۔
کسی مارکسی استاد نے کہا تھا کہ لوگ واقعات سے سیکھتے ہیں تو افغان عوام بھی سیکھ رہے ہیں کہ ان کا دشمن ان کا قاتل وہ عالمی سرمایہ دار سامراجی ہے جو اپنے چند ٹکوں کے مفادات کے لیے خود اور اپنے گماشتوں کے ذریعے پچھلی چند دہائیوں میں کروڑوں لوگوں کو قتل کر چکا ہے۔۔
یاد رہے کہ انسان نے لاکھوں برس کی جدوجہد کے بعد اتنی ترقی و تہذیب حاصل کی ہے اور یہ انسانی جدوجہد ہی ہوگی جو آگے بھی انسان کو اندھیروں سے نکالے گی۔۔
افغانستان کا محنت کش طبقہ ہی افغانستان کو ان اندھیروں سے چھڑا کر ایک روشن صبح کی طرف لے کر جائے گا۔۔
لینن نے کہا تھا:
"There are decades where nothing happens, and there are weeks when decades happen"

Saturday, 14 August 2021

افغانستان -قمر نقیب خان

ہمارے دوستوں نے افغانستان میں طلباء کرام کی فتوحات پر بغلیں بجا بجا کر سرخ کر لی ہیں، انہیں افغانستان میں اسلامی خلافت کی نشاۃِ ثانیہ نظر آنے لگی ہے.
اور میں سوچ کر ہی پریشان ہو جاتا ہوں کہ خدانخواستہ خلافت قائم ہو گئی تو کیا بنے گا. فرض کریں پاکستان میں دیوبندی حقانی ٹالیبانی خلافت قائم ہو جاتی ہے. اگلے دن اہلِ تشیع کا نان نفقہ بند کر دیا جائے گا. گستاخ صحابہ قرار دے کر اکثریت قتل کر دی جائے گی. بریلویوں پر پابندی لگا دی جائے گی. تمام مزارات اور عرس ختم کر دئیے جائیں گے. بارہ ربیع الاول اور محرم الحرام کے جلوسوں پر مکمل پابندی ہو گی. آذان سے پہلے درود شریف اور آذان کے درمیان علی کا نام لینے پر سزا دی جائے گی. 
توبہ توبہ.. 

مذہب مسلک کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا اور کھیلتے کھیلتے پیسہ بنانا ہماری قومی عادت ہے اور جو پیسہ بنانے اس فیلڈ میں نہیں آتا اس کے اغراض و مقاصد مزید بھیانک ہوتے ہیں. ہمارے علمائے کرائم کو ہی دیکھ لیں.. 

مولانا صاحب نے ہر قسم کی غیر نصابی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دے رکھا ہے. ان کے نزدیک تمام کھیل کود، فنون لطیفہ وقت کا ضیاع ہیں اور لہو و لعب کے زمرے میں آتے ہیں. شعر و شاعری ہو یا نظم و نثر، کہانی ہو یا افسانہ نگاری، موسیقی ہو یا ناچ گانا، فلم ہو یا ڈرامہ سیریل، پینٹنگ ہو یا سکلپچر غرض یہ کہ وہ تمام علوم و فنون جو انسان کے نفسی و جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث بن سکتے ہیں سختی سے ممنوع ہیں۔ 

میں تو سوچ کر ہی بیزار ہو جاتا ہوں کہ مولوی صاحب کا نفاذ شریعت ہو جاتا تو دنیا کیسی ہوتی؟؟؟

کوئی کھیل نہ ہوتا، کیونکہ یہ تو وقت کا ضیاع ہے کرکٹ، فٹبال، ہاکی، والی بال، ٹینس، سنوکر وغیرہ کچھ نہ ہوتا صرف پہلوانی، گھڑ سواری اور تیر اندازی ہوتی.. کھیل کے میدان ختم کر دئیے جاتے ان کی جگہ خانقاہیں تعمیر کر دی جاتیں..

شعر و شاعری نہ ہوتی، میر و غالب نہ ہوتے، اقبال و حالی نہ ہوتے، قمر جلالوی ہوتے نہ ہی جون ایلیاء ہوتے، خوشحال خان خٹک نہ ہوتے، بُھلے شاہ نہ ہوتے، لطیف بھٹائی نہ ہوتا وارث شاہ نہ ہوتا.. 
نظم و نثر نہ ہوتی، طنز و مزاح نہ ہوتا ابن انشا نہ ہوتا پطرس بخاری نہ ہوتا،  مستنصر حسین تارڑ ہوتا نہ مشتاق احمد یوسفی ہوتا، کرشن چندر ہوتا نہ منشی پریم چند ہوتا، سعادت حسن منٹو ہوتا نہ بانو قدسیہ اور عصمت چغتائی ہوتیں... 
فلمیں نہ ہوتیں ہیرو ہیروئین نہ ہوتے، نہ دلیپ کمار ہوتا نہ مدھوبالا ہوتی، نہ امیتابھ بچن ہوتا نہ ہیمامالنی ہوتی، نہ محمد علی ہوتا نہ وحید مراد ہوتا.. 
 میوزک نہ ہوتا، گانے نہ ہوتے غزلیں نہ ہوتیں، تان سین نہ ہوتا، امیر خسرو نہ ہوتا، نصرت فتح علی خان نہ ہوتا، لتا ہوتی نہ مُکیش ہوتا، جگجیت سنگھ نہ ہوتا مہدی حسن نہ ہوتا..

ہمارے ہاں تو بچوں کو بچپن سے ہی سکھا دیا جاتا ہے کہ شعر و شاعری، افسانہ نگاری، ڈرائنگ وغیرہ وقت کا ضیاع ہے اس سے بہتر ہے کہ زکر اذکار میں وقت کارآمد بنانا جائے. جبکہ تصویر کشی، میوزک اور رقص تو سراسر حرام اور فحاشی ہے. اداکاروں کو بھانڈ میراثی اور کنجر کہا گیا یوں فن کو زلت کا استعارہ بنا دیا. مٹی اور پتھر سے کچھ بنانا تو ڈائریکٹلی بت پرستی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا سنگتراشی تو قابلِ گردن زدنی جرم ٹھہرا.. 

یوں تخلیق کا گلا گھونٹ دیا گیا اور آج پاکستان کے پاس فنون لطیفہ کے زمرے میں کوئی بڑا نام نہیں ہے. ساری قوم انڈین گانے، انڈین فلمیں اور انڈین ڈرامے دیکھ رہی ہے، بلکہ پاکستانی چینلز بھی انڈینز کو کاپی کر رہے ہیں. انڈین فلمیں اور گانے پاکستان سے کروڑوں روپے کا بزنس کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی اپنی انڈسٹری کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے.

شکر کہ دنیا پر مسلمانوں کا اسلام نافذ نہیں ہوا ورنہ تو ہم ایک سرد، خشک اور بورنگ دنیا میں سانس لے رہے ہوتے جہاں خوفناک صورت طالبان کی خلافت ہوتی، ہر طرف چیخ و پکار، گستاخ گستاخ، کافر کافر کے نعرے ہوتے اور زبانوں پر تالے ہوتے.
قمر نقیب خان

افغانستان -مبشر علی زیدی

موجودہ حالات میں یہ سوال اور اس کا جواب ثانوی درجہ رکھتا ہے کہ افغانستان میں امریکا جیتا یا ہارا۔
اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان میں جو ہورہا ہے اور ہونے والا ہے، اس کا بوجھ اور نتائج کون برداشت کرے گا؟
پیسہ چاہیے ورنہ جو افغان گولی اور بم دھماکے سے نہیں مریں گے، وہ بھوک سے مرجائیں گے۔ کیا چین پیسہ فراہم کرے گا؟
لاکھوں افغان پناہ کی تلاش میں نکلیں گے۔ کیا اقوام متحدہ پہلے کی طرح جوش و خروش سے افغان پناہ گزینوں کو امداد فراہم کرے گی؟
جہادیوں کے تربیتی مرکز دستیاب ہونے سے دہشت گردی برآمد یعنی ایکسپورٹ ہوگی۔ کیا ہمسایوں کی سرحدیں محفوظ ہیں؟
مسلمان ملکوں کے نوجوان شدت پسندوں کی کامیابی سے متاثر ہوں گے۔ کیا مسلمان حکومتیں غفلت کا مظاہرہ کریں گی؟
مغربی ملکوں سے جو انتہاپسند نوجوان اسلامی مملکت کا خواب دیکھ کر شام پہنچے تھے، کیا اب وہ افغانستان کا رخ کریں گے؟
کیا پاکستان ماضی کی طرح دہشت گردوں کی حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں؟ نہیں کرے گا تو کیا ان کی پاکستانی شاخ پریشان نہیں کرے گی؟ کرے گا تو ایف اے ٹی ایف میں کیا بنے گا؟ کیا عالمی برادری کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟
پڑوس میں مسلح جنونی حکومت کے ہونے سے پاکستان کے سیکورٹی اخراجات کتنے بڑھ سکتے ہیں؟ کیا معیشت مزید بوجھ اٹھاسکتی ہے؟
آخری سوال، خدا خدا کرکے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ اور دوسری سرگرمیوں کا آغاز ہوا تھا۔ کچھ سیاح آنا شروع ہوئے۔ پڑوس میں بارود کا ڈھیر جمع ہونے سے کیا ایک بار پھر پاکستان عالمی برادری کے لیے ممنوعہ علاقہ بن جائے گا؟

Friday, 21 May 2021

بت ہم کو کہیں کافر! تحریر: ڈاکٹر لال

 بُت ہم کو کہیں کافر!


 تحریر: ڈاکٹر لال خان 


معاشی بحران سے جنم لینے والی سماجی تنزلی کے اثرات زندگی کے ہر شعبے کے لئے اندوہناک ہوتے ہیں۔ آج کے عہد میں جہاں خلق بھوک اور محرومی سے برباد ہے وہاں صاحب ثروت طبقے کے دانش وروں کی نظریاتی، نفسیاتی اور روحانی تنزلی بھی عام انسانوں کے لئے وبال جان بن گئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر نفسیاتی ہیجان و پراگندگی پیدا کرنے والی بے معنی اور لاامتناہی بحثیں حکمران طبقے کی شعوری پستی کی علامت ہی تو ہیں۔ 

لبرل اور سیکولر انٹیلی جینشیاآزاد منڈی کی مردار معیشت اور جعلی جمہوریت کی منافقت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مذہبی دائیں بازو کا جعلی امریکہ دشمنی کاناٹک بھی بہت پرانا ہو گیا ہے۔ فرقہ وارانہ تعصبات، مذہبی منافرت اور رجعت کا زہر ہے جو کالے دھن کے زور پر یہ ملاں سماج کی رگوں میں اتار رہے ہیں۔ بظاہر ’متضاد‘ نظر آنے والے یہ دونوں رجحان ایک بات پر خوب متفق ہیں کہ سوشلزم اور ’کمیونزم‘ ختم ہو چکا ہے اور سرمائے کی حاکمیت چاہے ’سیکولر‘ ہو یا تھیوکریٹک، انسانیت کا حتمی مقدر ہے۔ ان کا ’نظریاتی اختلاف‘ اس نظام سے نہیں بلکہ اس کو چلانے کے طریقہ کار پر ہے۔ رائج الوقت ملکیت کے رشتوں کو ’اسلامی انقلاب‘ سے کوئی خطرہ ہے نہ ہی ’سیکولرازم‘ سے۔

مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے تھے

سیاسی گراوٹ، سماجی جمود اور مفاد پرستی کے اس عہد میں سٹالن ازم کی ناکامی کو سوشلزم کے ساتھ نتھی کرنے کی عادت حکمران طبقے کے دانشوروں میں عام ہے۔ کسی منطقی دلیل کا دور دور تک ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ نظریات مر چکے ہیں لہٰذا جو منہ میں آئے بول دو، کون پوچھنے والا ہے؟ لیکن اندر سے ایک خوف بھی انہیں بے چین رکھتا ہے۔ ان میں سے تھوڑی سمجھ بوجھ رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ طبقاتی سماج میں طبقاتی کشمکش کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ جب تک محنت کش طبقہ موجود ہے، محنت کشوں کی سیاست اور نظریات مٹ نہیں سکتے۔ جب بھی انہیں مارکسزم کے سائنسی دلائل لاجواب کرتے ہیں تو کمیونسٹوں کو ’کافر‘ قرار دے کر مناظرے سے فرار کی روایتی روش اختیار کی جاتی ہے۔ 

دیانت، ضمیر اور اخلاص رکھنے والے بہت سے مذہبی لوگ انقلابی مارکسزم کے پرچم تلے لڑتے رہے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں ایسے ہزاروں انقلابی ملتے ہیں۔ ولادیمیر لینن او ر لیون ٹراٹسکی کی قیادت میں برپا ہونے والے 1917ء کے بالشویک انقلاب سے متاثر ہو کرسیاسی یا مذہبی طور پر نمایاں لاتعداد مسلمانوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کی جن میں شوکت عثمانی، گوہر رحمان، رفیق احمد، سلطان محمد، میاں محمد اکبر شاہ، میر عبدالماجد، فیروزالدین منصور، فدا علی، زاہد حبیب احمد، فضل الٰہی قربان، عبداللہ صفدر، مولوی عبدالرب اور رحمت علی زکریا وغیرہ شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر 1920ء میں سوویت جمہوریہ کے داراحکومت ماسکو بھی گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کی بنیادیں تعمیر کرنے میں پنجاب سے لے کر بنگال تک، ایسے ہزاروں کارکنان سرگرم رہے جن کا تعلق مسلمان گھرانوں سے تھا۔ کلکتہ میں قاضی نذرالاسلام اور مظفر احمد اور لاہور میں غلام حسین، شمس الدین حسن اور ایم اے خان کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ کارکنان تھے۔ شمس الدین حسن نارتھ ویسٹرن ریلوے یونین کے پریس سیکرٹری اور ایم اے خان جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔


روزنامہ انقلاب


برصغیر کا پہلا کمیونسٹ اخبار ’انقلاب‘ لاہور سے اگست 1922ء میں نکالا گیا جس کے ایڈیٹر غلام حسین تھے۔ اس کے پہلے ادارئیے میں لکھا گیا کہ ’’سیاسی آزادی معاشی اور سماجی آزادی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی و سماجی آزادی نہیں مل سکتی۔ دوسرے کے حقوق پامال کئے بغیر سرمایہ دارہونا ممکن نہیں ہے۔ انسان کی آزادی کے لئے اس نظام کا خاتمہ ضروری ہے جو حکمران طبقے کا عوام پر جبر ڈھانے کا آلہ کار ہے۔ ‘‘

1923ء میں لکھنو میں منعقد ہونے والی کمیونسٹ کانفرس میں مظفر احمد، عبداللہ (کلکتہ)، الف دین نفیس (کیمبل پور، موجودہ اٹک) امیر الحسن (بمبئی)، شاہ حسینی (لاڑکانہ)، ایم اے خان (لاہور)، محمد ابراہیم (مدراس)، ایچ اے ملک (لکھنو) اور محمد علی (پشاور) مندوبین کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ لکھنو میں ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی پہلی تاسیسی کانفرنس میں مولانا حسرت موہانی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ آخری وقت تک کمیونزم کے نظریات پر سیاسی جدوجہد کرتے رہے۔ 

ایک انتہائی دلچسپ داستان مولانا عبیداللہ سندھی کی ہے۔ وہ 1872ء میں چلنوالی ضلع سیالکوٹ کے سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے، والد ان کی پیدائش سے چار ماہ قبل ہی فوت ہو چکے تھے۔ ماموں نے انہیں ضلع ڈیرہ غازی خان کے اردو مڈل سکول میں ابتدائی تعلیم دلوائی۔ 1887ء میں انہوں نے بنیادی مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر لیا اور سندھ جا کر حافظ محمد صدیق کے شاگرد ہو گئے۔ اس سے اگلے سال دارلعلوم دیوبند چلے گئے اور1889ء سے 1909ء تک پہلے بطور طالب علم اور بعد ازاں استاد اس ادارے سے وابستہ رہے۔ برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کے دوران انہیں 1915ء میں کابل ہجرت کرنی پڑی جہاں انہوں نے ہندوستان کی عبوری آزاد حکومت قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اہندرا پرتاب اس حکومت کے صدر جبکہ عبیداللہ سندھی وزیر برائے امور ہندوستان تھے۔ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انہیں ریشمی رومال تحریک کی سازش میں بھی ملوث قرار دیا گیا۔ اس جلاوطن ہندوستانی حکومت نے مدد کے لئے 1917ء کے بعد نومولود بالشویک حکومت سے رابطے استوار کئے۔ اہندرا پرتاب 1918ء میں پیٹروگراڈ میں لیون ٹراٹسکی سے بھی ملے۔ کیپٹن ظفر ایبک اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ طویل مسافت طے کرنے کے بعد عبیداللہ سندھی 1922ء میں ماسکو پہنچے۔ ظفر ایبک نے اپنی یادداشتوں میں ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ عبیداللہ سندھی جب ہزاروں میل کا سفر کر کے ماسکو پہنچے تو ان کے پاؤں زخمی ہو کر سوجھ چکے تھے۔ ولادیمیر لینن کی بیوی کرپسکایا نے نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر عبیداللہ سندھی کے پاؤں دھوئے اور مرہم پٹی کی۔ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی رقبے پر قائم اس مزدور ریاست کے سربراہ کی اہلیہ کے اس انقلابی جذبے اور عاجزی نے جو اثرات مولانا عبیداللہ سندھی کے دل و دماغ پر مرتب کئے ہونگے انہیں شاید الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا-

سوویت یونین میں عبیداللہ سندھی نے بالشویک مزدور ریاست کے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کا مطالعہ بہت قریب سے کیا۔ اس کے بعد وہ استنبول کے سفر پر روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے سوویت جمہوریہ کی طرز پر ہندوستان جمہوریہ کا مجوزہ آئین مرتب کیا۔ جمہوریہ ہندوستان میں سرمایہ داری کا مکمل خاتمہ، ذرائع پیداوار اور ریاستی انتظام پر محنت کشوں کا جمہوری کنٹرول اور بنیادی سہولیات کی ہر فرد تک فراہمی اس دستور کے کلیدی نکات تھے جس کو حتمی شکل انہوں نے ستمبر 1924ء میں دی۔ یہ اس دور کے واقعات ہیں جب سٹالن کی قیادت میں افسر شاہی نے بالشویک انقلاب کی روایات کو برباد نہیں کیا تھا۔ 

بالشویک انقلاب ایسا غیر معمولی واقعہ تھا جس نے دنیا کو ہلا کر تاریخ کا دھارا ہی موڑ ڈالا تھا۔ اس عہد میں اقبال نے مارکسزم اور بالشویک انقلاب کی پذیرائی میں ’’کارل مارکس کی آواز‘‘ جیسی کئی نظمیں تحریر کیں۔ کارل مارکس کے نظریات، جدوجہد اور اس کی شہرہ آفاق کتاب ’’سرمایہ‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مشہور مصرعہ بھی لکھا:

وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیت

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

برصغیر کے ایک اور مشہور مگر دلچسپ کمیونسٹ داد امیر حیدر خان بھی تھے۔ وہ 1900ء میں کلیاں سیداں ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی یتیم ہو گئے اور سوتیلے باپ نے سکول بھیجنے کی بجائے مدرسے میں ڈال دیا۔ مولوی کی مار پیٹ سے انہوں نے راہ فرار اختیار کی اور بمبئی پہنچ کر گودی میں مزدوری کرنے لگے۔ ایک بحری کمپنی میں شامل ہو کر ملاح کے طور پر سمندری سفر کیا اور امریکہ کے شہر بفلو میں ریلوے انجن مکینک کے طور پر کام کرنے لگے۔ انہوں نے فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ ہوابازی اور میرین انجینئرنگ میں بھی مہارت حاصل کی۔ وہ پائلٹ تھے، بحری جہازوں اور ریلوے کے انجینئر بھی تھے اور انتھک انقلابی بھی۔ امریکہ میں ہی ان کی ملاقات مشہور مصنف اور صحافی ایگنس سملڈی سے ہوئی جو عمر بھر کی یاد بن گئی۔ واپس آئے تو میرٹ سازش کیس میں ان کے وارنٹ نکل گئے۔ انڈر گراؤنڈ کام کرتے ہوئے مدراس میں کمیونسٹ پارٹی کا نوجوان ونگ بنایا۔ فیکٹریوں میں سٹڈی سرکل چلایا کرتے تھے۔ سامراجی جبر شدید تر ہوجانے کے بعد وہ ماسکو چلے گئے۔ 1932ء میں واپس آئے تو گرفتار ہو گئے۔ دادا امیر حیدر ان جرات مند کمیونسٹوں میں سے تھے جنہوں نے سٹالن اسٹ سوویت یونین کی برطانوی سامراج سے مصالحت کے تحت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی سامراج مخالف تحریک سے دستبرداری کی پالیسی کو مسترد کر دیا تھا۔ عمر بھر ریاستی جبر، قیدو بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں کاٹنے کے باوجود مرتے دم تک ایک بالشویک رہے-

1941ء میں سامراج سے سٹالن کے سمجھوتے کو دنیا بھر کی طرح ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی پر بھی تھونپ دیا گیا جس سے پورے خطے میں چلنے والی قومی آزادی کی تحریک اور طبقاتی جدوجہد کو شدید دھچکا لگا۔ دادا امیر حیدر کے علاوہ جن دوسرے کمیونسٹوں نے اس موقع پرستانہ پالیسی کی مخالفت کی ان میں اسرار الحق مجاز، منیر نظامی اور جوش ملیح آبادی سرفہرست تھے۔ اسی نظریاتی جرم نے 1946ء میں جہازیوں کی بغاوت سے شروع ہونے والے انقلاب کو قیادت سے محروم کر کے برباد کر دیا اور برصغیر کے خونی بٹوارے کی راہ ہموار ہوئی۔ جوش ملیح آبادی کو کئی اعلیٰ عہدوں کی پیشکش برطانوی راج نے کی لیکن انہوں نے دولت اور شان و شوکت کو ہمیشہ ٹھوکر ماری اور کمیونسٹ نظریات وفا کی۔ آزادی کی سرفروشوں نے انہیں ’شاعر انقلاب‘ کا لقب دیا۔ 

ان انقلابیوں پر بھی کفر کے فتوے لگتے تھے۔ آج بھی انقلابی مارکسزم کے نظریات پر سرمایہ دارانہ جبر و استحصال کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو کافر اور دیوانہ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کٹھن راہ پر چلنے والے صرف اس سائنسی یقین کے ساتھ نسل در نسل اپنی زندگیوں کو وقف کرتے آئے ہیں کہ رنگ، نسل، مذہب اور فرقے کی تفریق وحشت کے اس نظام کو بدلنے کی جدوجہد میں دراڑیں ڈالتی ہے۔ حکمران طبقہ ان تعصبات کو ابھارتا اور استعمال کرتا ہے۔ تمام تر دولت اپنی محنت سے پیدا کر کے بھی محروم رہنے والوں کے مسائل ایک ہیں تو ان کی جدوجہد بھی ایک ہے۔ کمیونسٹوں کی لڑائی کسی مذہب سے نہیں بلکہ مذہب کا بیوپار کرنے والوں سے ہے۔ مٹھی بھر حکمران طبقے کے ہاتھوں اکثریتی محنت کش عوام پر جبر کے اس نظام کے خلاف جدوجہد کو ’کفر‘ قرار دینے والے آخری تجزئیے میں شعوری یا لاشعوری طور پر حکمران طبقے کے آلہ کار ہیں۔ اصل کافر یہ الزام لگانے والے ہیں یا کہ وہ جن پر لگایا جاتا ہے؟

Urdu Poetry