Monday, 24 June 2019

اسٹینڈنگ کمیٹیاں

اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کی کل 33 اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، 2 سپیشل کمیٹیاں ہیں، 7پارلیمانی کمیٹیاں ہیں، 5 نان منسٹریل سٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان کی 34 اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، 4 فنکشنل کمیٹیاں ہیں، 4 دیگر کمیٹیاں ہیں، 6سپیشل کمیٹیاں ہیں، 4ڈومیسٹک کمیٹیاں ہیں، 36 سیکریٹری کمیٹیاں ہیں۔ گویا کل ملا کر 131 کیمیٹیاں ہیں۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر کمیٹیوں کے ممبران اور ان کے چیرپرسنز کے اخراجات کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ تاہم سینیٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ایک کمیٹی کے چیئرمین کو درجہ ذیل مراعات ملتی ہیں۔
Salary Rs. 27,377
Sumptuary Allowance Rs. 5,000
Office Maint. Allowance Rs. 8,000
Telephone Allowance Rs. 10,000
Honorarium Rs. 12,700
Adhoc Relief (2010) Rs. 11,903
15% Adhoc Relief (2011) Rs. 3,571
20 % Adhoc Relief (2012) Rs. 5,475
10% Adhoc Relief (2013) Rs. 2,738
10% Adhoc Relief (2014) Rs. 2,738
Total: Rs. 89,502

اس کے علاوہ ماہانہ 360 لیٹر پٹرول، گریڈ 17 کا ایک پرائیویٹ سیکریٹری، گریڈ 15 کا ایک اسٹینو گرافر، ایک ڈرائیور اور ایک نائب قاصد۔ سالانہ تین لاکھ کے سفری واوچرز، سلانہ بیس بزنس کلاس ریٹرن ائیر ٹکٹس، سینیٹ کے سیشن اور کمیٹی کی میٹنگ پر 1750 روپے ڈیلی الاوئنس، 3000 روپے ڈیلی الاونس سپیشل، 2000روپے کنوینس الاونس، 2000 ہاوسنگ الاونس۔ مفت ٹیلی فون، مفت میڈیکل کی سہولت بمعہ بیگم یا شوہر، اور 1300 کی ایک گاڑی۔ سال میں 130 دن کے سیشنز لازمی ہیں۔ گویا اس طرح کل ملا کر ایک چیرمین کمیٹی پر سالانہ تقریباََ 3800000 خرچ ہوتے ہیں۔ بطور ممبر ایک سینیٹر کی تنخواہ 76802 ( سالانہ921624)، تین لاکھ کے سفری واوچرز، اور 130 دنوں کا 137500 کا الاونس بھی شامل کر لیجیے۔اس میں مہیا کیا گیا سٹاف کی تنخواہ شامل نہیں، میڈیکل بلز کا کوئی تخمینہ نہیں شامل نہیں ہے اور نہ ہی دفتر کی تزئین و آرائش، فرنیچر، اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ یوں کل ملا کر ایک سٹینڈنگ کمیٹی کا چئیرمین تقریباََ سالانہ 5000000 سے 6000000 میں عوام کو پڑتا ہے۔ دیگر کمیٹیوں کے اخراجات کی تفصیل موجود نہیں تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹییوں کے چئیرمینوں کی مراعات بھی اتنی ہی ہوں گی۔ گویا کمیٹی ممبران کی مراعات سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر صرف 67اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چئیرمینوں کی مراعات کا سالانہ تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم 335000000 سے 402000000 سالانہ بنتی ہے۔ یوں قومی اسمبلی کے 342 ممبران اور سینیٹ کے 104 ممبران کی مراعات کا تخمینہ بھی لگا لیجیے۔ اب اس میں اگر اس میں سدگر قائمہ کمیٹیاں ان کے اخراجات، 50 وزیروں اور مشیروں کے اخراجات شامل کر لیں، ان کے مراعات اور وزیراعظم ہاوس کے اخراجات، پروٹوکول، سیکیورٹی روٹس، خصوصی طیارہ، بیرونی دوروں کے اخراجات بھی شامل کر کے اندازہ لگائیں کہ کتنا مزید ٹیکس عوام پر لگنا چاہیے۔
اب ایسا نہیں ہے کہ مراعات صرف موجودہ حکومت کی دین ہیں۔ یہ نظام ایسا ہی چلتا رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی بالکل ایسا ہی چل رہا ہے۔ یہ اخراجات سالانہ اربوں میں ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس صورتحال میں جب ملک کے ہینڈسم کا ہیلی کاپٹر 55 روپے کلومیٹر میں چلتا ہے، دس بھینسیں نیلام کی جاتی ہیں، صدر کی رہائش کی آرائش و زیبائش کے لئے کروڑوں روپے کے ٹینڈر دئیے جاتے ہیں تو ” عمران خان دے جلسے وچ نچنے دا دل کرن والے“ ننھے انقلابی تبدیلی کا راگ الاپتے ہیں یا ملک کی دیگر جماعتوں کے سربراہان کو گالیاں دیتے تو تکلیف ہوتی ہے۔ دس ماہ میں قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ خان صاحب وہی معاشی اور سیاسی ٹیم لے کر آئے جس پر چوری کے علی اعلان الزامات لگایا کرتے تھے۔ ایسے میں دس ماہ سے انتقامی سیاست کر کے عوام کو جس چوری اور احتساب نامی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے، اس میں سے اگر زرداری اور نوازشریف پر اتنا بھی پیسہ ثابت ہو جائے جتنا پارلیمانی مراعات و الاونسس پر خرچ ہوتا ہے تو تاریخ یاد رکھے گی۔ مگر یہ ہو کر نہیں دے گا۔ آپ لکھ لیجیے کہ زرداری اور نوازشریف نہ صرف پہلے جیسے چھوٹ کر آئیں بلکہ صاف شفاف ہو کر اسی پارلیمان کی زینت بنیں گے۔ اس لئے ازراہ کرم اس تبدیلی نامی ناسور کو بلاک ماریئے اور سکون کرئیے۔ تبدیلی کی پہلی اور آخری واری ہے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ ایک میاں اظہر بھی ہوا کرتا تھا؟ برساتی مینڈکوں کی عمریں اتنی ہی ہوتی ہیں۔

دیسی لبرل، لنڈے کے لبرل اور ملحد لبرل

حاشر ابن ارشاد

دیسی لبرل، لنڈے کے لبرل اور ملحد لبرل جیسی اصطلاحات تو ہمارے پسندیدہ بیانیے کے نقیبوں کی نوک زبان پر یوں بھی دھری ہیں۔ گرد اتنی اڑائی گئی ہے کہ اب کسی کو یاد بھی نہیں کہ لبرل ہے کون۔ لبرل فلسفہ اور بیانیہ اصل میں کیا ہے، اس پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی تعریف ایجاد کر لی ہے اور ہر نئی تعریف پچھلی سے زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ اور کچھ نہیں سوجھتا تو لکیر کے دونوں جانب پیر رکھے دانشور ایک ہی سانس میں مذہبی شدت پسند کو ایک خود ساختہ لبرل شدت پسند کے ساتھ کھڑا کر کے چاند ماری کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مقصود محض یہی ہے کہ لوگ اعتدال پسندی کا شاہکار صرف انہی کو سمجھیں جو ایک سانس میں شدت پسندی کو لبرلز اور ملا پر چسپاں کر سکیں۔ کوئی یہ پوچھے کہ شدت پسندی کس چڑیا کا نام ہے تو جواب عنقا ہے۔

ملا کی شدت پسندی کے مظاہر ہم دیکھ چکے ہیں۔ ستر ہزار لاشوں کا تحفہ لبرلزم نے عنایت نہیں کیا ہے۔ سرکاری اور نجی املاک کو نذر آتش کرنے والے کون سے لبرل ہیں۔ لڑکیوں کے سکول بم سے اڑانے والے بھی اپنے آپ کو لبرل نہیں کہتے۔ بینظیر کی موت ہو، ملالہ پر حملہ ہو یا اے پی ایس میں لہو ہوئے بچے ہوں، کوئی بندوق کسی لبرل کے ہاتھ میں نہیں پائی گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے پورے پاکستان کو بند کرنے والے بھی لبرل نہیں تھے۔ تو ان شدت پسندوں کے مقابل، جن کے پاس ڈنڈا بھی ہے، تلوار بھی، بندوق بھی اور بم بھی، جو جب چاہیں قتل کا فتویٰ دے سکتے ہیں، ہر شاہراہ بند کر سکتے ہیں، سر عام کسی کو سنگسار کر سکتے ہیں، آگ میں جلا سکتے ہیں، گولیوں سے بھون سکتے ہیں، ان کے مقابل آپ جانتے ہیں لبرل شدت پسند کیا کر سکتا ہے۔

وہ بیچارہ ڈرتے ڈرتے ایک کالم لکھ سکتا ہے جسے کوئی چھاپتا نہیں ہے۔ وہ ایک تقریر کر سکتا ہے جس کے بعد نامعلوم افراد اسے گھر سے اٹھا سکتے ہیں۔ وہ بہت ہمت کرے تو پندرہ بیس لوگ اکٹھے کر کے پریس کلب کے باہر ایک مظاہرہ کر سکتا ہے جس کو کوئی میڈیا کا نمائندہ کور نہیں کر سکتا۔ وہ انتخابات میں اپنا بیانیہ سنانے کی پاداش میں اپنے پر کفر کے فتوے لگوا سکتا ہے۔ وہ سچ کی تفہیم کے جرم میں اورتوہین کے الزام میں اپنی جوانی جیل میں کاٹ سکتا ہے۔

وہ صرف اپنا فرض نبھانے کی کوشش میں اپنے سینے میں بتیس گولیاں کھا سکتا ہے۔ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس نفرت میں جھلستا ہوا ہجوم نہیں ہے۔ بم اور بندوق تو دور، اس کے پاس تو ایک چھوٹا چاقو بھی نہیں۔ ہے۔ اس کے پاس فتوے نہیں ہیں۔ اس کے پاس منبر نہیں ہے۔ اس کے سر پر دستار نہیں ہے۔ اس کی زبان پر مہر لگی ہے، اس کے الفاظ پر صاحب اختیار روز سیاہی پھیرتے ہیں۔ لیکن صاحب پھر بھی وہ شدت پسند کہلاتا ہے۔ عوام کی آنکھ میں اسے فاشسٹ بنا دیا گیا ہے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ قلم کو تلوار سے بڑا ہتھیار کیوں کہتے ہیں۔ دانشوران ملت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ شدت پسند کی تلوار سے زیادہ تباہی لبرل کے قلم میں ہے۔

لبرل

ہمارے یہاں دائیں بازو، مذہب پرست، عسکریت پسند اور آمرانہ سوچ کے حامل ذہن نے اپنے لیے ایک خود ساختہ ولن بنایا۔ اس کی صفات کا فیصلہ کیا پھر اس ولن کا نام لبرل رکھ دیا۔ اس کے بعد اس ذہن نے جہاں بھی اپنے سے متصادم سوچ دیکھی اسے لبرلزم کے کھاتے میں ڈال دیا۔ ان میں سے کسی نے جان لاک، جان سٹیورٹ مل یا رچرڈ پرائس کا نام نہیں سنا۔ کسی کو قدیم یونان میں جنم لینے والی لبرل روایات کا علم نہیں ہے۔ کوئی یہ نہیں جانتا کہ آج جس پارلیمانی نظام کے باعث عام آدمی کو آواز ملی ہے وہ اسی لبرلزم کی دین ہے۔
عجب معاملہ ہے کہ لوگ باگ پرویز مشرف کو لبرل کہتے ہیں۔ بھلا کوئی آمر لبرل کیسے ہو سکتا ہے۔ لبرلزم تو آمریت کے خلاف سب سے مضبوط استعارہ ہے۔ ایک دوست لبرل پارٹی کی مثال دیتے ہیں تو سب سے پہلے ایم کیو ایم کا نام لیتے ہیں۔ کون ان کو بتائے کہ فاشزم اور لبرلزم کے ہجے مختلف ہوتے ہیں۔ فرق سمجھیے۔ عبدالستار ایدھی، راشد رحمان اور ملالہ یوسفزئی لبرل ہیں پر پرویز مشرف، الطاف حسین اور یحیی خان لبرل نہیں ہیں۔
ذرا زحمت کیجیے، لبرلزم کے بارے میں دو چار صفحات پڑھ لیجیے۔ کچھ لبرل اقدار پر نظر ڈال لیجیے۔ کلاسیکل اور جدید لبرلزم کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ آمریت اور جمہوریت کی کشمکش کو اس کے درست تناظر میں دیکھیے۔ مذہبی استحصال اور مذہبی اخلاقیات کو الگ کرنا سیکھ لیجیے۔ پھر آئیے۔ لبرلزم پر بات کرتے ہیں۔ پھبتیاں کسنا، بے ہودہ مفروضے بنانا اور بے بنیاد طنز و تشنیع کا دفتر کھولنا محض اس امر کا اظہار ہے کہ آپ کے پاس علمی اور تحقیقی سطح پر کہنے کو کچھ نہیں ہے اور آپ صرف کچھ ایسے خطیبوں کے مقلد ہیں جن کے منہ میں زبان تو ہے پر کاسہ سر میں دماغ نہیں ہے

محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کی بابت چند نئے پہلو بتائیں

آئیں آپ کو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کی بابت چند نئے پہلو بتائیں ۔
محمد بن قاسم کا حملہ ایک تاریخی جائزہ
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس سلسلے میں چچ نامہ کی بھی مدد لی جاتی مگر چچ نامہ میرے پاس موجود نہیں اِس لئے زیادہ تر اس لئے اس سلسلے میں زیادہ تر تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کے ان حصوں پر انحصار کیا ہے جو خلافت بنو امیہ کے بارے میں ہیں تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کا اردو ترجمہ نفیس اکیڈمی نے چھاپا ہے
محمد بن قاسم کے سندھ حملہ کے لئے سب سے بڑا کردار حجاج بن یوسف ہے پہلے اس کے بارے میں تھوڑا سا تعارف کروا لیتے ہیں
اس سلسلے میں جناب طالب ہاشمی کی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے کتاب سے مدد لی گئی ہے
حجاج بن یوسف وہ جرنیل تھا جس نے اموی خلیفہ کے لئے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا جہاں ایک صحابی رسول جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی۔ حجاج بن یوسف نے اس حملے میں خانہ کعبہ پر منجیق کا استعمال کیا جس سے خانہ کعبہ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے اور حواری رسول حضرت زبیر کے فرزند تھے یہ پہلے بچے تھے جو ہجرت مدینہ کے بعد کسی مہاجر مسلمان کے گھر پیدا ہوئے مدینے میں یہ افواہ مشہور تھی کہ یہودیوں نے مہاجرین مسلمانوں پر جادو کر رکھا ہے اس لئے ان کے گھر اولاد نہیں ہوگی جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش ہوئی تو حضور پاک صٖلی علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ مل کر خوشی سے نعرہ بلند کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو اس زمانے میں خود چھوٹے بچے تھے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر موجود تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پرورش ان کی خالہ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کی تھی کیونکہ ان کی اپنی اولاد نہیں تھی اس لئے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے اپنی کنیت ام عبداللہ کیا کرتی تھی
یہی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے جن کو مکے میں خانہ کعبہ کے اندر 687 عیسوی میں حجاج بن یوسف کی فوج نے شہید کیا اور ان کی شہادت پر خوشی سے نعرہ بلند کیا حجاج بن یوسف اور اس کے فوجیوں نے بہت خوشی منائی۔اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور اکرم صٖلی علیہ و سلم اور ان کے صحابہ کی خوشی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ کائنات کی افضل ترین ہستیاں تھیں جنہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش پر خوشی منائی تھی۔حجاج بن یوسف کے حکم پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حدود حرم میں ہی سولی دی گئی تین دن بعد ان کی ضعیف والدہ حضرت اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مِنت سماجت پر ان کو سولی سے اتارا گیا اس موقع پر حجاج بن یوسف نے ضعیفہ کی سخت تضحیک کی۔ یہ حجاج بن یوسف کا ایک ابتدائی تعارف ہے جو طبری اور ابن خلدون کے علاوہ بھی تمام کتب میں موجود ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تبصرے سے بھی حجاج بن یوسف کے دل میں گرہ لگ گئی اور وہ ان کی عیادت کو گیا تو اس کے ایک سپاہی نے نیزے کی زہر آٖلود انی ان کے پاؤں میں چھبو دی جو ان کی شہادت کا باعث بنی۔
حجاج بن یوسف اس کے بعد خلافت بنو امیہ کی طرف سے کوفہ اور بصرہ کا گورنر بنا۔
اب اس پورے قصے کا دوسرا اہم کردار جناب امام حسن مثنی کا کردار ہے جس پر ہماری تاریخ میں بہت کم ذکر کیا گیا ہے۔ حسن مثنی حضرت علی کرم اللہ وجہ کے پوتے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ وہ معرکہ کربلا میں شریک تھے اور ان کے ننھیال والے کوفے کے رہنے والے تھے جب ان کے ماموں کو معلوم ہوا کہ کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے خاندان والوں کو گھیر لیا گیا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کربلا پہنچے تب کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھی شہید ہو چکے تھے جناب حسن مثنی کے ماموں نے شہدائے کربلا میں جب حسن بن مثنی کو تلاش کیا تو وہ زخمی حالت میں میدان کربلا میں پڑے تھے جن کو یزیدی فوج نے غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے جناب حسن مثنی کا علاج کروایا اور وُہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے جہاں آپ کی شادی حضرت امام حسین کی بیٹی فاطمہ صغرٰی اللہ اُن سے راضی ہو سے ہوئی جو بیمار ہونے کی وجہ سے کربلا نہیں جا سکی تھیں اور مدینہ میں ہی مقیم رہی تھیں۔ اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خارج نہیں ہوگی کہ جناب حسن مثنی کراچی میں مدفون عبداللہ غازی کے پڑدادا تھے اس کے علاوہ یہ گیلانی سادات سمیت سادات اہل سنت کے بہت سے خاندانوں کے جد امجد تھے۔ یہ بات تاریخ طبری یا ابن خلدون میں موجود نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے اور ان میں تجارتی تعلقات قائم تھے۔ جو بعد میں امام حسن رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بہت وسیع ہوگئے تھے اور ان کے بعد جناب حسن مثنی کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے۔ جس سے ان کے سندھ میں کافی تعلقات موجود تھے۔
اس قصے کے تیسرے کردار عبدالرحمن بن اشعت ہیں
حجاج کے ظالمانہ رویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت اموی سالار عبدالرحمن بن اشعت نے کی۔
وہ ترکستان کے محاذ پر زنبیل کے خلاف بر سر پیکار تھا۔ اس نے مفتوحہ علاقہ کا انتظام درست کرنے کے لیے تھوڑے عرصے کے لئے جنگ و جدل ملتوی کیا جس پر اس کے اور حجاج کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے حجاج بن یوسف جلد سے جلد کابل کی فتح کرنا چاہتا تھا اس لئے حجاج نے اسے ایک نہایت سخت خط لکھا عبدالرحمن بن اشعت اور حجاج بن یوسف میں تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ 701 عیسوی میں عبدالرحمن بن اشعت نے بغاوت کا اعلان کر دیا، اس نے خلافت راشدہ کی بحالی کا نعرہ لگایا اور مدینے میں پہلے جناب زین العابدین سے رابطہ کیا اور ان کے انکار پر جناب حسن مثنی سے رابطہ کیا ، جنہوں نے آمادگی ظاہر کی اور عبدالرحمن اشعت نے ان کے نام پر بیعت شروع کردی اس نے زنبیل سے صلح کر لی اور عراق واپس لوٹ کر بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے شامی فوجوں کی مدد سے ان کا مقابلہ کیا تو شکست کھائی اور صورت حال اموی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔ حجاج نے مہلب بن ابی صفرہ کی مدد سے پھر مقابلہ کیا اور ابن اشعث نے عارضی پسائی اختیار کی اور لوٹ کر کوفہ پر قبضہ کر لیا۔ اب حسن بن مثںی کا نام سن کر اہل بیت کے ماننے والے جمع ہوگئے تھے صورت حال اموی حکومت کے لئے اتنی مشکل ہوگئی تھی کہ خلیفہ وقت عبد الملک خود میدان میں نکل آیا حجاج، مہلب بن ابی صفرہ اور عبد الملک کی متحدہ فوجوں نے کوفی لشکر کو شکست دی اور ابن اشعث کو زنبیل کے پاس پناہ لینی پڑی۔ حجاج نے زنبیل کو لکھا کہ اگر تم ابن اشعث کا سر کاٹ کر بھیج دو تو دس سال کا خراج معاف کر دیا جائے گا۔ زنبیل نے حجاج کی اس پیش کش کو مان لیا اور ابن اشعث کو قتل کر ڈالا ۔701 عیسوی سے 704 عیسوی تک جنگوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
‎فتح کے بعد حسن مثنی کو سولی دی گئی اور ان کے لاتعداد پیرکاروں کو موت کے گھات اتار دیا گیا۔ اس وجہ سے حسن مثنی کے بعض ساتھیوں نے سندھ جا کر راجہ داہر کے پاس پناہ لی
‎حجاج بن یوسف نے ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو واپس کیا جائے ۔راجہ داہر نے اِن افراد کو جِن میں ہاشمی اور سادات بھی شامل تھے،حجاج بن یوسف کے حوالے کرنے سے انکار کردیا کہ یہ سندھ کی روایات کے خلاف تھا
اس قصے کا ایک اور کردار محمد غلافی اور اس کے ساتھی تھے مکران پر 644 عیسوی میں عربوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔
مکران میں ایک علافی قبیلہ تھا حجاج کے مقرر کردہ گورنر سعید نے علافی قبیلے کے ایک فرد سفہوی بن لام الحمامی کو قتل کر دیا، جواب میں علافی قبیلے والوں نے سعید کو قتل کر دیا،اس کے جواب میں حجاج نے علافیوں کے کئی لوگوں کو قتل کروایا۔ اس کے علاوہ حجاج نے اپنے نئے گورنر کو کہا " علافیوں کو تلاش کرنا اور ہر علافی کو قتل کرکے سعید کا انتقام لینا "۔ اسی وجہ علافی قبیلہ کے سردار محمد بن علافی نے اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کر راجا داہر کے ہاں پناہ لینے آ گئے۔ تو راجا داہر نے اسے اپنے ہاں پناہ دی اور اپنی فوج میں اسے عہدہ بھی دیا۔
‎سندھ قدیم زمانے میں ساسانی حکومت کا حصہ رہا تھا ، کیونکہ عربوں نے ساسانی سلطنت پر قبضہ کرلیا تھا اس لئے وہ سندھ کو اپنی سلطنت کا ایک حصہ سمجھتے تھے جس پر قبضہ کرنا باقی تھا
‎یہ وہ زمانہ تھا جب عرب تاجر اردگرد کے ملکوں میں تجارت کر رہے تھے جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ سندھ کے لوگوں سے عربوں کے ساتھ بڑے مضبوط تجارتی تعلقات تھے مگر حجاج بن یوسف کے دور میں کشیدگی آگئی تھی۔ مگر دوسرے ممالک خصوصا سری لنکا وغیرہ کے ساتھ عرب تاجروں کا بہت تجارتی تعلق تھا۔ اس زمانے میں میدھ قوم کے لوگ سمندر میں راہزنی کرتے تھے ان ڈاکوؤں نے ایک عرب تجارتی جہاز کو لوٹ لیا اس پر حجاج بن یوسف نے ایک اور مطالبہ کر دیا کہ ان سمندری راہزنوں کے خلاف کاروائی کی جائے راجہ داہر نے کہا کہ ڈاکوؤں کو پر میرا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہم ان کی تلاش کر سکتے ہیں۔
حجاج بن یوسف نے 710 ء میں عبید اللہ کی قیادت میں ایک فوج بھیجی لیکن اسے شکست ہوئی۔ اگلے سال دوسری مہم بدیل کی سرکردگی میں بھیجی گئی لیکن اسے بھی راجا داہر کے بیٹے نے شکست دی۔ ان دونوں مہمات کی ناکامی کے بعد عرب حکومت کے وقار کو بحال کرنے کے لیے سندھ کی فتح ناگزیر ہو گئی تھی۔ اس لیے حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے اس کی اجازت حاصل کی۔
‎ان تمام حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ پر محمد بن قاسم کا حملہ کوئی کفر اور اسلام کی لڑائی نہیں تھی بلکہ یہ بنو امیہ کی سلطنت کے مفادات تھے جن کے لئے سندھ پر حملہ کیا گیا۔ راجہ دائر کی فوج میں بہت سے مسلمان موجود تھے محمد غلافی فوج کے ایک حصے کا کمانڈر تھا اور یہی وہ شخص تھا جس نے عربوں کے آتشی تیروں کا توڑ نکالا تھا۔ محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ اسلام کی تبلیغ کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ عرب ملوکیت کے مفادات کے تحفظ کے لئے تھا اور اس کا ایک مقصد عرب کے تجارتی راستے کو محفوظ بنانا تھا اور دوسری طرف بنو امیہ کے ان مخالفوں کو گرفتار کرنا تھا جو سندھ میں پناہ لے چکے تھے۔
‎اس کے بعد جب سلیمان کا دور آیا تو اس نے پوری دنیا میں حجاج کے بھیجے لشکروں کے مظالم کی تحقیق کی اور اسی لئے اس نے سندھ سے محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بلایا اس کے مظالم کی وجہ سے اس پر خلیفہ کے مقرر کردہ قاضی نے مقدمہ چلایا اور اسے سخت سزا دی۔ یہ ساری باتیں ہم تاریخ سے حذف کر دیتے ہیں سلیمان کو ایک طرف ہم اس بات پر داد دیتے ہیں کہ اس نے اپنے جانشین کے طور پر عمر بن عبدالعزیز کو نامزد کیا تو دوسری طرف ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے عرب ملوکیت کی فتوحات کو بریک کیوں لگادی اور فاتحین کے مبینہ مظالم، کرپشن اور بے اعتدالیوں کو معاف اور نظر انداز کرنے کی بجائے مقدمے کیوں چلانے شروع کئے۔
بشُکریہ داؤد ظفر ندیم بھائی

Sunday, 15 May 2016

Christianity in Mongolia A look at how a foreign faith is adapting to Mongolian culture. By Martin de Bourmont May 10, 2016

Tsogoo paces when he talks, like the American preachers on satellite television. Tonight he tells the men about King David and the importance of daily payer. “David was a powerful, intelligent man,” says Tsogoo. “But he prayed every day. He knew he could not live well without God’s guidance.” He enjoins the men to pray whenever they must make a decision, no matter how important or trivial.
The Khovd City Men’s Fellowship does not meet at six every Thursday night just to listen to Tsogoo. They meet to discuss spiritual matters in the company of other men they trust. The meetings take place in a small yurt, or ger, behind a wooden house on the edge of Khovd City’s sprawling ger district. There are no lamps to illuminate the ger and only a small stove to keep them warm in the winter. Around the stove are rickety orange benches with no backs. When someone begins to speak, the others lean in to listen.
They are usually a small group, rarely more than ten. Each meeting has its share of new faces. The visitors come for many different reasons. Some are curious; they want to know the meaning and purpose of this “foreign” religion taking up residence in their province. Others are desperate, suffering from unemployment, alcoholism, illness or all three, searching for a path or a leader to guide them to peace and recovery.
According to Mongolia’s 2010 National Census, 41,117 Mongolians — 2.1 percent of the country’s population — adhere to Christianity, usually of the Protestant variety. Although Nestorian Christianity existed in the Mongol Empire, where Christians sat in the emperor’s court, Christianity did not truly penetrate the Mongolian heartland until the early 1990s. After the fall of the USSR, missionaries of various denominations began to enter the former Soviet satellite state in search of potential converts.
While one might expect Christianity to grow primarily in Ulaanbaatar, Christian communities now exist all over Mongolia. Khovd City, the capital of Mongolia’s remote Khovd province, does not seem a likely base for a nascent Christian community. Home to approximately 28,000 people, Khovd City is located in Mongolia’s far west, about a day’s drive from the almost equally remote Chinese province of Xinjiang.
Tsogoo, now a physics professor at Khovd State University, was not born into a family of Christians or a community of believers. He discovered Christianity as a young man, when one of his friends returned from Ulaanbaatar with a strange book and a new faith. His friend encouraged him to read the Bible and he soon became fascinated by its teachings. A few years later, Tsogoo declared himself a Christian and committed himself to acquainting his fellows with the Bible and its doctrines. The Men’s Fellowship is a means of doing so.
As a Fulbright English teacher at Khovd State University, my first encounters with Western Mongolia’s Christian minority began when I met Robert Keroac in the autumn of 2014. Keroac is one of the region’s small crop of long-term expatriates and an active member of the Khovd’s tiny Christian population.
Keroac first arrived in Mongolia in 1998, convinced that God was calling him to work there. While living in Atlanta during the 1996 Olympics, Keroac met and befriended a group of Mongolian athletes. “Mongolia would not leave my consciousness after that,” he says. After two years of prayer, Keroac finally resolved to visit Mongolia on a one-month tourist visa. In 1999 Keroac decided to remain in Mongolia permanently.
After spending a year learning Mongolian in Ulaanbaatar with his wife Hazel, Keroac began touring the country in the company of his language teacher. After visiting eight provinces and 20 villages, Keroac and his wife resolved to move to Zereg soum, or district, in Khovd province.
“We were asking God what we should do,” Keroac told me one afternoon in his Khovd City ger. “We got to this little village 100 miles south of Khovd City, Zereg, there the village leadership gave us a party and an oil painting and… immediately invited us to live there. We thought that might just be our answer to prayer.”
Keroac and Hazel would spend the next ten years working in Zereg as English teachers. In their spare time, they strove to “live the Gospel and teach interested parties about the Bible.”
Keroac and Hazel soon discovered they were not the only Christians to inhabit the region. “Various evangelical groups had been coming to do short-term work since 1993 for between two weeks or three months,” says Keroac. “They would travel around and distribute literature, most of which ended up as rolling paper for tobacco or in fireplaces.”
Khovd’s first denominational churches were established in 2003 and 2005. Norwegian missionaries founded the first of these, the Norwegian Lutheran Mission, in 2003. In 2005, Korean Baptists opened Khovd’s first and only Baptist Church. The goal of these groups, says Keroac, was “to set up churches on indigenous, sustainable principles.”
The Korean Baptists, for instance, began their mission by sending short-term teams to Khovd in 2002 and 2003. “They would go and work in an area see if they could find people who were interested and leave them with Bibles and Bible study material,” says Keroac. Once the Korean teams found ten people with a serious interest in Bible study, they sent a teacher to live in Khovd with the goal of eventually establishing a church.
When the Keroacs finally left Zereg and moved to Khovd City in 2011, they found eight Christian churches. “My wife and I visited each church in Khovd and introduced ourselves,” says Keroac:
“It was in the summer, which is when the numbers are the lowest. We saw an average of 15–20 people in each church. In winter, my own church averages something like 30. Some days there might be 40 or more. It’s easy to say that we saw probably 120 people in churches and they were the diehards.”
Today, they belong to Khovd’s Uguumur Hair, or “Abundant Love” church, where Keroac is a member of the leadership council. However, Keroac believes the council’s existence does not suggest the church adheres to a rigid hierarchy. “There’s no sharp divisions of labor,” says Keroac. “Everybody pitches in. They recognize that anyone who professes to believe in Jesus will necessarily pull their weight and look for things to do. The leadership council tends to have people who have been Christians for at least five years. There’s no one pastor. Several men share the responsibility of preaching the major addresses. Friday night Bible studies are shared between men and women.”
Unlike the Norwegian Lutheran Mission and the Korean Baptist Church, the other six of Khovd’s churches are nondenominational and administered by Mongolians. Two of the Mongolian churches emphasize the importance of “spiritual gifts” such as prophecy, speaking in tongues, healing, and the discernment of spirits. While the other churches accept these believers as legitimate Christians, the validity and importance of “spiritual gifts” remains up for debate.
Like Uguumur Hair, each of Khovd’s eight churches elects a leadership council to represent its members. These leadership councils meet once a month to share information and discuss potential joint projects.
Last year, the churches organized a joint charity program with the approval of the city government. Once a month, each church would work with its local district governor to collect donations. They collected two kinds of donations: in kind and cash. With the cash they bought food and candy for children. They also bought warm clothing, children’s toys, and good used furniture.
Tsogoo’s Men’s Fellowship is another project that unites Christians from Khovd’s different churches. When he launched the Men’s Fellowship, Tsogoo wanted to create an opportunity for men to meet and discuss their lives without depending on alcohol to speak frankly. In a country where one in five men binge-drinks on a weekly basis, few Mongolian families remain unaffected by the devastating impact of alcoholism.
When Tsogoo launched the Men’s Fellowship in 2012, it had only three members. It was only after a year of weekly meetings that he managed to draw other men to the Fellowship. Many of the men who now regularly attend the Fellowship meetings are or were once alcoholics. Not only do they drink to excess at least three times a week, many are drunk at work or in other situations where they might pose a serious danger to themselves and others.
Chinbat, a former herder, is one of the Men’s Fellowship’s most regular attendees. He became interested in Christianity after he fell off of his camel, breaking his back and confining himself to a wheelchair. Unable to work, Chinbat receives a stipend from his church. Now, he uses the Men’s Fellowship as a forum to help young men avoid making the same mistakes that cost him his mobility and independence.
Alcoholism and a man’s responsibility to his fellows are constant themes among Khovd’s Christians. At each of Khovd’s eight churches, women continue to play a major role in the leadership councils. Men, according to Keroac and Tsogoo, have been reticent to take on leadership roles in the churches until recently. This strikes me as peculiar; while I have met many female Christians in Khovd, I have yet to meet one who admits to having a leadership role in her church.
In any case, it is clear that the men take inordinate pride in organizing events and activities. On April 16, 2015, I attended a Men’s Fellowship meeting during which the men present happily recounted the success of a Christian-themed concert. Around 150 people attended this concert, which, according to those in attendance at the Men’s Fellowship meeting, was entirely organized by men.
When I asked Keroac about this concert, he confirmed that concert had in fact been led and organized by the men of Khovd’s Christian churches. “In fact,” he continued, “when I went, women were coming up to me and saying how great it was the men were finally taking charge of something.”
Whatever success Khovd’s Christian churches may have with regard to combating alcoholism and motivating men to take charge of their lives, not all of Khovd’s residents see them as a positive force.
Purevsuren, an English instructor at Khovd University, briefly attended some of Khovd’s churches at their inception, when his then-girlfriend was exploring Christianity. Today, Purevsuren views Mongolian Christianity with a skeptical eye.
“Yes, churches can do good things,” he says. “They teach right attitudes. Some alcoholics go and stop drinking. But some people also go because they want something from the church. They don’t really believe in God. We also worry about brainwashing. We cannot always know what is going on inside those churches.”
Purevsuren is the product of a secular society. Although he did not experience the bans on religious practice maintained by the communist Mongolian People’s Republic, he grew up in the 1990s, when the constitution of a newly democratic Mongolia vowed to protect religious freedom and practice while limiting proselytism.
As a firm believer in the separation of church and state and the importance of keeping religion as a secondary force in the lives of individuals — behind citizenship and Mongolian culture, that is — Purevsuren does not believe that religious diversity will always be positive.
“Now it is okay because we are in the middle time,” he explains. “These religions are not too big. I am afraid one day maybe they become very big and there will be conflict.”
Whether or not these fears are justified, Mongolian Christianity’s schizophrenic nature continues to perplex. Neither entirely foreign nor native, it may one day be as Mongolian as the Men’s Fellowship’s austere ger.
Martin de Bourmont is a freelance writer, translator, and graduate student based in Paris.

Urdu Poetry