Thursday, 28 October 2021

Military Inc.: Inside Pakistan's Military Economy Urdu

 










https://www.mediafire.com/file/k16lmbq5wxrs32d/Military+Inc._+Inside+Pakistan's+Military+Economy+Urdu+translation+(+PDFDrive+).pdf/file

پیر بابا پتر شاہ اور چوہدری کے اختیارات

 پیر بابا پتر شاہ اور چوہدری کے اختیارات

ہمارے گاوں میں ایک پیر آتا تھا ۔ یہ پاکپتن شریف سے آتا تھا ۔ اُس کا نام بابا پُتر شاہ تھا ۔ اِس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ وہ بانجھ عورتوں کو بیٹے دیتا تھا ۔ خود اُس کے ہاں کوئی اولاد اور گھر گھاٹ نہیں تھا ۔ اِس کا سبب وہ یہ بتاتا کہ ساری اولادیں وہ دوسروں کو بانٹ چکا تھا حتیٰ کہ اپنے حصے کی اولاد بھی۔ البتہ اُس سے کبھی کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ اب اگر آپ کی اپنی زنبیل خالی ہو چکی ہے تو مزید عورتوں کو بیٹے کہاں سے دیتے ہو ۔
یہ پیر بابا اپنے ساتھ دو مریدنیاں اور دو مرید رکھتے تھے جو اُس کی کرامات لوگوں تک پہنچاتے تھے ۔ ایک میردنی بہت ہوشیار تھی اُس کا خاوند بھی مریدنی کا مرید تھا ۔ یہ مریدنی تو اب اُس کی خلیفہ بھی بن چکی تھی ۔ اور اکثر معجزے اب وہ مریدنی ہی دکھاتی تھی ۔ ہاں اگر کہیں اُس کی طاقت سے کوئی چیز باہر ہو جاتی تو پیر بابا آگے بڑھتا ۔ رفتہ رفتہ اُس مریدنی کو بھی لوگوں نے پیرنی کہنا شروع کر دیا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ پیرنی پیر بابا سے آزاد ہو گئی ۔ اور لوگوں کو خود ہی مرادیں دینے لگی ۔ اُنھی دِنوں کی بات ہے جب یہ پیرنی ابھی پیر بابا سے الگ نہیں ہوئی تھی لیکن کرامات دکھانا شروع کر دی تھیں۔ ہوا یہ ایک عورت اور مرد پیر پتر شاہ کے ہاں آئے اور ایک بیٹا پیدا ہونے کی التجا کی ۔ پیر بابا نے پیرنی سے کہا ، اٹھ کر عورت کو کمرے میں لے جا ۔ وہ اُسے کمرے میں لے گئی ۔ اور تھوڑی دیر بعد وآپس آئی اور بولی تین دن بعد دعا قبول ہو گی ۔ پیر بابا نے عورت کے خاوند سے کہا ، اِسے تین دن بعد لانا ۔ تین دن بعد پیرنی اور پیر دونوں اُسے کمرے میں لے گئے اور تھوری دیر دم درود کرنے کے بعد عورت کو وآپس لے آئے اور خاوند کو اُس کا بازو تھما دیا ۔ قدرت خدا کی کچھ اوپر چالیس دنوں بعد عورت کے ہاں اُمید پیدا ہو گئی ۔ اتنے عرصے میں پیر اور پیرنی کی راہیں بھی جدا ہو گئی تھیں ۔ پیرنی نے موقع غنیمت جان کر پیر بابا پتر شاہ کے مرید اور مریدنیاں بھی بانٹ لیں ۔ اور دونوں میں اچھی خاصی دوری پیدا ہو گئی ۔ پیرنی کی دعائیں زیادہ قبول ہونے لگیں ۔ پیر صاحب تو صرف بیٹے دیتا تھا ۔ پیرنی کی کرامات میں سوائے پیغمبری کے سب ظاہر ہونے گا ۔ یعنی رفتہ رفتہ کسی کو کونسلر بننا ہوتا تو وہ پیرنی کے پاس جاتا اور دعا کراتا ، وہ کونسلر بن جاتا ۔ کسی کو ملازمت لینا ہوتی تو وہ بھی پیرنی کے ہاں جاتا اور مراد پاتا ۔ کوئی فراڈ اور کرپشن میں پھنس جاتا ۔ وہ پیرنی جی کے ہاں جا کر دعا کراتا اور اُس کے کہنے پر میلاد وغیرہ مناتا ، کرپشن کے کیس سے بری ہو جاتا ۔ آہستہ آہستہ پیرنی کا دائرہ بڑھتا گیا ۔ اب بڑے بڑے وڈیرے بھی پیرنی کے پاس آنے لگے اور گوہرِ مقصود پانے لگے ۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے کہا مَیں پورے گاوں کا چوہدری بننا چاہتا ہوں۔ حالانکہ وہ آدمی چپراسی بننے کے قابل نہیں تھا ۔ پیرنی نے کہا تیرے ستارے بہت کمزور ہیں ، تو چوہدری نہیں بن سکتا ۔ آدمی نے کہا چوہدری تو مَیں ہر صورت بننا چاہتا ہوں ، کوئی اُپائے بتاو ضرور ۔ پیرنی نے جواب دیا ۔ ہاں مَیں دیکھ رہی ہوں اگر تیرے ستارے کے ساتھ میرا برج حمل مل جائے تو تُو چوہدری بن جائے گا ۔ اُس کی ایک یہی صورت ہے ۔ اُس نے کہا پھر یہ برج میرے ستارے سے کیسے ملے گا ۔ پیرنی نے کہا ، ہم دونوں شادی کر لیں گے ۔ اُس آدمی نے کہا تو تھمارا پہلا خاوند کیا کرے گا ؟ پیرنی نے کہا آپ فکر نہ کرو وہ مجھے آپ کے لیے ڈونیٹ کر دے گا ۔ لیجیے صاحب پیرنی کے خاوند نے ہنسی خوشی پیرنی کو ڈونیٹ کر دیا ۔ اور قدرت خدا کی وہ چپراسی کی قابلیت والا آدمی پیرنی مل جانے کے بعد ہمارے گاوں کا چوہدری بن گیا ۔
اِسی اثنا میں ایک واقعہ پیش آ گیا ۔ جس عورت کے لیے پیر بابا نے بیٹے کی منظوری دی تھی ۔جب اُس کے حمل کو آٹھ مہینے ہو گئے تو دونوں میاں بیوی کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گیا ۔ مرد نے کہا تیرا یہ حمل پیر بابا پتر شاہ کی دعا سے ٹھہرا ہے ۔ جبکہ عورت نے کہا نہیں یہ تو پیرنی کی دعا سے ہوا ہے ۔ جھگڑا طول کھینچ گیا تو مرد بھاگتا ہوا پیر بابا کے پاس آیا اور بولا بابا جی میری بیوی کہتی ہے اُس کا حمل پیرنی کی دعا سے ٹھہرا ہے ۔ پیر بابا نے جلالت میں آ کر جواب دیا ، اچھا اگر یہ بات ہے تو عورت سے کہنا کہ اب بچہ پیدا کر کے دکھائے ۔ لیجیے حضرت کئی ماہ نکل گئے ، بچہ پیدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ عورت کو آخر دوبارہ پیر با با کے پاس جانا پڑا ۔ بابا جی نے بچے کے پیدا ہونے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ، ٹھیک ہے بچہ پیدا ہو جائے گا لیکن اپنی پیرنی سے کہنا مَیں نے سارے گُر اُسے نہیں سکھائے ، وہ لوگوں کو گاوں کا چوہدری تو بنا سکتی ہے مگر چوہدری کے اختیارات میرے ہی پاس رہیں گے ۔
اور یہ بھی یاد رکھ مَیں تھماری پیرنی کے خاوند کو جلد ہی اپنی کرامت کے ذریعے چوہدراہٹ سے الگ کر دوں گا پھر تمھاری پیرنی کدھر جائے گی ۔ عورت نے کہا ، وہ وآپس اپنے سابقہ کے پاس ۔
یہ کافی عرصہ پہلے کا واقعہ ہے ۔ میں تو گاوں چھوڑ کر اسلام آباد آ گیا ۔ اب پتا نہیں اُن سب کا کیا بنا ؟
علی اکبر ناطق

Saturday, 23 October 2021

پاکستان کا آرمی چیف

پاکستان کا آرمی چیف

میں پاکستان کا آرمی چیف ہوں
میرا نام کچھ بھی ہو 
مگر میرا کام ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے
میرا نام لیوا ہمیش کامران اور نیک ہی رہتا ہے
میرے دفتر کی دائیں دیوار پر نیرو کی تصویر ٹنگی ہے
جو روم کو جلا کر اور ماں کو مروا کر ناچتا تھا
میں روم کی جگہ موم جلاتا ہوں
آواز اٹھانے والے لاپتہ افراد کی آنکھوں میں
جن میں ناچتے آزادی کے سانپ مر مر کے رینگتے ہیں
پرائیوٹ چینلز میرے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں
اور حکومت کا وضو میرے بغیر ادھورا ہے
ایکسٹینشن میرے پیر کی جوتی ہے
جس میں سنڈریلا کی طرح صرف میرا پیر آتا ہے
میرے قلعے کی فصیل سے اپنا آتا ہے نہ غیر آتا ہے
سوائے امریکہ جاپان اور برطانیہ کے سفیروں کے
جن سے سرخ صوفے پہ میں معاملات طے کرتا ہوں
اور پھر وزیراعظم کو حکم دینے کا حکم دیتا ہوں
سویلین سپرمیسی صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہے میاں
محبت بکارت خوشبو چاندنی اور موتیے کی مہک مانند
مگر میرا اور میری ایمپائر کا مفاد جڑا ہے 
بارود،خون،شہادت،جذبے،عزم اور نغموں کی نکسیروں سے
جو ہر جارحیت کے بعد وطن کے ناک سے پھوٹتی ہیں
اور میں صرف خون پونچھنے کے عوض خون نچوڑتا ہوں
افغان جنگجو کے ہاتھوں میں نچڑتے قندھاری انار کی مانند
سیاست میں حلف عدم مداخلت کی تحقیر کی مانند
میرے پیشرو آسڑیلیا امارات سعودیہ اور امریکہ میں
حب الوطنی کے مرتبان سے نکال کر اچار کھاتے ہیں
اور میرے سپاہی لکیروں پہ دل و جاں کی مار کھاتے ہیں
جنھیں میں لکڑی کے تابوتوں میں باجوں کی آوازوں میں
نیم گیلی مٹی کھود کر دفناتا ہوں
اور انکے لواحقین کو تھماتا ہوں
شہادت کا سرٹیفیکیٹ ،پلاٹ کے کاغذ اور پیتل کے ٹکڑے
جنھیں ڈرائنگ روم میں سجا کر لواحقین 
تشکر کے آنسووُں سے میرے آگے سربسجود ہوتے ہیں
تقریب یوم دفاع کی چوتھی صف میں موجود ہوتے ہیں
میں ایٹم بم کے بٹن کو گھنٹوں تکتا رہتا ہوں
جس کو دبا کر میں ان غلاموں سے محروم نہیں ہونا چاہتا
جو میری ابروئے جنبش پہ سر تسلیم خم کرتے ہیں
جو خوشیوں کی تلاش میں زخم زخم کرتے ہیں
میرا وجود نفرت کی بنیاد پہ قوی ہے
اور میں اسے کبھی کم ہونے نہیں دیتا 
کبھی بھارت سے کبھی انڈیا سے اور کبھی ہندوستان سے
کبھی مکین سے کبھی نظرئے سے اور کبھی مکان سے
امن کے دنوں میں سیلاب سے بھی بچا لیتا ہوں
اپنے سے چھوٹے ہر عذاب سے بھی بچا لیتا ہوں
میرے نو نہیں بارہ رتن ہیں اور ہر کوئی انمول ہے
ٹوئٹر اور جاسوسی کے محاذ میری نگرانی میں چلتے ہیں
میری اجازت سے سیف ہاوُسز میں ایسٹس پلتے ہیں
میری کرسی پر کوئی آئے کوئی جائے
میں مستقل رہتا ہوں
کیونکہ میں جسم نہیں عہدہ ہوں
اور عہدے جسموں کی طرح فنا نہیں ہوتے
صرف کینچلی بدلتے ہیں
 تھائی لینڈ اور کیرالہ میں سرسراتے کنگ کوبرا کی مانند
جسکی پرانی کھال نظر آتے ہی
کسان موت کے منتر بڑبڑانے لگتے ہیں
اوکاڑہ،تربت اور میران شاہ میں دم توڑتے باغیوں کی مانند
جن کا واحد جرم میرے خلاف آواز اٹھانا تھا
وہسکی کا نشہ بھی کتنا عجیب ہوتا ہے
جس میں سچ ٹوپی سے زیادہ قریب ہوتا ہے
کیونکہ میں پاکستان کا آرمی چیف ہوں 
اور میرا نام کچھ بھی ہو
میرا کام ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے

Wednesday, 20 October 2021

 پڑھائی سے نفرت کیوں ہوئی؟  حاشر ابن 

مجھے پڑھائی سے نفرت کیوں ہوئی؟ 
حاشر ابن ارشاد 

لائق ہونے کی تہمت بچپن میں ہی لگ گئی تھی۔ والدین روایتی چوہا دوڑ کے اسیر تو نہیں تھے اور نہ ہی اس زمانے میں ہر ایک کو ذاتی دیوار میسر تھی جس پر نمبروں کے اشتہار چسپاں کرنا ممکن ہوتا پر نجی محفلوں میں میری کلاس میں لی گئی پوزیشن کا ذکر ایسے فخریہ ہوتا جیسے پہلے بدر کیمرج اور پھر گورنمنٹ جونئیر ماڈل سکول کے کنویں کی ایک جماعت کے پچاس بچوں میں پہلے نمبر پر رہنا گویا دنیا کی فتح سے کم نہیں تھا ۔

سب کچھ لیکن ہمیشہ اچھا نہیں رہا۔ جونیر ماڈل سے سیکنڈری اور پھر ہائی سکول کے سفر میں کئی برے دن بھی آئے کہ پانچویں کے بورڈ کا امتحان ہو کہ آٹھویں کا یا پھر روز آخرت سے پہلے سب سے اہم میٹرک کا میزانیہ، ان سب میں بوجوہ ان توقعات سے تھوڑا کمتر ہی رہا جہاں تک کہ کمند میرے والدین امتحان سے پہلے ڈال دیا کرتے تھے۔
آٹھویں جماعت جسے اس زمانے میں ہشتم کہنا افضل خیال کیا جاتا تھا، کے بورڈ امتحان میں میری کارکردگی ذرا غیر نمایاں رہی، اور وہ بھی اس صورت کہ اس سے پہلے سکول کے داخلی امتحانات میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ تو والدین کے چہرے کچھ کھنچ سے گئے۔ زیادہ تو نہیں کہا لیکن دبے دبے لفظوں میں جتایا گیا کہ پڑھو گے لکھو گے ، بنو گے نواب۔۔کھیلو گے، کودو گے، ہو گے خراب۔ اشارہ میرے ہر کھیل میں ٹانگ اڑانے کی طرف تھا۔

اللہ جانے یہ اس خفی سی سرزنش کا اثر تھا کہ میرے ستارے بہتر بروج میں براجمان ہو گئے تھے کہ جماعت نہم کے سہ ماہی، ششماہی ، نو ماہی اور پھر سالانہ امتحان میں نہ صرف سیکشن کی حد تک بلکہ تمام سیکشنز میں مجموعی طور پر بھی گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول میں پہلی پوزیشن سے میری معزولی ممکن نہ ہو سکی۔ میٹرک میں قدم رکھا تو اچانک پتہ لگا کہ کائنات میں اس سال سے اہم وقت کوئی نہیں تھا اور اس کے اختتام پر جو میزانیہ ہاتھ میں تھمایا جائے گا اس سے اہم میزانیہ روز حشر ہو تو ہو ورنہ شاید وہ بھی نہیں۔ امیدوں کا بوجھ یکایک پڑھائی کے بوجھ سے کہیں زیادہ ہو گیا۔ اتنا زیادہ کہ ایک دوست کا انہی دنوں نروس بریک ڈاؤن ہو گیا اور تین ماہ وہ صاحب فراش رہا۔ غضب خدا کا ، چودہ پندرہ سال کی عمر میں نروس بریک ڈاؤن۔ وہیں کوئی ایک لمحہ تھا کہ اندر کچھ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔ شاید آس کا وہ محل جسے خاندان نے میرے دل میں تعمیر کرنے میں برسوں لگائے تھے اور جس کے ماتھے پر بورڈ میں پہلی پوزیشن جلی حروف میں ویسے ہی کندہ تھی جیسے بھدے بنگلوں کی پیشانی پر ہذا من فضل ربی خط نسخ میں لکھا ہوتا ہے۔

پڑھائی سے ایک ہی رات میں دل اٹھ گیا۔ درسی کتب کے صفحوں پر بچھو رینگنے لگے۔ ان پر نظر نہ پڑے تو بیچ میں کبھی منٹو، کبھی بیدی تو کبھی کرشن چندر کو رکھنا لازم ہو گیا۔ کتاب سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی پر درسِ لازم سے نفرت سی ہوتی گئی۔ میٹرک کا دور یوں ہی بیتا کہ یہ رشتہ کمزور پڑتا چلا گیا۔ اتنے برے حالات میں بھی داخلی امتحان میں شاید پچھلے برسوں کی ریاضت کا ثمر رہا کہ پہلی تین پوزیشنوں سے باہر نہ ہوا سو امید کے دھاگے جو گھر والوں نے تھامے تھے، ان کے ٹوٹنے کی نوبت بھی نہ آئی۔ پر میری پڑھائی سے رغبت جس کا فزوں تر ہونا ضروری تھا، وہ ہر گزرتے دن بجھتی چلی گئی۔

ہوتے ہوتے روز قیامت آن پہنچا۔ نتیجہ نکلا تو پہلی تین کیا، دس پوزیشنز میں بھی نام نہیں تھا۔ پر ٹھوکر کھا کر بھی اتنی دور نہیں گرا تھا کہ عمومی طور پر کوئی نتیجے کو برا کہہ سکتا۔ میرٹ پر اور وہ بھی پری انجینئرنگ میں گورنمنٹ کالج لاہور کی پہلی فہرست میں نام اگر آجاتا تھا تو اس فہرست کے سب شہر کے ہی نہیں، ملک کے منتخب  مانے جاتے تھے۔ سو وہ ہو گیا۔ والدین نے اب ایک نیا قصر امید بنا لیا جس کے ماتھے پر یو ای ٹی لاہور لکھا ہوا تھا۔

گورنمنٹ کالج ایک نئی دنیا تھی، کچھ دن تو اس کے رومان اور اس کی مرعوبیت میں گزر گئے پر پڑھائی سے محبت ہونے کے دن ابھی نہیں آئے تھے۔ نصاب کی کتاب کھولی تو ایک ایسے دماغ نے ، جس کا تجسس ابھی مرا نہیں تھا وہ سوال اٹھانے شروع کر دیے جس کا جواب دینے میں گورنمنٹ کالج جیسے ادارے کے اساتذہ کو بھی یا تو کوئی دل چسپی نہیں تھی یا اس کا جواب وہ جانتے نہیں تھے۔

میں پوچھنا چاہتا تھا کہ نمبر تھیوری یا ٹپولوجی میں پڑھ رہا ہوں تو کیوں پڑھ رہا ہوں ۔ تھرمو ڈائنامکس کا میری زندگی میں کیا کردار ہے۔ پیریاڈک ٹیبل کے عناصر یاد کر بھی لوں تو اس سے میرے گھر میں کیا بدل جائے گا۔ نظریے اور مفروضے سب کو یاد تھے۔ عملی اطلاق سے کوئی آشنا نہیں تھا۔ نصاب سے رجوع کرنے کا ارادہ ترک کیا اور طلاق بائن تک نوبت پہنچا دی گئی۔ صبح گھر سے کالج کے لیے نکلتا لیکن کبھی کالج پہنچنے کی نوبت نہیں آئی۔ مال روڈ کے اس طرف پنجاب پبلک لائبریری میرا دوسرا گھر بن گئی۔ کتاب سے محبت بڑھ رہی تھی لیکن یہ وہ کتاب نہیں تھی جس کے اوپر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی مہر لگی ہوئی تھی۔

ایف ایس سی کے دو سالوں میں شاید دس دفعہ کالج کا منہ دیکھا وہ بھی اس لیے کہ نام کٹنے کی نوبت آتی تو دوست خبردار کر دیتے، کسی ایک آدھ جماعت میں بیٹھ جاتا۔ پروفیسر کبھی کبھی شکل دیکھ لیتے تو کافی سمجھتے۔ لازمی داخلی امتحان سے پہلے کچھ دن کتابیں کھول لیتا ۔ معجزانہ طور پر ان میں فیل ہونے کی نوبت نہیں آئی۔ دل سے مجھے سائنس اور ریاضی پسند تھی تو نصاب سے مکمل قطع تعلقی کے باوجود بھی دماغ اتنا کام کر لیتا تھا کہ سوالوں کے جواب بن ہی جاتے تھے۔ رہے سوشل سائنسز والے مضامین یا زبانیں تو وہ ہمیشہ سے گھر کی بات تھی۔ یوں بھی اس میں نظریے اور عمل کی دوئی خارج از بحث تھی۔

ایف ایس سی کے امتحان ہوئے۔ پتہ نہیں کیا پڑھا، کیسے پڑھا اور امتحان بھی کیسے دیا۔ آج بھی ہزار ذہن پر زور ڈالوں تو کچھ یاد نہیں۔ اتنے نمبر تو نہیں آئے کہ انجینیرنگ یونیورسٹی میں کوئی کام کا شعبہ مل پاتا لیکن اتنے برے بھی نہیں رہے کہ سائنسز کو خیر باد ہی کہنا پڑتا۔ والدین کی مایوسی سوا تھی۔ جو جو وہ کہنا چاہتے تھا ، کہہ لیا۔ میں نے سن لیا۔ اس سے زیادہ نہ ان کے بس میں تھا ، نہ میری بساط میں۔

رجحان کیا ہوتا ہے، کیرئیر کس چڑیا کا نام ہے، شعبوں کا تنوع کس کھیت کی مولی ہے۔ ان سب باتوں سے بے خبر، لاعلم ، میں نے بھی وہی راہ اختیار کر لی جو انجینئرنگ یونیورسٹی سے بس ایک جست کی دوری پر رہ جانے والے کیا کرتے تھے یعنی دوہری ریاضی اور طبیعیات میں بی ایس سی۔ نمبر اب بھی اتنے تھے کہ گورنمنٹ کالج سے دور نہیں جانا پڑا۔ اوول کی فصیل کے اندر ہی ایک اور ڈگری کے حصول کی کہانی لکھی جانے لگی۔

بی ایس سی کے مضامین میں بھی مسائل وہی تھے جو پچھلے دو سال میں حل نہیں ہوئے تھے۔ پلین کَرو پڑھ رہے ہیں تو کیوں پڑھ رہے ہیں، ویکٹر کے کیا مقاصد ہیں ۔ڈفرنسیئیشن کا انسانی معاشرت سے کیا تعلق ہے۔ وغیرہ وغیرہ اور جواب پھر ندارد تھے۔ نتیجہ بس یہ نکلا کہ میں نے پنجاب پبلک لائبریری کے اردو سیکشن کو کنگھالنا بند کیا اور انگریزی شعبے میں سر کھپانا شروع کر دیا۔ قرۃ العین حیدر، علی عباس جلالپوری، سبط حسن، ن م راشد کے بعد ول ڈیورانٹ، ٹوائن بی، پی جی ووڈ ہاؤس،ٹوین، ہیمنگوے، رسل، لاک اورجان سٹورٹ مل سے پیار کی پینگیں بڑھنے لگیں۔ گرمیوں میں زیادہ تنگ ہوتا اور جیب میں کچھ پیسے ہوتے تو بس پکڑ کر پلازہ، الفلاح، تاج یا کراؤن سینما میں گھس جاتا اور جو بھی فلم لگی ہوتی وہ دو تین گھنٹے دیکھتا رہتا۔ یہ دونوں کام کرنے کے لیے کسی دوست کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں اور تنہائی پسند بھی ہوتا چلا گیا۔ کتابوں اور فلموں سے عشق میں بی ایس سی کا دورانیہ بھی گزر گیا۔

اس دور میں بھی کبھی کبھی کالج کا منہ دیکھ لیتا۔ کئی لطیفے بھی ہوئے۔ کبھی کسی کلاس میں جا بیٹھا تو لیکچرر نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ ایک دفعہ خوب بحث کے بعد حاضری رجسٹر میں نام لکھایا کہ نام تھا ہی نہیں ۔ لیکچرر نے اس شرط پر لکھا کہ اگلے دن میں اپنے والد کو لے کر آؤں گا تاکہ ان سے بھی تصدیق کی جا سکے۔ اس کے بعد میں سات ماہ کلاس میں گیا ہی نہیں۔ سات ماہ بعد پھر اسی کلاس میں پہنچا تو لیکچرر پرانا قصہ بھول چکا تھا۔ پھر بحث کے بعد اس نے نئے حاضری رجسٹر میں میرا نام اس شرط پر درج کیا کہ اگلے دن میں اپنے والد کو لے کر آؤں گا۔ اس کے بعد بی ایس سی ختم ہونے تک کبھی اس کلاس کا رخ  نہیں کیا۔

بی ایس سی کے اختتام پر حالات یہ تھے کہ میرے پاس طبیعیات کی کتابیں تک نہیں تھیں۔ ریاضی کی کتابیں کسی وقت خرید لی تھیں پر ان کے صفحے بھی نہیں کٹے تھے۔ امتحان چند ماہ کی دوری پر ہوئے تو فکر لاحق ہوئی کہ فیل ہونا ایک ایسا حادثہ ہوتا جس کا سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔ کریش کورس کے لیے ایک دوست کے توسط سے ایک ایسے مسیحا تک جا پہنچے جس نے ایک سال پہلے بی ایس سی میتھمٹکس امتیازی نمبروں سے پاس کیا تھا اور اب پنجاب یونیورسٹی میں ایم بی اے سمسٹر کے آغاز سے پہلے وہ ٹیوشن پڑھا کر اپنا خرچہ نکالتا تھا۔ یہ بعد میں ہمارا گہرا دوست بننے والا عقیل احمد تھا۔ عقیل بیچارے نے چند ماہ پتہ پانی کیا۔ دل چسپی تو ریاضی میں اب بھی لوٹ کر نہیں آئی تھی پر اتنا آسرا ہو گیا کہ امتحاں ہوا تو ریاضی میں قریب پچاس پچپن فی صد نمبر آ گئے۔ حالت یہ تھی کہ امتحان میں جس مساوات کو مختصر کرنے کا سوال آتا وہ دو صفحات کی مغز ماری کے بعد تین سطروں سے پھیل کر سات سطروں پر محیط ہو جاتی۔ نتیجتا ایسے سوال ہمیشہ ادھورے ہی رہے۔

سوشل سائنسز یا زبان کے مضامین کبھی مسئلہ نہیں تھے پر طبیعیات کی کھیر کافی ٹیڑھی تھی۔ نہ اس کی کوئی ٹیوشن دستیاب تھی اور نہ اس کی کوئی کتاب میں نے کبھی دیکھی تھی۔ سوچتے سوچتے کہ کیا جائے ، امتحانات کے دن آن پہنچے۔
پہلے سوچا کہ پیپر چھوڑ دیے جائیں لیکن اس کی تاویل اماں ابا کو کیا دیں گے جو ہمارے کرتوتوں سے ابھی تک بے خبر تھے۔ حوصلہ نہیں ہوا پر کیجیے تو کیا کیجیے۔ عقیل سے مشورہ کیا ، اس نے اپنے کچھ پرانے دوستوں سے بات کی۔ معلوم ہوا کہ طبیعیات کے تین پیپرز یعنی میکینکس ، تھرموڈائنامکس اور غالبا الیکٹرانکس (دیکھیے اب یاد بھی نہیں) کے نوٹس کچھ پرانے پاپیوں کے پاس دستیاب ہیں اور اگر ہر پیپر میں پانچ سے چھ ابواب کے نوٹس کا مکمل رٹا لگایا جا سکے تو امتحان میں ستر سے اسی فی صد مواد انہی ابواب پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیجیے، ایک یہی راہ نجات تھی سو اسی پر قدم دھر دیے۔

شہر کے مختلف حصوں سے نوٹس تو اکٹھے ہو گئے جو ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے کہ ابھی ٹائپنگ یا فوٹو کاپی کا  رجحان نہیں تھا تو یہ قلمی نسخے ہی ہماری امتحانی میراث بنے۔ جن جن کی بھی یہ کاوش تھی، بڑی محنت سے کی گئی تھی۔ ہر باب کو سوالوں میں بانٹ دیا گیا تھا ۔ جواب مساوات صاف صاف قدم بہ قدم لکھ دی گئی تھی لیکن یہ کوئی آیت یا نثر پارہ یا نظم تو تھی نہیں کہ اس کے زبانی یاد کرنے کا کوئ طریق کبھی ذہن میں رہا ہو۔ آپ سوچیے کہ طبیعیات کا مقدمہ ہے، سمجھ بوجھ صفر ہے اور زبانی یاد بھی کرنا ہے۔ مشکل سی مشکل تھی ، اس پر مستزاد کہ ٹائم ٹیبل ایسا تھا کہ ہر پرچے کے لیے بس ایک رات اور ایک دن ہی میسر تھا۔

جس صبح امتحان ہوتا ، اس سے کوئی اٹھارہ انیس گھنٹے پہلے میں نوٹس اٹھاتا اور انہیں رٹنا شروع کرتا۔ رٹتے رٹتے چھ گھنٹے بعد وہ مقام آتا کہ دل کہتا کہ لعنت بھیجو، یہ تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نوٹس کو دیوار پر مارتا اور اوندھے منہ لیٹ جاتا۔ پندرہ بیس منٹ کے ایک مکمل بلیک آؤٹ کے بعد اماں ابا کے چہرے ذہن میں روشن ہونا شروع ہوتے۔ ان چہروں پر لکھی حیرانی اور شکستگی سے گھبرا کر پھر نوٹس اٹھاتا اور رٹنا شروع کردیتا۔ بغیر کسی نیند کے یہ مشق امتحان سے گھنٹہ پہلے تک جاری رہتی۔ پھر جو باب ہاتھ میں ہوتا ، اسے لے کر امتحان گاہ تک پہنچتا، آخری وقت اس کے مزید رٹے پر صرف کرتا اور پرچہ دے آتا۔

کمرہ امتحان بھی اپنی جگہ ایک واقعہ تھا۔ ایف سی کالج میں سنٹر تھا اور نقل کا بازار خوب گرم تھا۔ تاریخ میں اس وقت تک مجھے نقل کا نہ سلیقہ تھا نہ ہمت تھی۔ یہاں تو ممتحن اور نگران بھی پیسے پر چل رہے تھے۔ جیب میں پیسے بھی تھے پر یہ ہو گا کیسے ، اس کا کچھ پتہ نہیں تھا اور کہیں بہت پہلے سکھائی گئی اخلاقیات الگ دامن گیر تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمرہ امتحان میں کوئی سو میں سے دس بچے ہی ایسے تھے جن کی نگران عملے سے رسم و راہ کبھی استوار نہ ہو سکی۔ پرچہ شروع ہوتا تو ان دس بچوں کو ایک کونے میں اکٹھا کر دیا جاتا اور جہاں باقی کمرے میں نقل کا سامان ارزاں ہوتا وہاں دس نگران ان دس بچوں کو ہلنے کی بھی اجازت نہ دیتے۔ اسی عالم میں سارے پرچے دیے گئے۔

چلیے ایک لطیفہ بھی اسی حوالے سے سن لیجیے۔ غالبا تھرمو ڈائنامکس کا پرچہ تھا اور اس میں ایک سوال تھا جس کا جواب ایک وضاحتی مساوات کی شکل میں تھا اور یہ مساوات اور اس کے لوازمات دو تین صفحات پر محیط تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ جس باب  سے یہ سوال پوچھا گیا تھا وہاں دو ملتی جلتی مساواتیں تھیں، دونوں کا حوالہ گرچہ مختلف تھا اور اس سوال کا جواب ظاہر ہے ان میں سے کوئی ایک مساوات تھی۔ اگر تو میں نے کہیں کسی دن سمجھ کر کچھ پڑھا ہوتا تو یہ کوئی الجھن نہ ہوتی لیکن ایک بے مغز رٹے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اس سوال کے جواب میں مساوات نمبر 1 لکھنی ہے یا مساوات نمبر 2۔

ذرا سا ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی کہ کسی سے پوچھ ہی لوں کہ نگران لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیدھے میرے سر پر آن کھڑا ہوا۔ اب کیا کیا جائے۔ کچھ دیر سوچتا رہا، خالی کاغذ پر کچھ حاشیے بنائے۔ سوال پھر سے پڑھا۔ شاید کچھ پلے پڑ جائے ، کوئی اشارہ مل جائے مگر ان تلوں میں تیل کہاں۔ وقت محدود تھا۔ جب ہر راہ مسدود نظر آئی تو جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس پیسے کا ایک سکہ برآمد کیا جو شاید کسی ایسی ہی الجھن کے واسطے جیب میں رکھا تھا۔ نگران کی حیرانی کو کمال تغافل سے نظر انداز کرتے ہوئے سکہ اچھالا اور ایک ہتھیلی پر گرا کر اسے دوسری سے ڈھانپ لیا۔ لیجیے چت ہے تو مساوات نمبر 1 نہیں تو مساوات نمبر 2۔ ہتھیلی اٹھائی تو سامنے پٹ۔ احتیاط سے سکہ ایسے ہی کسی دوسرے وقت کے لیے جیب میں رکھا اور انتہائی دلجمعی سے چار گھنٹے پہلے رٹی ہوئی مساوات نمبر 2 حرف بحرف امتحانی کاپی ہر تحریر کر دی۔

یہ تو آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ اصل جواب کیا تھا لیکن امید یہی ہے کہ ٹاس میرے حق میں ہی گیا تھا کہ امتحانی نتیجہ آیا تو مجموعی طور پر تحریری پرچوں میں میرے اسی فیصد نمبر تھے۔  وہ الگ بات کہ ہر پرچے کے چند گھنٹے بعد یاد کی ہوئی ہر چیز میرے ذہن سے ہمیشہ کے لیے محو ہو جاتی۔ شاید اس لیے کہ اگلے رٹے کی جگہ بن سکے۔ اس لطیفے سے بتانا یہ مقصود ہے کہ نظام میں اس وقت بھی کجی ایسی تھی کہ ایک رات میں بغیر سمجھے ایک رٹا دو سال کی محنت سے بڑھ کر نمبر دلا سکتا تھا۔

طبیعیات میں ایک اڑچن ابھی باقی تھی اور وہ تھا عملی امتحان کو پاس کرنا۔ پچاس میں سے کم ازکم سترہ نمبر درکار تھے اور عمومی طور پر اوسط بچے بھی پینتیس چالیس نمبر آرام سے لے لیتے تھے پر میں نے کبھی لیب میں قدم رکھا ہو تو نا۔
خیر اس کا حل پھر وہی کریش کورس کی صورت میں ایک پرائیوٹ اکیڈمی کی لیب میں چھ سات پریکٹیکلز کی ساری ترتیب یاد کرنا تھا جس میں میرے پانچ دن صرف ہوئے۔ عملی امتحان میں جو بھی کیا وہ تو یاد نہیں پر اتنا ہو گیا کہ ممتحن نے ترس کھا کر رعایتی سترہ نمبر میرے میزانیے میں جوڑ دیے۔ یہ اور تحریری امتحان کے اسی فیصد نمبر ملا کر طبیعیات میں نتیجہ کافی بہتر ہی نکل آیا۔ وہ الگ بات تھی کہ اس نتیجے کا میری طبیعیات کی سمجھ بوجھ سے کوئی رشتہ، کوئی ناتہ نہیں تھا۔

خدا جانے کس طرح لیکن باقی مضامین میں بھی فیل ہونے کی نوبت نہیں آئی لیکن سات نمبروں کے فرق سے زندگی میں پہلی دفعہ سیکنڈ ڈویژن کا مزا چکھ لیا۔ اس دفعہ امی ابو کا غصہ ، مایوسی ، حیرانی سب پہلے سے سوا تھے۔ گھر میں بہت دن ایک عجیب سی یاسیت چھائی رہی پھر ابو نے تجویز کیا کہ مجھے دوبارہ امتحان دینا چاہیے۔ میں اس کے لیے تو آمادہ نہ ہو سکا پر بی اے کا نجی داخلہ پنجاب یونیورسٹی کو بھیج دیا۔ ادب، صحافت اور فارسی کو اختیاری مضمون کے طور پر رکھ کر تیاری شروع کی تو وہ ہفتے دس دن میں ہی ختم ہو گئی۔ فارسی کی ایک مختصر سی کتاب تھی، صحافت پر دو کتابیں تھیں جس میں لکھی شاید ہی کوئی ایسی بات تھی جو پہلے سے پتہ نہ تھی اور ادب کی تین کتابیں بہت بچگانہ لگیں کہ پنجاب پبلک لائبریری میں گزارے گئے وہ کئی سال مجھے اس مرحلے سے بہت آگے لے آئے تھے جہاں اس کتاب کا نشان منزل گڑا تھا۔ باقی رہے لازمی مضامین تو ان میں کوئی خاص مسئلہ نہ پہلے تھا نہ اب پایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند دن بعد میں اس پڑھائی سے بھی دور ہٹ گیا۔ امتحان ہوا، جامعہ پنجاب میں اس تقریبا نہ کی جانے والی تیاری کی بعد بھی پانچویں پوزیشن نے یہ واضح کر دیا کہ سوشل سائنسز کے مضامین میں میرا رجحان زیادہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ مجھے طبیعیات کے مضمون سے بھی عشق تھا اور ریاضی بھی دل کے قریب معلوم ہوتی تھی پر ان مضامین کی درسی کتب کے اسلوب سے ہم آہنگی کا کوئ سرا اس وقت تک مل نہیں پایا تھا۔

رجحان وغیرہ تو اپنی جگہ پر آگے کیا کیا جائے، اس بارے میں ہر راہ دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ بھیڑ چال میں انجینئیر بننے کی راہ تو مسدود ہو چکی تھی۔ کیرئیر رہنمائی کے لیے کونسلر نامی مخلوق ابھی پائی نہیں جاتی تھی۔ انٹرنیٹ کا وجود نہیں تھا اور اردگرد سب مجھ جیسے ہی تھے۔ پوچھیے تو کس سے پوچھیے اور کیا پوچھیے۔ گریجویشن اور ماسٹرز کے داخلے بیچ اس زمانے میں پورے ایک سال کا فاصلہ تھا۔ اس دوران آرٹس میں بی اے کرنے کے علاوہ ہر اس ڈگری میں جہاں درخواست بھیجنا ممکن تھا وہاں درخواست بھیج دی گئی۔ جہاں زمانے کی رو لے جائے۔ اس ضمن میں بھی کئی سخت مقام آئے۔ کچھ لطیفے بھی ہیں پر یہ کہانی کسی اور دن کے لیے۔

گھر اخبار تو آتا ہی تھا اس میں ایک دن آئی بی اے کراچی کے ایم بی اے پروگرام میں داخلے کا اشتہار نظر سے گزرا۔ داخلہ ایک معروضی امتحان کی بنیاد پر تھا جس میں شرکت کی واحد شرط گریجویشن میں پچاس فی صد نمبر تھے۔ یہ تو پتہ تھا کہ ایم بی اے اچھی ڈگری ہوتی ہے کہ ہمارے سابقہ استاد اور حالیہ دوست عقیل صاحب بھی پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہے تھے جہاں ہمارے داخلے کا کوئی امکان نہیں تھا کہ اسی پچاسی فی صد سے کم وہاں کا میرٹ نہیں تھا اور ہمارے دامن میں محض ایک سیکنڈ ڈویژن۔ آئی بی اے کے بارے میں البتہ کچھ پتہ نہیں تھا۔ بہرحال درخواست بھیج دی۔ 

کچھ دن بعد ہی ایم بی اے بینکنگ کا امتحان تھا۔ اشتہار کی ہدایات کی روشنی میں ہی اردو بازار سے معروضی امتحانات کی تیاری سے متعلق کچھ کتابیں خریدیں اور الٹی سیدھی تیاری کر کے کمرہ امتحان میں پہنچ گئے۔ ہفتے دس دن بعد نتیجہ آیا تو معلوم پڑا کہ نہ صرف امتحان میں مجموعی نمبر ایک خاص حد تک ضروری تھے بلکہ جزوی حصوں کا الگ الگ سکور بھی ایک خاص حد تک چاہیے تھا۔ اب ہمارے مجموعی نمبر تو اس حد سے بہت اوپر تھے۔ سارے جزوی حصوں میں بھی معاملہ ٹھیک تھا لیکن ایک جزو جو کہ بٹلر فیری ٹیسٹ کہلاتا تھا وہاں مطلوبہ نمبر چاہیے تھے بارہ اور میرے نمبر تھے گیارہ ۔ لیجیے اس بنیاد پر داخلہ مسترد ہو گیا۔ بٹلر فیری ٹیسٹ میں مختلف شکلوں کے درمیان مطابقت ڈھونڈنا مقصود تھا۔ تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بٹلر فیری کا یہ مخصوص ٹیسٹ بنیادی طور پر پلمبنگ یا سول انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا تھا۔ یا حیرت۔ کچھ پلے نہ پڑا کہ اس کا ایم بی اے کے رجحان کی پیمائش سے کیا تعلق تھا۔ خیر ، مایوس ہو کر بیٹھ گئے اور باقی بھیجی گئی درخواستوں میں سے کسی ایک کی قبولیت کے لیے دعائیں شروع کر دیں۔

تین ماہ گزر گئے۔ داخلہ تو کہیں نہ ہوا لیکن آئی بی اے کا ایک اور اشتہار آ گیا ۔ یہ ان کے مشہور عالم ریگولر ایم بی اے کے داخلے کا اشتہار تھا۔ معلوم ہوا کہ اس میں مقابلہ ایم بی اے بینکنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس کوئی اور انتخاب کہاں تھا۔ پھر درخواست بھیجی۔ پھر کمرہ امتحان میں پہنچے۔ پھر وہی ملتا جلتا معروضی امتحان اور اس میں وہی منحوس بٹلر فیری ٹیسٹ۔ اس دفعہ مجموعی نتیجہ پہلے سے بھی بہتر تھا۔ بعد میں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس سال ہزاروں امیدواروں میں بلحاظ مجموعی سکور میری دوسری پوزیشن تھی۔ ساتھ ساتھ معجزہ یہ بھی ہو گیا کہ بٹلر فیری میں بھی بارہ نمبر پورے پورے مل ہی گئے۔ ایک نمبر ادھر ادھر ہوتا تو خدا جانے آج میں کیا کر رہا ہوتا۔

اس طرح آئی بی اے کراچی جا پہنچے۔ ایم بی اے کس چڑیا کا نام ہے یہ تو معلوم نہیں تھا اور کئی سال سے پڑھائی کو بھی طلاق تھی پر ہوا یہ کہ پہلی ہی کلاس حساب کی تھی اور پہلا ہی سوال یہ تھا کہ اگر ایک دعوت میں اتنے مہمان ہوں، اتنے برتن ہوں، اتنے ویٹر ہوں، اتنے کھانے ہوں اور اتنا وقت ہو تو میٹرکس کا استعمال کر کے دعوت کی بہترین منصوبہ بندی کیونکر ممکن ہے۔ ارے، تو یہ میٹرکس اس لیے ہوتے ہیں ۔ دو چار دن میں ڈفرنسئیشن اور ویکٹر وغیرہ کا عملی اطلاق بھی معلوم ہوا تو ریاضی سے روٹھی محبت اچانک واپس آ گئی۔ درسی کتب پھر سے اچھی لگنے لگیں۔ اکاؤنٹنگ میں بھی وہی اعداد مل گئے جو بولتے تھے، پڑھنے والے سے کلام کرتے تھے۔  باقی مضامین بھی خود یہ بتانے لگے کہ زندگی میں ان کا کردار کیا ہے۔ ٹھوکر کھاتے کھاتے گویا اچانک راستہ مل گیا۔ آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ یہ طرز اور یہ طریق تعلیم کے ہر مرحلے پر اپنانے میں رکاوٹ کیا ہے۔

آئی بی اے کی داستان بہت طولانی ہے لیکن دو سال بعد کانووکیشن ہوا تو فنانس کے اختصاص میں پہلی پوزیشن اور اوور آل گولڈ میڈل دونوں میرے ساتھ تھے۔ پچھلے تعلیمی گناہ پورے خاندان کی آنکھوں سے دھل گئے اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہو گیا۔
اس پوری کہانی میں کوئی سبق ہے یا نہیں ، یہ تو میں آپ پر چھوڑ دیتا ہوں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میری زندگی کی راہ متعین کرنے میں ملک کے تعلیمی نظام نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ منظم تعلیم سے مجھے متنفر کرنے میں نصاب سے زیادہ عمل انگیز اور کچھ نہیں تھا اور میں جو بھی بنا ، وہ محض اتفاق ہی تھا۔ میرے وہ دوست جو بہت سارے نمبر سمیٹ کر بالآخر انجینئر بنے، آج ان میں سے نوے فی صد انجینئرنگ سے وابستہ نہیں ہیں اور جو ہیں ان میں سے بھی شاذ ہی کوئی خوش ہے۔ ہم سب وقت کی لہروں پر بہتے جن سمجھوتوں کے جزیروں میں جا پہنچے ہیں، انہی کو اب مقدر سمجھ لیا ہے۔ پر اس سوچ سے کیسے پیچھا چھڑائیں کہ کاش کہیں زندگی کے سمندر کے تھپیڑوں میں کسی مینارہ روشنی کا سہارا مل جاتا تو ہم بھی سچی خوشی اور حقیقی کامیابی کی دھوپ میں چمکتے کسی ساحل پر اتر سکتے تھے۔

Saturday, 9 October 2021

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم---اویس اقبال

 


اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم

یہ تیس اکتوبر 2009ء کا دن تھا اور مجھے جاوید احمد غامدی کے ساتھ جیو نیوز کے لئے یوتھ شو کی ریکارڈنگ کروانی تھی۔علامہ اقبال روڈ لاہور پہ واقع بظاہر خستہ حال عمارت کے اندر واقع اس سٹوڈیو میں اس سے پہلے میں اس شو کی پچپن اقساط ریکارڈ کروا چکا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ آج کی ریکارڈنگ اس شو کی آخری ریکارڈنگ ثابت ہو گی ۔

اس دن میرا موضوع یہ تھا کہ کیا جبلت سماج اور مذہب سے زیادہ قوی ہے۔معمول کے ابتدائیے کے بعد میں غامدی صاحب کی جانب مڑا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر ریس کورس پارک لاہور میں ایک جوان لڑکی کا ریپ ہو جاتا ہے تو معاشرہ اسکے ریپسٹ کو زیادہ سے زیادہ سزائے موت دے سکتا ہے ،خدا چاہے تو اسکے ریپسٹ کو اپنے حتمی مغفرت کے وعدے کے بر خلاف ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کا ایندھن بنا سکتا ہے مگر اگر خدا خود بھی چاہے تو کیا اس لڑکی کی عزت واپس لا سکتا ہے ۔غامدی صاحب کے مسکراتے چہرے پہ سنجیدگی عود آئی۔ایک توقف کے بعد انھوں نے ایک مختصر تقریر کر ڈالی جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس لڑکی کو روز قیامت خدا بخشش عطا کریگا اور اسے جنت میں بہت اعلی درجہ ملے گا ۔یہ جواب سن کہ میں زیر لب مسکرانے لگا۔ان کی اس بات پہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ایک مہمان طالبہ کہنے لگی کہ پھر تو وہ بھی ہیجان انگیز لباس زیب تن کر کے اپنا ریپ کروائے تو کیا وہ بھی جنت میں پہنچ جائیگی ۔جنت کسی محنت کا ثمر ہے یا پھر compensation میں حاصل ہونے والی جگہ ہے ۔

اس پر غامدی صاحب فرمانے لگے کہ اس لڑکی کو خدا کی اوور آل سکیم سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہاں پر میں نے لقمہ دیا کہ جس بد قسمت لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ،وہ پہلے قریبی جھاڑی سے ڈھونڈ کے اپنی شلوار پہنے،اپنی پھٹی قمیض پہ چادر لپیٹے ،پھر رکشہ کروا کے شادمان تھانے جائے اور اپنے ریپ کی ایف آئی آر کٹوائے ۔پھر وہی رکشہ لیکر باغ جناح میں قائداعظم لائبریری جائے اور آپ کی تصانیف میں بیان کردہ خدا کی گرینڈ سکیم کو سمجھنے کی کوشش کرے جس سے دیگر علماء کی اکثریت اتفاق بھی نہیں کرتی تو اس لڑکی کے لئے ریپ والے دن یہ مصروفیات کچھ زیادہ نہیں ہو جائینگی اور کیا آپ اپنے بیٹے کی شادی کسی ایسی لڑکی سے کرینگے اور کیوں مذہب ایسی خواتین کی نفسیاتی اور سماجی rehabilitation کے لئے خاطر خواہ اقدامات تجویز نہیں کرتا ۔

یہ سب سن کہ غامدی صاحب بپھر ہو گئے۔غصے سے انکا چہرہ لال بھبھوکا ہو گیا۔انھوں نے اپنا مائک اتارا اور سٹوڈیو سے باہر چل دیئے ۔انھیں ہماری پروڈکشن ٹیم نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔بلٹ پروف پجارو کے اندر ایک اور بلٹ پروف کیبن میں بیٹھے اور ایلیٹ فورس کی دو حفاظتی گاڑیوں کے ہمراہ واپس ڈیفینس ہاوُسنگ اتھارٹی میں واقع اپنے پر شکوہ بنگلے کی جانب روانہ ہو گئے ۔مجھے ایگزیکٹو پروڈیوسر عبدالروُف صاحب سے ہومیو پیتھک ڈانٹ پڑی اور اگلے اڑھائی ماہ میں جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں بطور پروڈکشن ایسوسی ایٹ تیس ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتا رہا جب تک کہ مجھے دنیا نیوز نے بطور نیوز اینکر ہائر نہیں کر لیا.

نومبر 2009ء کے وسط میں جیو لاہور کے انفوٹینمینٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک فیکس آیا جسے فیکس مشین سے میں نے نکالا۔یہ فیکس تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اس میں دو لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ایک نجم سیٹھی صاحب تھے جو ایک ملحد ہیں اور دوسرے غامدی صاحب تھے ۔اس دھمکی کے بعد وجود خدا کا منکر نجم سیٹھی تو پاکستان ہی میں رہا مگر جو غامدی صاحب خدا کو حفیظ اور غفوروالرحیم مانتے تھے ،وہ اپنا بوریا بستر لپیٹ کر خدا کی پناہ کی تلاش میں ملائیشیا روانہ ہو گئے اور تادم تحریر وہیں مقیم ہیں۔

دیگر علماء کے مقابلے میں غامدی صاحب بہت زیادہ ریشنل ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر میں خداناخواستہ مسلمان ہوتا تو شاید انھی کے کیمپ میں ہوتا۔اگر عمومی علماء کی گاڑی 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پہ کانپتی ہے تو غامدی صاحب کی گاڑی 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پہ کانپتی ہے مگر۔۔۔۔۔کانپتی ہے۔وہ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتابوں سے منتخب کردہ احادیث کو درست مانتے ہیں اور انھی احادیث کے راویوں کی دیگر احادیث کو ضعیف قرار دیکر مسترد کر دیتے ہیں ۔جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے۔وہ نتیجے پہ پہلے پہنچتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل مذہبی اور دیگر سورسز سے بعد میں تلاشتے ہیں جو یقیناً علمی بد دیانتی کے مترادف ہے۔علم الکلام کے ماہر ہیں اور زبان کی فصاحت و بلاغت پہ عبور رکھتے ہیں ۔ان کا ایک جملہ آج بھی مجھے کوچہ لکھنئو کی چاشنی سے متعارف کرواتا ہے”جب بابل میں سحر و ساحری کا غلغلہ ہو گیا تو خدا نے ہاروت اور ماروت کو بھیجا”۔لوگ غامدی صاحب کی روانی کو انکی منطقیت سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ انکی روانی میں موجود دلائل اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں ۔انکا کہنا ہے کہ آپ پہلے خدا کی ذات پہ ایمان لائیے اوراسکے بعد اسکے احکامات کی ریشنیلیٹی پہ سوال اٹھائیے۔حالانکہ ریشنیلیٹی سوالوں کے جواب پانے کے بعد خدا کی ذات پر ایمان لانے میں پنہاں ہے ۔

اسی کے اوائل میں جب وحیدمراد کا ستارہ روبہُ زوال تھا تو نشے کی حالت میں انکا ایکسیڈینٹ ہو گیا تو وہ آغا خان ہسپتال کراچی میں زیر علاج تھے۔ایک فلم پروڈیوسر انکی عیادت کرنے انکے پاس چلے گئے اور ان سے کہا کہ وحید تم جلدی سے ٹھیک ہو جاو پھر میں تمھیں فلم میں کام دے دونگا ۔وحید مراد نے جواب دیا کہ آپ مجھے فلم میں کام دے دیں ،مِیں جلدی سے ٹھیک ہو جاوں گا ۔کچھ یہی غامدی صاحب بھی کرتے ہیں اور اس خدائی دانش پہ ایمان کو مذہب کی ریشنیلیٹی سمجھنے کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں جو خود بقول انکے انسانی دانش کی محدودیت میں سمانے سے قاصر ہے۔اگر آپ ماضی کی کسی تحریر یا تقریر کا انھیں حوالہ دیں کہ جناب اب تو آپ کا موُقف کچھ اور ہے تو انکے ترکش میں ایک اور تیر بھی ہے۔کہیں گے کہ انسانی عقل ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے۔جب مجھ پہ اپنی غلطی واضح ہو گئی تو میں نے اپنی اصلاح کر لی ۔اس کو بھول جائیں کہ ماضی کے پیروکار ہدایت پانے میں کامیاب ہوئے یا موجودہ یا مستقبل کے ہونگے ،نکتہ صرف ایک ہے کہ حتمی الہامی دانش بھی علمائے دین کی رائے کو constant نہیں رکھ پاتی ۔

نظریہُ تقدیر پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔خدا مستقبل کاحال جانتا ہے مگر آپ مجبور محض نہیں ہیں کیونکہ اسکے علم کا آپ کے عمل پہ کوئی اثر نہیں پڑتا ۔میں نے عرض کی کہ حضور لیکن میرے عمل سے اگر اسکا علم تبدیل نہیں ہوتا تو پھر میں مجبورمحض ہی رہتا ہوں۔غامدی صاحب نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ تقدیر میں لکھا ہی یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ گھر سے باہر محنت کرنے کے لئے نکلیں گے تو دس روپے کمائیں گے ۔اگر نہیں نکلیں گے تو نہیں کمائیں گے۔میں نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ خدا نے کنڈیشنل تقدیر لوح محفوظ پہ لکھی ہے اور حتمی نتیجہ اسے بھی نہیں معلوم مگر اسکے باوجود غامدی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ خدا مستقبل کاحال تو جانتا ہے مگر انسان اپنے اعمال میں مکمل طور پہ خود مختار ہے یعنی اسے پتہ ہے کہ آپ دوزخ یا جنت میں سے کس میں جائینگے مگر پھر بھی وہ آپ کا امتحان لے رہا ہے ۔جانی جانی یس پاپا ایٹنگ شوگر نو پاپا ٹیلنگ لائز نو پاپا اوپن یور ماوتھ ہاہاہا ۔اسی پروگرام میں جوش خطابت میں یہ بھی کہہ ڈالا کہ اگر آپ قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے مگر خدائی دانش نے اپنی کسی مصلحت کے تحت اس قتل کو روک دیا تو بھی قتل کے مجرم آپ بارگاہُ خداوندی میں قرار پا جائینگے ۔جی ہاں دوبارہ پڑھئے اور سردھنئے۔

آج مِیں سوچتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں جب ہزاروں افراد عزرائیل کی وساطت سے عالم ارواح کے ٹرانزٹ لاونج میں قیامت کی فلائٹ اناونسمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں تو خدائی دانش کی کیا کسی بھی مصلحت کو خون ناحق نظر نہیں آیا اور جن ہلاک شدگان کی جوان بیٹیاں سورج نکلنے پہ منہ چھپائے گھر پہنچتی ہیں تو کیا انکا مستقبل مختلف نہیں ہو سکتا تھا تو اس کے جواب میں اسلام حکم دیتا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔غامدی صاحب کی کتاب میزان کے دیباچے میں درج ہے کہ وہ شیخ افضال کے ممنون ہیں جنھوں نے اس علمی کام کے دوران انھیں فکر معاش سے بے نیاز رکھا اور جیو کے سی ای او میر ابراہیم رحمان نے بھی غامدی صاحب کے صاحبزادے معاذ احسن کو جیو نیٹ ورک کا ڈائریکٹر پروگرامنگ اور پروڈکٹ ڈیویلپمینٹ ہیڈ تعینات کر رکھا ہے اور یوں میڈیا،بزنس اور مذہب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اہلیان پاکستان کی راہنمائی کا کٹھن فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

ایک اور غامدی پروگرام ہم نے عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے ریکارڈ کیا۔اس میں میں نے پوچھا کہ اگر سوُر کے گوشت میں وٹامن بی ون ،بی ٹو ،بی سکس ،بی ٹویلو کے علاوہ زنک اور سیلینیم جیسے معدنیات ہوتے ہیں جن کو کھانے سے دل کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد osteoporosis کا خطرہ بیف کی نسبت سولہ گنا کم ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ بیف حلال اور سوُر حرام ہے ۔غامدی صاحب نے فوراًجواب دیا کہ چونکہ سئور اپنی محرمات سے اختلاط کرتا ہے اس لئے وہ حرام ہے۔جبکہ گائے حلال ہے ۔مِیں نے پوچھا کہ کیا پاکستان میں پائی جانیوالی گائیوں اور بیلوں کے باقاعدہ نکاح پڑھائے جاتے ہیں تو اس پر وہ جز بز ہو گئے ۔جون 2015ء میں مجھے امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چھوٹے سے قصبے بلنٹس ٹاون جانے کا اتفاق ہوا ۔لنچ میں برگر کنگ کی آوٹ لیٹ سے بیکن برگر کھانے کا نادر موقع ملا۔بالکل بیف جیسا ذائقہ تھا اور اسکے بعد میری ماں یا بہن کے خیال نے میرے اندر کوئی شہوت بھی پیدا نہیں کی البتہ ایک گوری کے شبستاں سے متصل بہشت نے مجھے ضرور کچھ دیر کو بے چین کئے رکھا۔ عیدالاضحیٰ سپیشل کی ریکارڈنگ کےدوران پھر میں نے پوچھا کہ کیا مردار حرام ہے ۔غامدی صاحب نے فرمایا بے شک ۔تو پوچھا کہ مچھلی کیوں حلال ہے تو اس پر صدارتی استثنیٰ کی طرح قرانی استثنیٰ کو بیچ میں لے آئے۔پھر کہنے لگے کہ تمام گوشت خور درندے حرام ہیں ۔پوچھا کہ گینڈا تو سبزی خور ہونے کے باوجود حرام کیوں ہے ۔چلیں چھوڑیں اسکا خیال احکامات خوراک مرتب کرتے وقت خالق کائنات کو آیا نہیں ہو گا۔ یہ پروگرام جیو کے سنسر بورڈ نے کبھی آن ائیر نہیں جانے دیا جس کے اراکین میں اس وقت ارشاد احمد عارف اور نذیر لغاری شامل تھے۔

ایک اور پروگرام میں غامدی صاحب سے پوچھ بیٹھا کہ جناب حضرت آدم زبان کون سی بولتے تھے ۔ذہین آدمی ہیں۔ایک دم چونک گئے ۔مصنوعی بے اعتنائی سے کہنےلگے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔میں نے کہا جناب فرق یہ پڑتا ہے کہ جب کوئی کہانی بنائی جاتی ہے تو اس میں بہت سے لوپ ہولز رہ جاتے ہیں اور زبان آدم کا علم نہ ہونا بھی آپ کی کہانی کے لوپ ہول کی جانب اشارہ کرتا ہے۔آپ کو یہ علم ہے کہ آدم کی پسلی سے حوا پیدا ہوئیں۔شجر ممنوعہ کھانے جیسے مضحکہ خیز جرم پہ دونوں جنت سے نکالے گئے۔ان کے دو بیٹے تھے۔ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا نام قابیل تھا۔آپ کو یہ بھی علم ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا۔آپ کو یہ بھی علم ہے کہ قابیل کو ایک کوے نے تدفین کی راہ سجھائی۔مگر آپ کو یہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم زبان کون سی بولتے تھے ۔
How Convenient

اسلام کے اقتصادی نظام پہ پروگرام کا پہلا سوال یہ تھا اگر زکوٰة قیامت تک مسلمانوں پہ فرض ہے تو کیا اس فرض کی ادائیگی کے لئے اسلام کو غریبوں کی ایک کثیر تعداد درکار ہے ۔یعنی اسلام غربت کو ختم نہ کر سکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے ۔غامدی صاحب فرمانے لگے کہ زکوٰة ریاست کا ٹیکس ہے۔پوچھا کہ اب تک اسلامی جمہوریہُ پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو اس بات کا ادراک کیوں نہیں ہوا تو کہنے لگے کہ ہمیں پرفیکشن کے لٙئے کوشش کرنی چائیے تو میں نے کہا کہ اگر چودہ سو سال کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم راستہ بدل کہ دیکھیں۔غامدی صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھورا اور ریکارڈنگ کا وقت ختم ہو گیا۔چونکہ یہ پروگرام ریکارڈڈ ہوتا تھا لہذا اسے ایڈٹ ایسے کیا جاتاتھا کہ غامدی صاحب فاتح نظر آتے تھے مگر اسکے باوجود پوری دنیا سے مجھے ہیٹ میلز آتی تھیں اور خاص طورپہ یورپ ،امریکہ اور کینیڈا کے مسلمان مجھے ابلیس کا ایجنٹ قرار دیتے تھےاور ہر دوسری ای میل میں چینل انتظامیہ سے پرزور مطالبہ ہوتا تھا کہ اس ناہنجار کو فی الفور پروگرام ہوسٹنگ سے الگ کیا جائے۔

اسی طرح نیو ٹی وی پہ جب اوریا مقبول جان کے ساتھ حرف راز کرنے کا فروری تا جون 2016ء اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ ان کا اسلام غامدیت کو کفر سمجھتا ہے۔سکندریہ کی لائبریری آٹھویں صدی عیسوی میں قائم تھی۔پاکستان شرابی جناح نے اسلام کے نام پہ بنایا تھا۔لونڈیاں تب پاکستانی فوج کے لئے جائز ہونگی جب نظام عمر پاکستان میں قائم ہو گا ۔عرض کی کہ تب تک شہادت کے درجات اور نشان حیدروامتیاز جیسے اعزازات کی تقسیم بند کیوں نہیں ہوتی۔اس پر انھوں نے پاکستانی معاشرے کی مذہب سے دوری پر اظہار افسوس کرنا شروع کر دیا۔سنڈریلا کی فحاشی اوریا صاحب کی آنکھوں میں کھٹکھتی ہے مگر مفتوح عورتوں کی جانوروں کی طرح تقسیم کو وہ برحق سمجھتے ہیں۔آئی فون پکڑ کے امریکہ کو کوستے بڑے کیوٹ لگتے ہیں اور عینک پہن کر خدا کو پرفیکٹ creator بھی مانتے ہیں ۔انٹرنیٹ پہ جو مشہورکلپ ہے اس میں اوریا صاحب مخلوط نظام کی خامیاں گنوا رہے تھے۔عرض کی کہ جناب مقامات مقدسہ پر بھی تو مخلوط نظام exist کرتا ہے۔اس پر وہ آگ بگولہ ہوگئے ۔قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز گئے اور انھوں نے مجھ پہ توہین مذہب کا الزام تک عائد کر ڈالا ۔اس واقعےکے کچھ عرصے بعد میں چینل مینجمنٹ سے درخواست کر کے اس پروگرام سے الگ ہو گیا اور لوگوں کو دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد بتا بتا کر روزی روٹی کا سلسلہ آگے بڑھایا ۔

مندرجہ بالا واقعات سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ صرف دلیل ہی زہر مذہب کا تریاق ہے اور اگر مجھے مولانا مسعود اظہر کی طرح جان کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تو میں دنیا کے کسی بھی عالم دین سے مذہب کی حقیقت پر لائیو مناظرہ کرنے کو تیار ہوں اور اپنے معزز اساتذہُ کرام حضرت ول ڈیورانٹ رحمة اللہ علیہ ،سبط حسن،علی عباس جلالپوری،کارل سیگن،رچرڈ ڈاکنز،برائن کاکس اور نیطشے کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں اس بات کی قوی توقع رکھتا ہوں کہ مناظرے کے دوران دلائل سانسوں کی رفتار سے آتے رہیں گے مگر ایسا کوئی مناظرہ اول تو اہل مذہب کرنےپہ آمادہ نہیں ہونگے اور اگر ہوئے تو بعد میں توہین کے فتوے صادر کر کے اپنی مذہبی انانیت کی تسکین میں سرگرداں ہو جائینگے۔ایک بہی خواہ نے خوامخواہ مشورہ دیا کہ آپ احتیاطاً خدا کو مان لیجئے۔اگر مرنے کے بعد نہ نکلا تو ٹھیک مگر اگر نکل آیا تو آپ فائدے میں رہ جائینگے۔مجھے یہ مشورہ کسی اور سے ارینجڈ میرج سے پہلے محلے کی محبوبہ کی آخری بوسے کی درخواست معلوم ہوا۔میں نے جواب دیا کہ مذہب کا مقدمہ اگر اگر پہ ٹکا ہے تو پھر ہر دلہے کو اپنی دلہن کو باکرہ تصور کر لینا چائیے۔سہاگ رات پہ سفید چادر سرخ ہوئی تو ٹھیک نہیں تو کالج سپورٹس کے دوران پردہُ بکارت کے پھٹ جانے کی تسلی سے کاروان حیات آگے بڑھتا رہے گا۔اطیمنان سچائی پہ مقدم ہے اور مذہب لوگوں کو اطیمنان دیتا ہے۔سچ speculation سے بڑا ہوتا ہے اور جھوٹ دلیل کی مار نہیں سہہ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی فرقوں کے پھیلنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک افزائش نسل اور دوسری کنورٹس کا کم آئی کیو۔اگر گورے کی گواہی اسلام کی حقانیت کی دلیل ہے تو مولوی صاحب زیادہ گورے اسلام کو نہیں مانتے مگرلوگوں کے ملحد ہونے کی صرف ایک وجہ ہےاور وہ ہے عقل کا استعمال جس کے بعد ارتداد عقل کو پکارتے ہوئے وحید مراد کے دور عروج کا عکاس بن جاتاہے کہ اکیلے نہ جانا ہمیں 



جناب ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم احمد انجم صاحب

 جناب ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم احمد انجم صاحب ۔

سب سے پہلے تو مَیں آپ کو اس بڑے عہدے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ، جو کسی عام انسان کو نہیں مل سکتا ۔ اِسے حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے تو ماں کی دعا ، پھر پروفیشنل ازم ، اُس کے بعد ایمانداری ، محنت ،لگن ملک سے وفاداری ، بے داغ ماضی ، حلال کا رزق اور سب سے بڑھ کر اللہ و رسول کی قربت حاصل ہونا بہت ضروری ہے ۔ ظاہر ہے ایک ہی وقت میں اِن سب چیزوں پر ایک ولی اللہ کے سوا کوئی پورا نہیں اُتر سکتا چنانچہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ایک ولی اللہ بھی ہیں ۔
حضورِ والا مَیں پچھلے کئی دن سے دیکھ رہا ہوں کہ منافق اور چاپلوس قسم کے لوگ آپ کی جھوٹی موٹی تعریفیں کر رہے ہیں ۔ حالانکہ وہ آپ کو جانتے تک نہیں نہ آپ اُن کی برادری اور قوم قبیلے کے ہیں ۔
البتہ آج مَیں خود کئی روز کے پیش و پس کے بعد ایک بات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔ اِسے اب تک مَیں نے اِس لیے چھپائے رکھا کہ لوگ مجھے خوشامدی اور نہ جانے کیا کیا کہیں گے ، ابن الوقت اور جھاڑو چُک کا خطاب بخشیں گے ، حضور زمانہ خراب ہے یہی وجہ ہے کہ اتنے دنوں خموش رہا مگر مجھے آج میرے ضمیر نے سختی سے جھنجھوڑا کہ زمانے کے ڈر سے کیا تُو حق بات کو روک لے گا ؟ اِس لیے آج زبان پر لے آیا ۔
جناب ڈی جی آئی ایس آئی صاحب ۔ آپ کے ڈی جی بننے کے عین تین دن پہلے مجھے ایک خواب آیا کہ آپ کے کاندھوں پر ایک ٹینک لدا ہوا ہے اور
۔ یہ ٹینک بہت بڑا ہے ۔ جس کے وزن سے آپ پسینے میں نہائے ہوئے ہیں ۔ مگر آپ کے چہرے پر فتح مندی کا جزبہ پھوٹ رہا ہے ۔ آپ نے یہ ٹینک فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کے کلس پر لے جا کر رکھ دیا ہے ۔ اور اُس میں چار گولے ایک ہی وقت میں ڈال دیے ہیں ۔ اتنے میں پاکستان کی تمام خلقت گھنٹہ گھر کے ارد گرد جمع ہو گئی ہے اور آپ کے حق میں نعرے لگا رہی ہے ۔ آپ نے ایک دفعہ ہاتھ ہلا کر سب کے نعروں کا جواب دیا ہے اور ٹینک چلا دیا ہے ۔ مَیں یہ سب منظر ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے گرمیوں کی دوپہر کو سب کچھ نظر آتا ہے ۔ ٹینک سے چاروں گولے ایک ہی دم نکلتے ہیں ۔ اور مَیں دیکھ کر حیران ہوتا ہوں ۔ ایک گولہ نیویارک کے ڈاون ٹاون میں گرتا یے اور سارا نیویارک زمین بوس ہو جاتا ہے ، دوسرا گولہ دہلی میں گرتا ہے اور ہندوستان جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔ تیسرا گولہ اسرائیل پر گرتا ہے اور اُس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے ۔ چوتھا گولہ ہوا میں معلق ہو جاتا ہے اور آپ کی آنکھ کے اشارے کا انتظار کرتا ہے ، کہ جدھر کہے ،اُسی جگہ جا گرے ۔ مگر آپ اُسے ویسے ہی معلق چھوڑ کر گھنٹہ گھر سے نیچے اُتر آتے ہیں ۔ اِس سے مَیں یہ سمجھا کہ یہ اِس لیے معلق رکھا ہے کہ بعد میں اگر کوئی ملک ہینکی پھینکی کرے تو دوبارہ گھنٹہ گھر پر نہ چڑھنا پڑے نیچے سے ہی اشارہ کر کے اُس ملک پر گرا دیا جائے ۔ جناب، ڈی جی آئی ایس آئی صاحب یہ ہے وہ خواب جس کی تعبیر صاف یہ ہے کہ آپ کے آنے کے بعد آپ کی کوششوں سے ، موساد ، سی آئی اے اور را تو اپنے ملکوں سمیت ختم ہو کر رہیں گی البتہ معلق گولے کی تعبیر نہیں مل پائی کہ یہ کس کا گھنٹہ بجائے گا ۔
کل مَیں نے یہ خواب اپنے ایک دوست کو سنایا ، اُس نے اِس گولے کی ایک عجیب منحوس تعبیر بتائی اور کہا کہ یہ گولہ در اصل آپ جیسے ادیبوں ، شاعروں اور اقلیتی رائے رکھنے والوں کے لیے معلق رکھا گیا ہے کہ وقت آنے پر اُن کے پچھواڑے میں داخل کیا جائے ۔
جناب ڈی جی صاحب ، اب آپ سے کیا چھپا ہے ، آپ جانتے ہیں ، مَیں ہندوستان کا سخت دشمن ہوں ، پہلے جو کبھی کبھی فوج کے بارے میں ہذیان بکتا تھا وہ دراصل میری ذہنی نابلوغت کا نتیجہ تھا ۔ اب چونکہ مَیں بالغ ہو چکا ہوں ، آپ کے ملک میں رہتا ہوں ، آپ کی زمین پر بستا ہوں ، آپ کا کھاتا پیتا ہوں اِس لیے آپ سے بدتمیزی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اللہ آپ کو اِس سے بھی آگے ترقی دے ۔ یہ معلق گولہ یا تو اتروا لیجیے یا اس کے لیے برطانیہ مین کوئی جگہ ڈھونڈ لیجیے ، کہ وہاں ایم آئی سکس بھی تو آپ کے خلاف کام کرتی ہے ۔
جاتے جاتے ایک اور عرض کر دوں ، مَیں ایک بیروزگار شاعر اور ادیب ہوں ، اِدھر اِس پاک نگری میں کئی اداروں کی چئرمین شپیں آپ کے ایک اشارے میں ہمارے نام ہو سکتی ہیں ۔
اوروں کی طرف پھینکے ہیں گل بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک غریب شاعر اور آپ کا قصیدہ خواں
علی اکبر ناطق


Sunday, 3 October 2021

ٹیٹوال کے پل پر قید کتے  حاشر ابن ارشاد

ودھو ونود چوپڑا کی شکارا ہو، وشال بھردواج کی حیدر یا اعجاز خان کی حامد۔۔۔ بہت سے ہندوستانی فلمکاروں نے کشمیر کے انسانی المیے پر بات کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر کے دونوں جانب اور بالخصوص میڈیا میں اکثریت ان سنگ دلوں کی ہے جو کشمیر کی زمین اور پانی سے آگے کچھ دیکھ نہیں پاتے۔ ستر سالوں میں کشمیر طرفین کے سیاستدان اور ملٹری جنتا کے لیے ایک منافع بخش کاروبار رہا ہے اس لیے کوئی نہیں چاہتا کہ وحشت اور درد کا یہ کاروبار ٹھہر جائے۔ کچھ برس پہلے یہ کچھ خون کی بوندیں منٹو کی یاد میں کاغذ پر ٹپکی تھیں۔ دل کرے تو پھر سے پڑھ لیجیے گا ۔ ہم لوگ رو ہی سکتے ہیں اور تو کچھ بس میں نہیں ہے۔ 

ٹیٹوال کے پل پر قید کتے 
حاشر ابن ارشاد 

ٹیٹوال کے پل کے نیچے سے وقت کا بہت سا نیلم گزر گیا ہے پر کتے ابھی بھی پل پار نہیں جا سکے ۔ انہیں اس سے مطلب نہیں کہ کس پار اترنا ہے ۔ انہیں تو بس کنارا چاہئے۔ ہر پل کی طرح ٹیٹوال کے پل کے بھی دو سرے ہیں۔ ایک پر ترنگا لہرا رہا ہے۔ دوسرے پر چاند تارا روشن ہے۔ کتوں کو رنگ صاف نظر نہیں آتے۔ انہیں دھانی اور گیروے میں فرق پتہ نہیں چلتا ۔ ایک کتے نے ایک دفعہ چاول کی فصل دیکھی تھی ۔ اسے یاد ہے کہ زردی کیسے دن گزرنے پر سبز ہوتی تھی پھر اس سے سرمئی رنگ کیسے پھوٹتا تھا پر یہ سارے رنگ ایک ہی ڈنٹھل پر ٹہرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو ایک ہی وقت میں۔ رنگوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں تھا ۔ پر یہاں تو رنگ بھی نفرت کا استعارہ بنے ڈنڈوں پر لہراتے ہیں ۔ شاید یہ ڈنڈوں کی صحبت کا اثر ہے، بوڑھا کتا سوچتا ہے پر اسے پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ سمجھ آتی تو کتا تھوڑی کہلاتا ۔ پل پر کتوں کا ہجوم بڑھ گیا ہے۔ کتے کبھی ایک طرف جاتے ہیں ۔ کبھی تھوتھنیاں اٹھائے دوسری سمت دوڑتے ہیں۔ پر راستہ نہیں پاتے۔ بھاری جنگلے بند ہیں اور ان کے پیچھے صوبیدار اور جمعدار شست باندھے بیٹھے ہیں۔

پل کے دونوں جانب دو لاشے پڑے ہیں ایک کو چپڑ جھن جھن کہتے ہیں ۔ دوسرے کو پٹر سن سن ۔ سنا ہے سعادت حسن منٹو کے وقت میں ایک ہی لاشہ ہوتا تھا پھر دو ہو گئے ۔ شاید ان میں سے ایک دوسرے کا بھوت ہے پر دونوں سے ایک سی بساند اٹھتی ہے۔ اتنے برسوں میں ان کو گل کر پانی ہو جانا تھا پر کتے تھے، ڈھیٹ پنا موت کے بعد بھی قائم رہا ۔ ابھی بھی وہیں پڑے ہیں جہاں ستر برس پہلے گرے تھے ۔ پل کے کتے صرف ان کی نسل سے نہیں ہیں ۔ برسوں میں اتر، دکھن ، پورب ، پچھم اور ان دشاؤں سے جن کے نام ابھی رکھے نہیں گئے ، ان سب سے ہر نسل، ہر رنگ اور ہر قامت کے کتے ٹیٹوال آن پہنچے ہیں۔ سب کتے ایک طرح سے بھونکتے بھی نہیں ہیں ۔ کچھ خاموش طبع کتے ہیں کبھی کبھی اوف اوف کرتے ہیں پھر خود ہی سہم کر خاموش ہو جاتے ہیں ۔ کچھ کتے اونچے سروں میں بھونکتے ہیں پر دوسرے کتوں کے محض گھورنے پر چپ کر جاتے ہیں۔ کچھ کتے مسلسل بین کی کیفیت میں ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ بھونک رہے ہیں یا رو رہے ہیں پر دوسرے کتے اس پر کان نہیں دھرتے ۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ جو کتے ایک ساتھ آئے تھے وہ بھی اب مل بیٹھنے سے منکر ہیں۔ان کتوں میں سے کچھ ادھر سے آئے ، کچھ ادھر سے ۔ پل تک تو راستہ صاف تھا ۔ اب بھی ہے۔ پر دونوں جنگلے صرف پل کی طرف کھلتے ہیں۔ پل پر آنے کا رستہ ہے ، جانےکا نہیں ہے۔ سمتوں کے قیدی اب پل کے قیدی ہیں۔

کتے بھوکے ہیں ۔ پیاسے ہیں ۔ دریا بہت نیچے ہے۔ پانی نظر تو آتا ہے پر زبان اس تک پہنچ نہیں پاتی۔ جھنجلائے کتے ایک دوسرے پر غراتے ہیں۔ کچھ لڑ پڑتے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ بھوک ذہن ماوف کر دیتی ہے۔ سورج سوا نیزے پر چمکتا ہے تو دماغ گرم ہوجاتا ہے۔ ٹیٹوال پر ایک ہی موسم ہے برسوں سے ۔ تپتا جلتا موسم ۔ نہ بادل ہیں نہ بارش ہے نہ خنک راتیں ہیں نہ صبا کی سرسراہٹ ۔ ہر طرف سبز پوش پہاڑ تو ہیں پر نارسائی کی خلیج کے پرے ۔ انہیں دیکھ کتوں کا دیوانہ پن اور عود آتا ہے۔ وہ جنگلوں کی طرف لپکتے ہیں ۔ کچھ جنگلوں کو بھنبھوڑنا شروع کر دیتے ہیں پر منہ زخمی کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ باقی پھر آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔ روز کچھ کتے جان ہار دیتے ہیں۔ کتوں نے اب لاشوں کو نیلم برد کرنا سیکھ لیا ہے۔ وہ مل ملا کر لاش کو پل سے دھکیل دیتے ہیں ۔ لاش پل پر رہے تو یاد رہتا ہے کہ لڑنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے پر دریا میں بہہ جائے تو نئی لڑائیوں کے اکھاڑے اور نئی لاشوں کے ڈھیر کی جگہ بن جاتی ہے ۔ رات لمبی ہوتی ہے۔ ہر رات اندھیرے میں نجانے کہاں سے اور کتے پل پر آ جاتے ہیں۔ پل پر موجود کچھ کتے چاہتے ہیں کہ اور کتے اس پل کے اسیر نہ بنیں پر ساری راتیں اماوس کی ہیں اور کچھ ایسا آسیب ہے ٹیٹوال میں کہ کتے بھی اندھیرے میں دیکھ نہیں پاتے ۔ سو کب اور کتے آجاتے ہیں پتہ ہی نہیں لگتا ۔ رات کی تاریکی میں کتے کبھی اور گھبرا جاتے ہیں ۔ پھر لڑتے ہیں ۔ پھر مرتے ہیں اور قصہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔

پل کے ایک جانب صوبیدار ہمت خان کے خاندان کے جوان کھڑے ہیں تو دوسری جانب جمعدار ہرنام سنگھ کے پریوار کے کڑیل۔ کتوں کو ان کی شکلیں ایک سی لگتی ہیں۔ ہر ہر مہا دیو یا اللہ اکبر کا نعرہ نہ لگے تو الجھن اور بڑھ جاتی ہے۔ دن بھر پل کے چکر لگاتے کتے بھول جاتے ہیں کہ وہ خود کس طرف سے آئے تھے ۔ بہتوں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ آئے کیوں تھے۔ کڑیل اور جوان دونوں ہمہ وقت اس تماشے سے محظوظ ہوتے ہیں۔ جس دن لڑائی میں افاقہ ہو ، کسی ایک سمت سے ایک ہڈی اچھال دی جاتی ہے اور پھر وہ رن پڑتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ ۔ ہنستے ہنستے کڑیل اور جوان اپنی مچانوں سے گر پڑتے ہیں ۔

دونوں طرف بندوقیں ہیں ۔ پر بندوقوں کا رخ زیادہ تر کتوں کی ہی طرف رہتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی حوصلہ مند کتا جنگلا پھلاند کرپل کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے پر ایسا کم کم ہوتا ہے ۔ عام طور پر آگے والے کتے کو پیچھے والے خود ہی کھینچ لیتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس کو گرا لیں گے تو ان کا راستہ بن جائے گا۔ پر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے پیچھے والے بھی یہی سوچتے ہیں۔ اس ساری مارا ماری میں پھر بھی کبھی کبھی کوئی کتا آزادی کی جست بھر ہی لیتا ہے پر صوبیدار اور جمعداروں کے پریواروں میں ایک خاموش معاہدہ ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کتا پل کے کس جانب سے آیا تھا۔ وہ جہاں سے جب بھی باہر نکلے گا تو جس کی بندوق کی نال اس کے زیادہ قریب ہو گی وہیں سے گولی چلے گی۔ دونوں جانب سے ایسے کتوں کو ڈھیر کرنے کا اسکور تقریبا برابر ہے . پر صوبیدار ہمت خان کا خیال ہے کہ اب جمعداروں کا نشانہ کمزور پڑ رہا ہے۔

نشانے کمزور ہوں یا تاک کے بیٹھیں ۔ گولیاں کم ہیں ، کتے زیادہ ہیں پر کتوں کو یہ بات پتہ نہیں ہے۔ تو بس یہ قصہ ایسے ہی چلتا رہے گا اور کوئ بعید نہیں کہ ایک دن کتے اتنے بڑھ جائیں کہ پل بوجھ نہ سہار پائے ۔ پل بھی دریا برد ہو جائے اور سب کتے بھی ۔ رہ جائیں گے کناروں پر 

کھڑے نشانہ باز ۔ کس پر گولی چلے گی اور چلی بھی تو کنارے دور ہیں، بیچ میں ہی رہ جائے گی جہاں بس ایک خلا ہو گا اور دریا کا شور ۔۔۔۔۔

Urdu Poetry