Monday, 21 March 2022

پرچہُ اسلامک فزکس

 

یونیورسٹی آف کراچی
اسلامک فزکس(III)
ایم ایس سی (پارٹ ٹو)
نیو کورس 2022
وقت : تین گھنٹے
کل نمبر :100
نوٹ : کوئی سے پانچ سوا لات کے جواب تحریر کریں۔تمام سوالوں کے نمبر مساوی ہیں ۔
سوال نمبر ایک -
(الف) آئن سٹائن کے نظرئہ اضافت کی روشنی میں حوروں سے مباشرت کے ہزاروں سال کس طرح Time Dilation کے نتیجے میں زمین پر چند لمحوں کے مساوی ہوتے ہیں ۔روشنی ڈالیں ۔ (10)
(ب) اگر ایک مولوی مدرسے کے ایک بچے کو سترہ منٹ میں اپنی درندگی کا نشانہ بناتا ہے تو سترہ بچوں کو وہ کتنی دیر میں بےآبرو کریگا اگر اس کا عضو تناسل 1796 سیکنڈز میں دوبارہ ایستادگی پہ آمادہ ہوتا ہے اور ہوا اور شلوار میں نمی کا تناسب 60:40 کے مساوی ہے ۔ (10)
سوال نمبر دو ۔
(الف) اگر مولوی کے حجرے کی لمبائی تئیس فٹ ہو تو جائے پاخانہ اور جائے استراحت میں کم از کم فاصلہ Brownian Movement کی روشنی میں کتنا ہونا چائیے کہ بساند بوقت طعام طبعیت میں گرانی نہ پیدا کرے ۔ (10)
(ب)اگر تین کلو کا کوا دو کلو کے کوے کو انیس منٹ میں سپرد خاک کرتا ہے تو ساٹھ کلو کا قابیل پچپن کلو کے ہابیل کو کتنی دیر میں سپرد خاک کر سکتا ہے اگر اس کے پاس چونچ یا بیلچے کی سہولت میسر نہ ہو اور مٹی میں ایلفا Decay کے بعد نمی کا تناسب بیالیس فیصد ہو ۔ (10)
سوال نمبر تین ۔
(الف)زمان ومکان کی تخلیق سے قبل خالق کائنات کہاں مقیم تھا ۔اگر تخلیق کردہ زمان و مکان میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے تو ناقابل تخلیق زمان و مکان میں فوٹونز کی عدم موجودگی میں یہ رفتار کیا ہو گی ۔ (10)
(ب) آگ سے بنے سرکش جنوں کو دوزخ کی آگ کس طرح جلائے گی ۔اس فائر -فائر انٹرایکشن کی تھری ڈائیمینشنل مساوات اخذ کیجئے ۔ (10)
سوال نمبر چار
(الف) اگر بائیں گھٹنے میں یورک ایسڈ کی مقدار معمول سے اکیس فیصد زیادہ ہو تو رکوع میں گھٹنہ ٹوٹنے کے امکانات رات کو صبح کی نسبت کتنے زیادہ یا کم ہوتے ہیں ۔گھٹنہ ٹوٹنے کی صورت میں اس گائے کو ثواب کا کتنے فیصد حصہ ملے گا جس کے گوشت سے یورک ایسڈ میں اضافہ ہوا تھا ۔ (10)
(ب) اگر آواز Vacuum میں سفر نہیں کر سکتی تو نیل آرمسٹرانگ نے چاند پہ اذان کی آواز کیسے سنی تھی ۔اس واقعے کی مابعدالطبعیاتی توجیہات کا طبعیاتی جائزہ لیجئے ۔ (10)
سوال نمبر پانچ
اگر نور روشنی ہے اور روشنی فوٹونز سے بنی ہے تو کسی انسان کے بارے میں نور ہونے کا دعویٰ کس حد تک صائب ہو سکتا ہے ۔کیا فوٹونز نسوانی انسانی اجسام میں داخل ہو کر افزائش نسل کر سکتے ہیں ۔ (10)
سوال نمبر سات ۔
(الف) گاڈ پارٹیکل یعنی ہگز بوسون کی دریافت کیسے ممکن ہوئی ۔کیا CERN لیبارٹری کی سمت ہیکل سلیمانی کی جانب کر کے یہ دریافت جلد ہو سکتی تھی ۔اس دریافت سے ملحد ناقدین کے منہ کس طرح بند ہوئے ۔ (10)
(ب) تلوار سے تیز اور بال سے باریک پل صراط کو کہاں سے کہاں تک بنایا گیا ہے ۔اس پر سے ایک سو پینسٹھ کلو کے مولانا طاہر اشرفی کوگزارنے کے لئے کتنی توانائی درکار ہو گی اگر روز قیامت روشنی کی رفتار اڑھائی گنا تیز ہو ۔ (10)

Thursday, 9 December 2021

اور  فاشسٹوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟  ابن عاصی

اور فاشسٹوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟
 ابن عاصی
موجودہ وزیراعظم عمران دھرنے میں پولیس والوں کو گریبان سے پکڑنے کی دھمکیاں لگایا کرتے تھے، بجلی کے بل جلایا کرتے تھے، اس وقت کے وزیراعظم کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنے کی باتیں کیا کرتے تھے، ملک کے مین اسٹریم میڈیا پر بھارتی فنڈنگ سے چلنے کے الزامات عائد کیا کرتے تھے، شہر کیا پورا ملک زبردستی بند کرنے کے اعلانات کیا کرتے تھے، پولیس کسٹڈی سے زبردستی اپنے گرفتار کارکنوں کو چھڑایا کرتے تھے تو ان کے ٹائیگرز بھی ان کی پیروی میں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی بلڈنگوں پر شلواریں سوکھنے کے ڈالتے ہوئے ملتے تھے، ایس پی لیول کے افسروں کو تشدد کا نشانہ بناتے نظر آتے تھے اور میڈیا کی خاتون ورکرز سے انتہائی بے ہودگی کی شرمناک کہانیاں رقم کرتے دکھتے تھے اور ایسے میں اگر ان کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے لوگوں کو قتل کرنے پر یہ کہہ دیا ہے کہ
”بچے ہیں، ذرا جذبات میں آ گئے تھے تو قتل وغیرہ ہو گیا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں، اس سے یہ کہنا کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے بالکل غلط ہے“
یہ صاحب ایسی بات کیوں نہ کریں کہ ان کا لیڈر بھی ایسا ہی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کا اعزاز پاکر امریکیوں کے ہاتھوں مرنے اور سمندر برد ہونے والے اسامہ بن لادن کو بھری پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ”شہید“ کہتا ہے اور ایک بار نہیں کئی بار ایسا کہتا ہے، ایسا لیڈر کہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے طالبان کا پشاور میں دفتر کھولنے کی صلاح دیتا ہے، ایسا لیڈر جو طالبان کے آنے پر ان سے زیادہ مسرور ہوتا ہے جو اے پی ایس کے معصوم بچوں کے قاتلوں کی گرفتاری پر عدالت میں یہ کہہ کر ججز کو حیران کر دیتا ہے کہ
”ان بچوں کے ورثا کو معاوضہ دے دیا ہے اور میں کیا کر سکتا ہوں“
جو اپنے سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں کو ”شہزادی اور نانی“ کہہ کر ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتا ہے، جو ایک مرد سیاسی مخالف کو ”بلاول صاحبہ“ پکار کر ذہنی تسکین حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے، جو چین کے حکمرانوں کے سے ”اختیارات“ چاہتا ہے جو ایف آئی اے سربراہ کو بلا کر مخالفین پر غداری کے مقدمات درج کرنے کو کہتا اور بشیر میمن صاحب کے انکار پر برہمی سے کہتا ہے
”میرے ساتھ چلو سعودی بادشاہ کے سامنے کوئی نہیں بولتا ہے“
تب اسے بتایا جاتا ہے کہ یہاں بادشاہت نہیں ہے تو وہ مزید تپ جاتا ہے اور میمن ناپسندیدہ قرار پاتے ہیں، ایسا لیڈر جو ایسا اذیت پسند ہے کہ مخالفین بارے شرمناک کمنٹس پاس کرنے والے اپنے چوہانی رہنماؤں کو ”میرا چیتا“ کہہ کر خوشی سے ان کو گلے لگاتا ہے، جو ایسا عجیب لیڈر ہے کہ اپنے کرپٹوں کو پروں تلے چھپا لیتا ہے اور مخالفین پر جھوٹے الزامات لگا کر بھی انہیں لٹکانے کے باتیں کرتا ہے۔ جس کے فیصل واوڈے منافقت کا اعلی شاہکار ہونے کے باوجود مخالفین کو چیرنے پھاڑنے کی سوچ پالے ہوئے ملتے ہیں، جس کے مراد سعید لائیو ٹی شو میں بیٹھے سابق چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار کے منہ پر تھپڑ مار دیتے ہیں، جس کے نعیم الحق ٹی وی چینلوں پر آ کر مخالفین پر پانی بھرے گلاس پھینکتے ہیں اور دانیال عزیز سے لوگوں کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیتے ہیں، جس کے علی امین گنڈاپور مخالف سیاسی خواتین کو ”عوام کا مال“ کہتے نہ شرماتے ہیں، جس کی فردوس عاشق اعوان کی غلیظ ترین گفتگو سن کر مرد بھی شرما جاتے ہیں،
جی ہاں ایسا لیڈر جو عدلیہ بارے لفظ ”شرمناک“ استعمال کرتا ہے جو ملک کی ممتاز شخصیات پر پر بھارت سے تعلقات کے جھوٹے الزامات لگا کر ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتا ہے، جو ملک میں انتشار، فساد اور سرکاری اہلکاروں کے قتل تک میں ملوث مذہبی فرقہ وارانہ جماعت کی اپوزیشن دنوں بھی کھلے عام سپورٹ کرتا ہے اور اقتدار میں آ کر بھی ان کے قتل معاف کر کے اپنے سینیٹر اعجاز چودھری کو اس جماعت کے رہنما کو پھول بھیجتا ہے اور اعجاز چودھری کا انتخاب بھی خوب ہے کہ یہ شخص پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑے ہو کر اسے انسانوں سمیت جلانے کی سفاکانہ بات کرتا ہے۔
جی ہاں یہ لیڈر اور اس کے فدائین اس وقت مملکت خداداد پر مسلط ہیں اور ان کی سوچ اور عمل فاشسٹوں سے کم نہ ہیں اور بدقسمتی سے میرے دیس کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں ہے۔

تلخ حقائق جن سے ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا

تلخ حقائق جن سے ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا

اسلام کی بعثت سے آج تک صرف حضرت عمر کا مختصر سا دور ہے جسے مسلمانوں کیلئے امن اور مذہب کے نفاذ کا دور کہا جاسکتا ہے اور یہ دور صرف دس برسوں پر محیط ہے۔ پیغمبروﷺ کی زندگی میں پہلے مشرقینِ مکہ سے جنگیں درپیش رہیں۔ اس کے بعد یہودیوں کے ساتھ مبارزت درپیش ہوگئی۔ اس سے نجات ملی تو نبوت کے نئے دعویداروں سے نمٹنے کا سخت مرحلہ درپیش ہوگیا۔ اسی دوران جہاں کہیں قبیلے اسلام سے منحرف ہوگئے وہیں کچھ قبیلوں نے ریاستِ مدینہ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔
حضرت عثمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہی شہید کردیے گئے اور یوں انارکی جو جو دور شروع ہوا، وہ  جنگِ جمل اور صفین سے ہوتا ہوا کربلا جیسےسانحے پر منتج ہوا جس میں خود پیغمبرﷺ کے گھرانے کو ہی تہ تیغ کردیا گیا۔ 
معاملہ اس کے بعد بھی تھما نہیں بلکہ مختار ثقفی نے بنوامیہ کیساتھ کربلا والاسلوک پوری وحشت کے ساتھ دہرایا۔ گویا جسے اسلام کہا جاتا ہے ، ان ادوار میں اس کا نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ہونے والی یہ قتل و غارت اور بدامنی کا تعلق خود مسلمانوں کے آپسی اختلافات سے تھا جسے ہم یہودی یا عیسائی سازش بھی نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اسلام دنیا تو ایک طرف خود مسلمانوں کیلئے بھی امن کا باعث بنا ہو۔
مسلم امہ، علماء اور سکالرز اس بات پر متفق ہیںکہ خلافتِ راشدہ یعنی اسلام کے حقیقی نفاذ کا زمانہ معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد ختم ہوگیا تھا اور پھر آج تک بحال نہیں ہوسکا۔ وہ نزع جو حضرت عثمان کی شہادت سے شروع ہوا، اس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پہلے خارجیوں کا فرقہ وجود میں آیا، اس کے بعد شیعانِ علی اور ان کے مخالفین۔ڈیڑھ صدی بعد معتزلہ، اشعری اور ماتریدی وجود میں آگئے اور ان کے بیچ مذہبی مناظرہ بازی کا میدان گرم ہوا۔ اس پر مسرزاد چار امام جوایک دوسرے کے چار مخالف فرقوں کے وجود میں آنے کا باعث بنے اور اس کے بعد رنگا رنگ صوفی فرقے جن میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
اوپر بیان کردہ منظر یہ بتاتا ہے کہ ایک مختصر دور کے سوا اسلام بطور نظامِ حیات کبھی بھی نافذ نہیں ہو پایا اور ماضی قریب یا دورِ حاضر میں اگر کہیں نافذ ہوا بھی تو اس کے نتائج قابلِ تقلید نہیں نکلے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک علماء اور حکمرانوں نے اپنے اپنے گھٹیا مفادات کیلیے مذہب کے نفاذ کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے اور قوم ان کے ان مفادات کی قیمت چکائے جارہی ہے۔
سعید ابراہیم

Tuesday, 9 November 2021

اقبال کی شاعری

M Sinan Usmani Awan 

اقبال کی نظم "پیام صبح" لانگ فیلو کی نظم" ڈے بریک" کا آزاد ترجمہ ھے اقبال کی نظم "ماں کا خواب " ولیم بارنس کی نظم کا ترجمہ ھے اقبال کی نظم "مکڑا اور مکھی" Mary Haworthکی نظم The Spider and The Fly کا آزاد ترجمہ ہے۔ اصل انگریزی نظم چالیس سطروں ﴿مصرعوں﴾ پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ اقبال کا منظوم ترجمہ ۲۴ اشعار پر مشتمل ہے اقبال کا منظوم ترجمہ " رخصت اے بزم جہاں" ایمرسن کی نظم Good Bye کا منظوم ترجمہ ہے اقبال کی نظم "بچے کی دعا" مٹیلڈا بینتھم ایڈورڈس کی نظم ۔ سے لی گئی ھے۔۔"لب پہ آتی ھے دُعا بن کے تمنا میری"۔۔۔ اقبال کی نظم "پرندہ اور جگنو" ﴿۳:۵۹﴾ ولیم کوپر کی نظم The Nightingale And The Glowworm ﴿ کا آزاد ترجمہ ہے۔ یہ ۱۹۰۵ء کے پہلے کی نظم ہے۔ اقبال نے اصل شاعر کا حوالہ نہیں دیا اور نہ دوسرے منظوم ترجموں کی طرح ماخوذ ہونے کی صراحت کی ہے ۔ البتہ مولوی عبدالرزاق نے کلیات اقبال میں لکھا ہے یہ نظم انگلستان کے ایک نازک خیال شاعر" ولیم کوپر" کی ایک مشہور و مقبول نظم " اے نائٹ اینگل اینڈ گلوورم" سے ماخوذ ہے۔ اقبال نے اپنی دونوں نظموں میں ولیم کوپر کی ایک ہی نظم کے خیال کو الگ الگ استعمال کیا ہے، ہمدردی کو ہم ماخوذ قرار دے سکتے ہیں جب کہ "ایک پرندہ اور جگنو" آزاد ترجمہ ہے۔ اس منظوم ترجمہ میں مفہوم کو باقی رکھتے ہوئے لفظی ترجمے سے اجتناب کیا گیا ہے اقبال سے پہلے بانکے بہاری لال نے " حکایت بلبل اور شب تاب کی " اور رحیم اللہ نے بلبل اور جگنو کی حکایت کے عنوان سے منظوم ترجمے کئے تھے۔

اقبال - حاشر ابن ارشاد

مائیکل ایچ ہارٹ کی کتاب دی ہنڈرڈ میں دنیا کی تاریخ کے سو بااثر ترین لوگوں کی فہرست میں صرف ایک شاعر ہومر مذکور ہے۔ شکسپئر کا ذکر ڈرامہ نگاری کے حوالے سے ہے۔ جبکہ فہرست میں سائنس دانوں کی بھرمار ہے۔ ہومر کو گذرے لگ بھگ تین ہزار سال ہو گئے ہیں۔ اس دوران کوئی ایک شاعر بھی ہارٹ کو دستیاب نہیں ہوا جس نے انسانی فکر پر گہرا اثر چھوڑا ہو یا زمانے کے چلن کا تعین کیا ہو۔ 

شاعر آپ کی حس جمال کی تسکین کرتا ہے اور یہ بڑا کام ہے۔ انسان جذبات اور احساسات کا پیکر ہے اور شاعری اس صورت گری میں وہ ضرورت ہے جس کے بغیر انسان کی جمالیاتی تشکیل ادھوری رہ جاتی ہے۔ وہ لوگ جو شاعری پڑھتے نہیں ، سمجھتے نہیں، ان کی بدقسمتی گویا طے شدہ امر ہے۔ 

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسانی ترقی، فکری روایت،  شعور اجتماعی کی بنت، معاشرتی اور معاشی عروج میں شاعری اور شاعر کا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ اقبال ہوں، غالب ہوں، میر ہوں یا انیس ہوں ، ان کا دائرہ کار شاعری کے بند دائرے میں ہی اثر پذیر ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ شاعری کی ایک روایت یا جہت کا تعین کرتا ہے۔ 

جتنا اور جس قدر کوئی شاعر کسی کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اقبال بھی اتنا ہی اثرانداز ہوتا ہے۔ پسند ناپسند ذاتی واردات اور قلبی معاملہ ہے۔ اس لیے اس سے بھی بحث نہیں ہے۔ اقبال کی شاعری کو مقصدیت کی جس فضول بھٹی میں جھونک کر ہم نے قوم کے لیے خنجر اور شمشیر بنانے کی کوشش کی اس کا نتیجہ تو یوں بھی سامنے آ گیا ہے۔

ہم شاید اقبال کی شاعری سے مطمئن نہیں تھے اس لیے ہم نے انہیں کئی اور تاج پہنانے کی بھی کوشش کی۔ 

اقبال ایک بڑے شاعر تھے ، اس سے کون کم بخت انکار کر سکتا ہے۔ برصغیر کے دس بڑے شعراء کی فہرست سے کوئی ان کا نام قیامت تک خارج نہیں کر سکتا لیکن وہ عالمی سطح کے شاعر تو کیا، ایشیا کی حد تک بھی عظیم تر شاعر تسلیم نہیں کیے گئے۔ 

 اقبال کو فوق البشر اور رد استعمار کی علامت کا چولا بھی زبردستی پہنایا گیا۔ رد استعمار کی علامت اقبال نہ کل تھے نہ آج ہیں۔ یہ تقریروں کی حد تک مبالغہ آرائئ جائز ہے کہ ان کی شاعری نے مسلمانان ہند کو ولولہ آزادی سے سرشار کر دیا اور ان کی شاعری نے برصغیر میں  آگ لگا دی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

 
اگر  ٹیپو سلطان پر لکھے گئے چند اشعار سے ان کی انگریز مخالفت برآمد کرنی ہے تو مسولینی پر لکھی گئی نظم سے ان کی فاشزم سے محبت بھی نکل آئے گی۔ ویسے ہم نے تو بہت ڈھونڈا ، ہمیں کوئی عنوان ایسا نہ ملا  جو براہ راست انگریز حکومت یا سامراج مخالفت پر مبنی ہو ۔ باقی تشریح کرنے میں تو ان کے اشعار سے یار لوگوں نے جوہری توانائی کا فارمولا بھی نکال لیا ہے۔

 
ملکہ وکٹوریا کے قصیدے کی بات کریں تو جواب ملتا ہے کہ اقبال اس وقت نادان تھے۔ جارج پنجم کے قصیدے پر نظر کریں تو کندھے پر ہاتھ رکھ کر بتایا جاتا ہے کہ یہ تو ایسے ہی ایک دوست کی فرمائش پر لکھ دیا تھا۔ ٹیپو پر لکھے گئے سے اگر ان کی انگریز دشمنی ثابت ہوتی ہے تو بھگت سنگھ ، اشفاق اللہ خان اور چندر شیکھر آزاد پر ان کی خاموشی سے انگریز محبت کی دلیل بھی نکالی جا سکتی ہے۔ 

 
جلیانوالہ باغ کا سانحہ پنجاب میں ہوا تو بنگال میں ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کر دیا ۔ اقبال تو اسی پنجاب کے بیٹے تھے لیکن وہ اس وقت شہنشاہ برطانیہ کا قصیدہ لکھتے رہے۔ اپنے گھر میں  بیتی اس قیامت پر ایک لفظ ان کے قلم سے نہ ٹپکا اور بعد میں اسی خون آشام سامراج سے ملنے والا  سر کا خطاب ایک اعزاز کی طرح وہ قبر میں ساتھ لے کر گئے۔

ابھی دلی اور لاہور کے طالب علم جب جبر واستبداد کے خلاف بسمل صابری اور فیض کی نظموں کے پرچم بنا کر باہر نکلے تھے تو کسی کو اقبال کا کوئی شعر اس موضوع پر کیوں نہیں ملا۔ 47 سے پہلے کی تحریک آزادی میں اقبال کی کون سی نظم عوام گاتے پھرتے تھے ؟ اقبال کی شاعری نہ اس وقت عوامی تھی نہ اب ہے۔ نہ وہ اس وقت سامراج مخالفت میں گلیوں میں بلند ہوئی تھی نہ اب ہوئی ہے۔ یہ دعوی کہ تحریک آزادی میں ان کی شاعری کا کوئی کردار تھا ، سراسر مبالغہ ہے۔  

رہا مفکر پاکستان ہونے کا الزام تو اس کی تردید اقبال نے ای تھامپسن کو لکھے گئے خط میں خود کر دی تھی۔ باقی جس کا دل کرے ، خطبہ الہ آباد خود پڑھ لے تاکہ تسلی ہو جائے۔  فرزند اقبال بھی ساری عمر لوگوں سے پوچھتے رہے کہ کوئی انہیں بھی بتا دے کہ پاکستان کا خواب اقبال نے کس شب کو دیکھا تھا۔ 

فلسفے کی دنیا میں بھی ان کی کوئی فکری روایت عالمی منظر نامے پر توجہ نہیں پا سکی۔ جرمن فلسفے کو اسلام کا لبادہ اوڑھانا کوئی ایسا بڑا کارنامہ نہیں تھا۔ تو لے دے کر ایک شاعری ہی بچ جاتی ہے۔ اس پر شخصی سطح پر یا معاشرے پر اثر کے پیمانے پر  دنیا تو چھوڑیں، پاکستان میں بھی انہیں ڈاکٹر عبدالسلام یا ایدھی کے قد کے برابر بھی رکھنا ممکن نہیں۔ شعری روایت میں غزل میں غالب اور نظم میں ن م راشد کا کینوس ان سے کہیں وسیع ہے۔ 

اقبال دراصل ہمارے فکری افلاس کے لیے ایک زنبیل کا کام کرتے ہیں جس میں ہم سیاست، فلسفہ، شاعری اور مذہبی علم سب ڈال کر ایک عبقری برآمد کر کے اپنی تسلی کر لیتے ہیں کہ مشاہیر زمانہ کے مقابلے میں ہمارے پاس کیا ہمہ جہت شخص موجود ہے وہ الگ بات ہے کہ نہ عالم کو اقبال کی خبر ہے نہ زمانے کو۔ 

آج ان کی سال گرہ ہے۔ میں انہیں ایک اچھا شاعر سمجھتا ہوں لیکن اس سے بڑھ کر ان کی تحسین میرے لیے ممکن نہیں ہے، اس لیے مجھے معاف رکھیے۔ یہ سب بھی اس لیے لکھا کہ ان کی خاطر خواہ تعریف نہ کرنے پر دوست صبح سے خفا خفا پھر رہے ہیں۔ 

آپ بہرحال اپنا بت بنانے میں آزاد ہیں۔ ویسا ہی جیسے ایک تھکے ماندے نیم استراحت کرتے اقبال کے ہاتھ میں قرآن رکھ کر مصور نے بنایا ہے۔

Urdu Poetry