Tuesday, 25 June 2019

میں بھی تو مشال ہوں



 سوچ کے قاتلو!
عقل کے دشمنو!
وحشیو، پاگلو!
خوف کے تاجرو!
بوالہوس شاطرو!
مجھ کو پہچان لو
غور سے دیکھ لو
عشق کا ابال ہوں
رقص ہوں، دھمال ہوں
گونجتا خیال ہوں
امن کا سوال ہوں
خوف کا زوال ہوں
حسن کا کمال ہوں
میں بھی تو مشال ہوں
میں بھی تو مشال ہوں

Monday, 24 June 2019

اسٹینڈنگ کمیٹیاں

اس وقت پاکستان کی قومی اسمبلی کی کل 33 اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، 2 سپیشل کمیٹیاں ہیں، 7پارلیمانی کمیٹیاں ہیں، 5 نان منسٹریل سٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان کی 34 اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہیں، 4 فنکشنل کمیٹیاں ہیں، 4 دیگر کمیٹیاں ہیں، 6سپیشل کمیٹیاں ہیں، 4ڈومیسٹک کمیٹیاں ہیں، 36 سیکریٹری کمیٹیاں ہیں۔ گویا کل ملا کر 131 کیمیٹیاں ہیں۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر کمیٹیوں کے ممبران اور ان کے چیرپرسنز کے اخراجات کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ تاہم سینیٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ایک کمیٹی کے چیئرمین کو درجہ ذیل مراعات ملتی ہیں۔
Salary Rs. 27,377
Sumptuary Allowance Rs. 5,000
Office Maint. Allowance Rs. 8,000
Telephone Allowance Rs. 10,000
Honorarium Rs. 12,700
Adhoc Relief (2010) Rs. 11,903
15% Adhoc Relief (2011) Rs. 3,571
20 % Adhoc Relief (2012) Rs. 5,475
10% Adhoc Relief (2013) Rs. 2,738
10% Adhoc Relief (2014) Rs. 2,738
Total: Rs. 89,502

اس کے علاوہ ماہانہ 360 لیٹر پٹرول، گریڈ 17 کا ایک پرائیویٹ سیکریٹری، گریڈ 15 کا ایک اسٹینو گرافر، ایک ڈرائیور اور ایک نائب قاصد۔ سالانہ تین لاکھ کے سفری واوچرز، سلانہ بیس بزنس کلاس ریٹرن ائیر ٹکٹس، سینیٹ کے سیشن اور کمیٹی کی میٹنگ پر 1750 روپے ڈیلی الاوئنس، 3000 روپے ڈیلی الاونس سپیشل، 2000روپے کنوینس الاونس، 2000 ہاوسنگ الاونس۔ مفت ٹیلی فون، مفت میڈیکل کی سہولت بمعہ بیگم یا شوہر، اور 1300 کی ایک گاڑی۔ سال میں 130 دن کے سیشنز لازمی ہیں۔ گویا اس طرح کل ملا کر ایک چیرمین کمیٹی پر سالانہ تقریباََ 3800000 خرچ ہوتے ہیں۔ بطور ممبر ایک سینیٹر کی تنخواہ 76802 ( سالانہ921624)، تین لاکھ کے سفری واوچرز، اور 130 دنوں کا 137500 کا الاونس بھی شامل کر لیجیے۔اس میں مہیا کیا گیا سٹاف کی تنخواہ شامل نہیں، میڈیکل بلز کا کوئی تخمینہ نہیں شامل نہیں ہے اور نہ ہی دفتر کی تزئین و آرائش، فرنیچر، اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ یوں کل ملا کر ایک سٹینڈنگ کمیٹی کا چئیرمین تقریباََ سالانہ 5000000 سے 6000000 میں عوام کو پڑتا ہے۔ دیگر کمیٹیوں کے اخراجات کی تفصیل موجود نہیں تاہم قرین قیاس یہی ہے کہ قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹییوں کے چئیرمینوں کی مراعات بھی اتنی ہی ہوں گی۔ گویا کمیٹی ممبران کی مراعات سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر صرف 67اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چئیرمینوں کی مراعات کا سالانہ تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم 335000000 سے 402000000 سالانہ بنتی ہے۔ یوں قومی اسمبلی کے 342 ممبران اور سینیٹ کے 104 ممبران کی مراعات کا تخمینہ بھی لگا لیجیے۔ اب اس میں اگر اس میں سدگر قائمہ کمیٹیاں ان کے اخراجات، 50 وزیروں اور مشیروں کے اخراجات شامل کر لیں، ان کے مراعات اور وزیراعظم ہاوس کے اخراجات، پروٹوکول، سیکیورٹی روٹس، خصوصی طیارہ، بیرونی دوروں کے اخراجات بھی شامل کر کے اندازہ لگائیں کہ کتنا مزید ٹیکس عوام پر لگنا چاہیے۔
اب ایسا نہیں ہے کہ مراعات صرف موجودہ حکومت کی دین ہیں۔ یہ نظام ایسا ہی چلتا رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی بالکل ایسا ہی چل رہا ہے۔ یہ اخراجات سالانہ اربوں میں ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس صورتحال میں جب ملک کے ہینڈسم کا ہیلی کاپٹر 55 روپے کلومیٹر میں چلتا ہے، دس بھینسیں نیلام کی جاتی ہیں، صدر کی رہائش کی آرائش و زیبائش کے لئے کروڑوں روپے کے ٹینڈر دئیے جاتے ہیں تو ” عمران خان دے جلسے وچ نچنے دا دل کرن والے“ ننھے انقلابی تبدیلی کا راگ الاپتے ہیں یا ملک کی دیگر جماعتوں کے سربراہان کو گالیاں دیتے تو تکلیف ہوتی ہے۔ دس ماہ میں قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ خان صاحب وہی معاشی اور سیاسی ٹیم لے کر آئے جس پر چوری کے علی اعلان الزامات لگایا کرتے تھے۔ ایسے میں دس ماہ سے انتقامی سیاست کر کے عوام کو جس چوری اور احتساب نامی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے، اس میں سے اگر زرداری اور نوازشریف پر اتنا بھی پیسہ ثابت ہو جائے جتنا پارلیمانی مراعات و الاونسس پر خرچ ہوتا ہے تو تاریخ یاد رکھے گی۔ مگر یہ ہو کر نہیں دے گا۔ آپ لکھ لیجیے کہ زرداری اور نوازشریف نہ صرف پہلے جیسے چھوٹ کر آئیں بلکہ صاف شفاف ہو کر اسی پارلیمان کی زینت بنیں گے۔ اس لئے ازراہ کرم اس تبدیلی نامی ناسور کو بلاک ماریئے اور سکون کرئیے۔ تبدیلی کی پہلی اور آخری واری ہے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ ایک میاں اظہر بھی ہوا کرتا تھا؟ برساتی مینڈکوں کی عمریں اتنی ہی ہوتی ہیں۔

دیسی لبرل، لنڈے کے لبرل اور ملحد لبرل

حاشر ابن ارشاد

دیسی لبرل، لنڈے کے لبرل اور ملحد لبرل جیسی اصطلاحات تو ہمارے پسندیدہ بیانیے کے نقیبوں کی نوک زبان پر یوں بھی دھری ہیں۔ گرد اتنی اڑائی گئی ہے کہ اب کسی کو یاد بھی نہیں کہ لبرل ہے کون۔ لبرل فلسفہ اور بیانیہ اصل میں کیا ہے، اس پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی تعریف ایجاد کر لی ہے اور ہر نئی تعریف پچھلی سے زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ اور کچھ نہیں سوجھتا تو لکیر کے دونوں جانب پیر رکھے دانشور ایک ہی سانس میں مذہبی شدت پسند کو ایک خود ساختہ لبرل شدت پسند کے ساتھ کھڑا کر کے چاند ماری کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مقصود محض یہی ہے کہ لوگ اعتدال پسندی کا شاہکار صرف انہی کو سمجھیں جو ایک سانس میں شدت پسندی کو لبرلز اور ملا پر چسپاں کر سکیں۔ کوئی یہ پوچھے کہ شدت پسندی کس چڑیا کا نام ہے تو جواب عنقا ہے۔

ملا کی شدت پسندی کے مظاہر ہم دیکھ چکے ہیں۔ ستر ہزار لاشوں کا تحفہ لبرلزم نے عنایت نہیں کیا ہے۔ سرکاری اور نجی املاک کو نذر آتش کرنے والے کون سے لبرل ہیں۔ لڑکیوں کے سکول بم سے اڑانے والے بھی اپنے آپ کو لبرل نہیں کہتے۔ بینظیر کی موت ہو، ملالہ پر حملہ ہو یا اے پی ایس میں لہو ہوئے بچے ہوں، کوئی بندوق کسی لبرل کے ہاتھ میں نہیں پائی گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے پورے پاکستان کو بند کرنے والے بھی لبرل نہیں تھے۔ تو ان شدت پسندوں کے مقابل، جن کے پاس ڈنڈا بھی ہے، تلوار بھی، بندوق بھی اور بم بھی، جو جب چاہیں قتل کا فتویٰ دے سکتے ہیں، ہر شاہراہ بند کر سکتے ہیں، سر عام کسی کو سنگسار کر سکتے ہیں، آگ میں جلا سکتے ہیں، گولیوں سے بھون سکتے ہیں، ان کے مقابل آپ جانتے ہیں لبرل شدت پسند کیا کر سکتا ہے۔

وہ بیچارہ ڈرتے ڈرتے ایک کالم لکھ سکتا ہے جسے کوئی چھاپتا نہیں ہے۔ وہ ایک تقریر کر سکتا ہے جس کے بعد نامعلوم افراد اسے گھر سے اٹھا سکتے ہیں۔ وہ بہت ہمت کرے تو پندرہ بیس لوگ اکٹھے کر کے پریس کلب کے باہر ایک مظاہرہ کر سکتا ہے جس کو کوئی میڈیا کا نمائندہ کور نہیں کر سکتا۔ وہ انتخابات میں اپنا بیانیہ سنانے کی پاداش میں اپنے پر کفر کے فتوے لگوا سکتا ہے۔ وہ سچ کی تفہیم کے جرم میں اورتوہین کے الزام میں اپنی جوانی جیل میں کاٹ سکتا ہے۔

وہ صرف اپنا فرض نبھانے کی کوشش میں اپنے سینے میں بتیس گولیاں کھا سکتا ہے۔ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس نفرت میں جھلستا ہوا ہجوم نہیں ہے۔ بم اور بندوق تو دور، اس کے پاس تو ایک چھوٹا چاقو بھی نہیں۔ ہے۔ اس کے پاس فتوے نہیں ہیں۔ اس کے پاس منبر نہیں ہے۔ اس کے سر پر دستار نہیں ہے۔ اس کی زبان پر مہر لگی ہے، اس کے الفاظ پر صاحب اختیار روز سیاہی پھیرتے ہیں۔ لیکن صاحب پھر بھی وہ شدت پسند کہلاتا ہے۔ عوام کی آنکھ میں اسے فاشسٹ بنا دیا گیا ہے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ قلم کو تلوار سے بڑا ہتھیار کیوں کہتے ہیں۔ دانشوران ملت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ شدت پسند کی تلوار سے زیادہ تباہی لبرل کے قلم میں ہے۔

لبرل

ہمارے یہاں دائیں بازو، مذہب پرست، عسکریت پسند اور آمرانہ سوچ کے حامل ذہن نے اپنے لیے ایک خود ساختہ ولن بنایا۔ اس کی صفات کا فیصلہ کیا پھر اس ولن کا نام لبرل رکھ دیا۔ اس کے بعد اس ذہن نے جہاں بھی اپنے سے متصادم سوچ دیکھی اسے لبرلزم کے کھاتے میں ڈال دیا۔ ان میں سے کسی نے جان لاک، جان سٹیورٹ مل یا رچرڈ پرائس کا نام نہیں سنا۔ کسی کو قدیم یونان میں جنم لینے والی لبرل روایات کا علم نہیں ہے۔ کوئی یہ نہیں جانتا کہ آج جس پارلیمانی نظام کے باعث عام آدمی کو آواز ملی ہے وہ اسی لبرلزم کی دین ہے۔
عجب معاملہ ہے کہ لوگ باگ پرویز مشرف کو لبرل کہتے ہیں۔ بھلا کوئی آمر لبرل کیسے ہو سکتا ہے۔ لبرلزم تو آمریت کے خلاف سب سے مضبوط استعارہ ہے۔ ایک دوست لبرل پارٹی کی مثال دیتے ہیں تو سب سے پہلے ایم کیو ایم کا نام لیتے ہیں۔ کون ان کو بتائے کہ فاشزم اور لبرلزم کے ہجے مختلف ہوتے ہیں۔ فرق سمجھیے۔ عبدالستار ایدھی، راشد رحمان اور ملالہ یوسفزئی لبرل ہیں پر پرویز مشرف، الطاف حسین اور یحیی خان لبرل نہیں ہیں۔
ذرا زحمت کیجیے، لبرلزم کے بارے میں دو چار صفحات پڑھ لیجیے۔ کچھ لبرل اقدار پر نظر ڈال لیجیے۔ کلاسیکل اور جدید لبرلزم کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ آمریت اور جمہوریت کی کشمکش کو اس کے درست تناظر میں دیکھیے۔ مذہبی استحصال اور مذہبی اخلاقیات کو الگ کرنا سیکھ لیجیے۔ پھر آئیے۔ لبرلزم پر بات کرتے ہیں۔ پھبتیاں کسنا، بے ہودہ مفروضے بنانا اور بے بنیاد طنز و تشنیع کا دفتر کھولنا محض اس امر کا اظہار ہے کہ آپ کے پاس علمی اور تحقیقی سطح پر کہنے کو کچھ نہیں ہے اور آپ صرف کچھ ایسے خطیبوں کے مقلد ہیں جن کے منہ میں زبان تو ہے پر کاسہ سر میں دماغ نہیں ہے

محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کی بابت چند نئے پہلو بتائیں

آئیں آپ کو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کی بابت چند نئے پہلو بتائیں ۔
محمد بن قاسم کا حملہ ایک تاریخی جائزہ
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس سلسلے میں چچ نامہ کی بھی مدد لی جاتی مگر چچ نامہ میرے پاس موجود نہیں اِس لئے زیادہ تر اس لئے اس سلسلے میں زیادہ تر تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کے ان حصوں پر انحصار کیا ہے جو خلافت بنو امیہ کے بارے میں ہیں تاریخ طبری اور تاریخ ابن خلدون کا اردو ترجمہ نفیس اکیڈمی نے چھاپا ہے
محمد بن قاسم کے سندھ حملہ کے لئے سب سے بڑا کردار حجاج بن یوسف ہے پہلے اس کے بارے میں تھوڑا سا تعارف کروا لیتے ہیں
اس سلسلے میں جناب طالب ہاشمی کی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے کتاب سے مدد لی گئی ہے
حجاج بن یوسف وہ جرنیل تھا جس نے اموی خلیفہ کے لئے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا جہاں ایک صحابی رسول جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی۔ حجاج بن یوسف نے اس حملے میں خانہ کعبہ پر منجیق کا استعمال کیا جس سے خانہ کعبہ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے اور حواری رسول حضرت زبیر کے فرزند تھے یہ پہلے بچے تھے جو ہجرت مدینہ کے بعد کسی مہاجر مسلمان کے گھر پیدا ہوئے مدینے میں یہ افواہ مشہور تھی کہ یہودیوں نے مہاجرین مسلمانوں پر جادو کر رکھا ہے اس لئے ان کے گھر اولاد نہیں ہوگی جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش ہوئی تو حضور پاک صٖلی علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ مل کر خوشی سے نعرہ بلند کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو اس زمانے میں خود چھوٹے بچے تھے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر موجود تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پرورش ان کی خالہ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کی تھی کیونکہ ان کی اپنی اولاد نہیں تھی اس لئے حضرت عبداللہ بن زبیر کی نسبت سے اپنی کنیت ام عبداللہ کیا کرتی تھی
یہی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے جن کو مکے میں خانہ کعبہ کے اندر 687 عیسوی میں حجاج بن یوسف کی فوج نے شہید کیا اور ان کی شہادت پر خوشی سے نعرہ بلند کیا حجاج بن یوسف اور اس کے فوجیوں نے بہت خوشی منائی۔اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور اکرم صٖلی علیہ و سلم اور ان کے صحابہ کی خوشی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ کائنات کی افضل ترین ہستیاں تھیں جنہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدا ئش پر خوشی منائی تھی۔حجاج بن یوسف کے حکم پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو حدود حرم میں ہی سولی دی گئی تین دن بعد ان کی ضعیف والدہ حضرت اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مِنت سماجت پر ان کو سولی سے اتارا گیا اس موقع پر حجاج بن یوسف نے ضعیفہ کی سخت تضحیک کی۔ یہ حجاج بن یوسف کا ایک ابتدائی تعارف ہے جو طبری اور ابن خلدون کے علاوہ بھی تمام کتب میں موجود ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تبصرے سے بھی حجاج بن یوسف کے دل میں گرہ لگ گئی اور وہ ان کی عیادت کو گیا تو اس کے ایک سپاہی نے نیزے کی زہر آٖلود انی ان کے پاؤں میں چھبو دی جو ان کی شہادت کا باعث بنی۔
حجاج بن یوسف اس کے بعد خلافت بنو امیہ کی طرف سے کوفہ اور بصرہ کا گورنر بنا۔
اب اس پورے قصے کا دوسرا اہم کردار جناب امام حسن مثنی کا کردار ہے جس پر ہماری تاریخ میں بہت کم ذکر کیا گیا ہے۔ حسن مثنی حضرت علی کرم اللہ وجہ کے پوتے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ وہ معرکہ کربلا میں شریک تھے اور ان کے ننھیال والے کوفے کے رہنے والے تھے جب ان کے ماموں کو معلوم ہوا کہ کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے خاندان والوں کو گھیر لیا گیا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کربلا پہنچے تب کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے ساتھی شہید ہو چکے تھے جناب حسن مثنی کے ماموں نے شہدائے کربلا میں جب حسن بن مثنی کو تلاش کیا تو وہ زخمی حالت میں میدان کربلا میں پڑے تھے جن کو یزیدی فوج نے غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے جناب حسن مثنی کا علاج کروایا اور وُہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے جہاں آپ کی شادی حضرت امام حسین کی بیٹی فاطمہ صغرٰی اللہ اُن سے راضی ہو سے ہوئی جو بیمار ہونے کی وجہ سے کربلا نہیں جا سکی تھیں اور مدینہ میں ہی مقیم رہی تھیں۔ اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خارج نہیں ہوگی کہ جناب حسن مثنی کراچی میں مدفون عبداللہ غازی کے پڑدادا تھے اس کے علاوہ یہ گیلانی سادات سمیت سادات اہل سنت کے بہت سے خاندانوں کے جد امجد تھے۔ یہ بات تاریخ طبری یا ابن خلدون میں موجود نہیں مگر کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے اور ان میں تجارتی تعلقات قائم تھے۔ جو بعد میں امام حسن رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بہت وسیع ہوگئے تھے اور ان کے بعد جناب حسن مثنی کے تجارتی قافلے وادی سندھ جاتے تھے۔ جس سے ان کے سندھ میں کافی تعلقات موجود تھے۔
اس قصے کے تیسرے کردار عبدالرحمن بن اشعت ہیں
حجاج کے ظالمانہ رویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت اموی سالار عبدالرحمن بن اشعت نے کی۔
وہ ترکستان کے محاذ پر زنبیل کے خلاف بر سر پیکار تھا۔ اس نے مفتوحہ علاقہ کا انتظام درست کرنے کے لیے تھوڑے عرصے کے لئے جنگ و جدل ملتوی کیا جس پر اس کے اور حجاج کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے حجاج بن یوسف جلد سے جلد کابل کی فتح کرنا چاہتا تھا اس لئے حجاج نے اسے ایک نہایت سخت خط لکھا عبدالرحمن بن اشعت اور حجاج بن یوسف میں تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ 701 عیسوی میں عبدالرحمن بن اشعت نے بغاوت کا اعلان کر دیا، اس نے خلافت راشدہ کی بحالی کا نعرہ لگایا اور مدینے میں پہلے جناب زین العابدین سے رابطہ کیا اور ان کے انکار پر جناب حسن مثنی سے رابطہ کیا ، جنہوں نے آمادگی ظاہر کی اور عبدالرحمن اشعت نے ان کے نام پر بیعت شروع کردی اس نے زنبیل سے صلح کر لی اور عراق واپس لوٹ کر بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے شامی فوجوں کی مدد سے ان کا مقابلہ کیا تو شکست کھائی اور صورت حال اموی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔ حجاج نے مہلب بن ابی صفرہ کی مدد سے پھر مقابلہ کیا اور ابن اشعث نے عارضی پسائی اختیار کی اور لوٹ کر کوفہ پر قبضہ کر لیا۔ اب حسن بن مثںی کا نام سن کر اہل بیت کے ماننے والے جمع ہوگئے تھے صورت حال اموی حکومت کے لئے اتنی مشکل ہوگئی تھی کہ خلیفہ وقت عبد الملک خود میدان میں نکل آیا حجاج، مہلب بن ابی صفرہ اور عبد الملک کی متحدہ فوجوں نے کوفی لشکر کو شکست دی اور ابن اشعث کو زنبیل کے پاس پناہ لینی پڑی۔ حجاج نے زنبیل کو لکھا کہ اگر تم ابن اشعث کا سر کاٹ کر بھیج دو تو دس سال کا خراج معاف کر دیا جائے گا۔ زنبیل نے حجاج کی اس پیش کش کو مان لیا اور ابن اشعث کو قتل کر ڈالا ۔701 عیسوی سے 704 عیسوی تک جنگوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
‎فتح کے بعد حسن مثنی کو سولی دی گئی اور ان کے لاتعداد پیرکاروں کو موت کے گھات اتار دیا گیا۔ اس وجہ سے حسن مثنی کے بعض ساتھیوں نے سندھ جا کر راجہ داہر کے پاس پناہ لی
‎حجاج بن یوسف نے ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو واپس کیا جائے ۔راجہ داہر نے اِن افراد کو جِن میں ہاشمی اور سادات بھی شامل تھے،حجاج بن یوسف کے حوالے کرنے سے انکار کردیا کہ یہ سندھ کی روایات کے خلاف تھا
اس قصے کا ایک اور کردار محمد غلافی اور اس کے ساتھی تھے مکران پر 644 عیسوی میں عربوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔
مکران میں ایک علافی قبیلہ تھا حجاج کے مقرر کردہ گورنر سعید نے علافی قبیلے کے ایک فرد سفہوی بن لام الحمامی کو قتل کر دیا، جواب میں علافی قبیلے والوں نے سعید کو قتل کر دیا،اس کے جواب میں حجاج نے علافیوں کے کئی لوگوں کو قتل کروایا۔ اس کے علاوہ حجاج نے اپنے نئے گورنر کو کہا " علافیوں کو تلاش کرنا اور ہر علافی کو قتل کرکے سعید کا انتقام لینا "۔ اسی وجہ علافی قبیلہ کے سردار محمد بن علافی نے اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کر راجا داہر کے ہاں پناہ لینے آ گئے۔ تو راجا داہر نے اسے اپنے ہاں پناہ دی اور اپنی فوج میں اسے عہدہ بھی دیا۔
‎سندھ قدیم زمانے میں ساسانی حکومت کا حصہ رہا تھا ، کیونکہ عربوں نے ساسانی سلطنت پر قبضہ کرلیا تھا اس لئے وہ سندھ کو اپنی سلطنت کا ایک حصہ سمجھتے تھے جس پر قبضہ کرنا باقی تھا
‎یہ وہ زمانہ تھا جب عرب تاجر اردگرد کے ملکوں میں تجارت کر رہے تھے جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ سندھ کے لوگوں سے عربوں کے ساتھ بڑے مضبوط تجارتی تعلقات تھے مگر حجاج بن یوسف کے دور میں کشیدگی آگئی تھی۔ مگر دوسرے ممالک خصوصا سری لنکا وغیرہ کے ساتھ عرب تاجروں کا بہت تجارتی تعلق تھا۔ اس زمانے میں میدھ قوم کے لوگ سمندر میں راہزنی کرتے تھے ان ڈاکوؤں نے ایک عرب تجارتی جہاز کو لوٹ لیا اس پر حجاج بن یوسف نے ایک اور مطالبہ کر دیا کہ ان سمندری راہزنوں کے خلاف کاروائی کی جائے راجہ داہر نے کہا کہ ڈاکوؤں کو پر میرا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہم ان کی تلاش کر سکتے ہیں۔
حجاج بن یوسف نے 710 ء میں عبید اللہ کی قیادت میں ایک فوج بھیجی لیکن اسے شکست ہوئی۔ اگلے سال دوسری مہم بدیل کی سرکردگی میں بھیجی گئی لیکن اسے بھی راجا داہر کے بیٹے نے شکست دی۔ ان دونوں مہمات کی ناکامی کے بعد عرب حکومت کے وقار کو بحال کرنے کے لیے سندھ کی فتح ناگزیر ہو گئی تھی۔ اس لیے حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے اس کی اجازت حاصل کی۔
‎ان تمام حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ پر محمد بن قاسم کا حملہ کوئی کفر اور اسلام کی لڑائی نہیں تھی بلکہ یہ بنو امیہ کی سلطنت کے مفادات تھے جن کے لئے سندھ پر حملہ کیا گیا۔ راجہ دائر کی فوج میں بہت سے مسلمان موجود تھے محمد غلافی فوج کے ایک حصے کا کمانڈر تھا اور یہی وہ شخص تھا جس نے عربوں کے آتشی تیروں کا توڑ نکالا تھا۔ محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ اسلام کی تبلیغ کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ عرب ملوکیت کے مفادات کے تحفظ کے لئے تھا اور اس کا ایک مقصد عرب کے تجارتی راستے کو محفوظ بنانا تھا اور دوسری طرف بنو امیہ کے ان مخالفوں کو گرفتار کرنا تھا جو سندھ میں پناہ لے چکے تھے۔
‎اس کے بعد جب سلیمان کا دور آیا تو اس نے پوری دنیا میں حجاج کے بھیجے لشکروں کے مظالم کی تحقیق کی اور اسی لئے اس نے سندھ سے محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بلایا اس کے مظالم کی وجہ سے اس پر خلیفہ کے مقرر کردہ قاضی نے مقدمہ چلایا اور اسے سخت سزا دی۔ یہ ساری باتیں ہم تاریخ سے حذف کر دیتے ہیں سلیمان کو ایک طرف ہم اس بات پر داد دیتے ہیں کہ اس نے اپنے جانشین کے طور پر عمر بن عبدالعزیز کو نامزد کیا تو دوسری طرف ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے عرب ملوکیت کی فتوحات کو بریک کیوں لگادی اور فاتحین کے مبینہ مظالم، کرپشن اور بے اعتدالیوں کو معاف اور نظر انداز کرنے کی بجائے مقدمے کیوں چلانے شروع کئے۔
بشُکریہ داؤد ظفر ندیم بھائی

Urdu Poetry