Friday, 30 October 2020
کیا روضہ رسول میں جانا ممکن ہے ؟؟؟کیا روضہ رسول میں جانا ممکن ہے ؟؟؟
Sunday, 11 October 2020
مقتول (مبشر علی زیدی)
مقتول
Thursday, 8 October 2020
اگرگھربیٹھ کرمیری زمین پر قبضہ کرسکتےہیں توگھر بیٹھے پیسے بھی دے دینے چاہیں
Wednesday, 7 October 2020
Begum Akhtar: The Queen of Ghazals
For Begum Akhtar, also known as the Mallika-e-Ghazal (The Queen Ghazals), it was a series of personal tragedies that formed the basis of her legendary vocal performances. Her magic lay in not merely expressing this pain, love and hope, but translating these emotions in ways that future generations would empathise with and understand.
Rita Ganguly, a student of the great Begum, once said that her soulful voice emerged from the depths and years of “loneliness, pain, suppression and silence”. Her unforgettable voice took to the masses, the various forms of semi-classical and classical Hindustani music like the ghazal, thumri and dadra that were once restricted to private mehfils (audiences).
It was her voice which brought life and a certain soul to the remarkable poetry of literary giants like Mirza Ghalib, Kaifi Azmi, Shakil Badayuni, Mir Taqi Mir and Jigar Moradabadi.
For the only artist allowed to smoke in the premises of the All India Radio’s recording studios, it was music which had literally kept her alive amidst a series of personal tragedies until it finally consumed her. Posthumously awarded the Padma Bhushan, Begum Akhtar espoused a unique spirit in her voice which inspired legends like Pandit Jasraj to become a singer as a six-year-old and Agha Shahid Ali, the Kashmi-American poet, to pick up the pen.
Born on 7 October 1914, in Faizabad, Akhtar probably endured more heartaches than most of us do in a lifetime. Her lawyer father, Asghar Hussain, abandoned his wife, Mushtari, a small-time tawaif (courtesan, a profession Akhtar would don till her eventual marriage) and his two children – Akhtar and Zohra (twin sisters) when they were only four years old. After consuming poisoned sweets, both sisters were rushed to the hospital, but Zohra tragically didn’t make it.
In the midst of the devastating loss of a twin sister, it was music that offered Akhar refuge. While her mother insisted that she learn conventional Hindustani Classical Music, it was in other forms like the ghazal or thumri where she could truly express herself. Unfortunately, like many female singers of the time, she also endured a lot of physical abuse at the hands of her masters.
“Worse, Bibbi, or Akhtari Bai Faizabadi as she was by then known, was raped by a raja of one of the states of Bihar who was a patron of classical music. She gave birth to a girl, Shamima. Mushtari, determined that her daughter would not face the world as an unwed mother, pretended the baby was her own and Shamima became Akhtar’s sister. The singer stood by this story until her death,” says this 2008 profile in Mint.
All these events happened by the time she reached 13 years of age. However, her musical gift grew from strength to strength. She performed for the first time in front of an audience at a concert for the victims of 1934 Nepal-Bihar Earthquake, where Sarojini Naidu heaped praise on her singing talents. Akhtar even had a short stint in the film industry till the early 1940s, but left because her mother would have none of it.
But Akhtari Bai managed to escape the matriarchal hold by arranging a marriage for herself into high society. She did this knowing that the price of respectability was a life in purdah, giving up the arts and individual freedom,” writes Mehru Jaffer for Women’s Feature Service.
For eight years, she gave up music. However, following multiple miscarriages and the death of her mother, she was devastated both mentally and physically. Doctors felt that it was only music that would give her an outlet for this grief, and soon she returned to music.
This gave her a second lease of life, and it was during this phase that she got into singing serious poetry. She even shifted her audiences from largely private mehfils to the public venues and eventually the All India Radio, which broadcasted her voice through vast swathes of this country.
Having mesmerised audiences through the length and breadth of India with her unforgettable performances, she eventually passed away on 30 October 1974, suffering a heart attack during a performance in Ahmedabad at the age of just 60.
It is noted critic Raghava Menon who best captures the essence of her greatness.
“Akhtar was constantly caught up in a male-dominated world. She could never escape, even in the middle class, for there were inescapable social stigmas. But, it seems to me, she had an understanding of the predicament of the human being, and she used her life as a source of understanding of the masses who have looked for things, searched for things, gone on a journey to discover things and, in some cases, come back empty handed, finally realising that the important thing is the journey. She seemed like that to me. She was a remarkable, highly evolved woman,” he once said.
زندگی کے سفر میں سب سے بھاری سامان خالی جیب ہوا کرتی ہے۔
زندگی کے سفر میں سب سے بھاری سامان خالی جیب ہوا کرتی ہے۔
Monday, 7 September 2020
ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ سے انکار کرکے، مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے سرجن کی کتھا۔
ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ سے انکار کرکے، مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے سرجن کی کتھا۔
قاضی آصف
کچھ عرصہ قبل ایک خوبصورت شام، کراچی پریس کلب کی چھت پر اسلام آباد سے آئے ہوئے صحافی اور ڈاکٹر دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں جب قربان بلوچ نے بتایا کہ کبھی آپ نے یہ سنا کہ ملک کے ٹاپ کلاس کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن ساٹھ لاکھ روپے مہینہ تنخواہ سے انکار کر دے؟
مجھے آپنے کانوں پر اعتبار نہیں آیا۔میں نے سوالیہ نظروں سے قربان کی طرف دیکھتا رہا، انہوں نے محسوس کیا کہ میں ان کی بات پر اعتبار نہیں کر رہا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔ یہ سچ ہے۔ وہ سرجن میرے آبائی شہر سے ہے۔ قربان نے مجھے جو بتایا، اس کو میں نے مان تو لیا لیکن،،،کھٹکا لگا رہا۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی لوگ ہیں، کون، اعتبار کرے؟
ہمارے غریب ملک میں کچھ ایسی مثالیں ہیں جس پر دنیا حیرت میں رہتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایدھی ایمبولینس سروس، دنیا میں سب سے بڑے مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر ادیب رضوی کا سینٹر اور دنیا میں پہلا مفت لیور کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر گمبٹ اور دنیا میں سب سے بڑی دل کا مفت اعلاج اور بائی پاس آپریشن کا ادارہ این آئی سی وی ڈی یہ پاکستان اور خاص طور پر سندھ ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ سچ اور حقیقت ہے۔
ایک تصور کہ پاکستان میں کچھ نہیں، اور خاص طور پر سندھ میں فقط کرپشن اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن کئی ایسی مثالیں ہیں جس پر میڈیا اوردیگر اداروں کی توجہ نہیں جاتی۔کونکہ ان کو سندھ اور پاکستان کا فقط منفی رخ ہی دکھانا ہے۔
قربان بلوچ نے اسی محفل میں شامل ڈاکٹرجو ہمارا دوست ہیں، اس کی طرف اشارہ کرکے کہا، ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ انکار کرنے والا یہی آپ کے قریب بیٹھا کڈنی سرجن ہے۔
وہ محفل ختم ہوئی، کافی وقت گذر گیا۔ آج ہم سب کے انتہائی محترم دوست ڈاکٹر محمد خان ببر کا جنم دن ہے۔ میں نے ان کو ہیپی برتھ ڈے کہا اور کراچی پریس کلب پر قربان بلوچ کی بات دہرائی۔ ڈاکٹر محمد خان ببر نے بتایا کہ جب انہوں نے دوہزار پندرہ میں ڈاکٹر ادیب رضوی سے اجازت لے کر گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس جوائن کیا تو لاہور سے ایک بڑے اسپتال کی جانب سے رابطہ کیا گیا کہ وہ ان کو ماہانہ چالیس لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں، وہ لاہور آجائیں۔ ڈاکٹر محمد خان نے انکار کیا کہ انہیں یہیں کام کرنا ہے۔ پھر دو ہزار سترہ میں، ڈاکٹر محمد خان کے جاننے والے سے لاہور کی اسی اسپتال والوں نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر سے مذاکرات کے دوران ساٹھ لاکھ روپے مہینہ دینے کی آفر کی۔ اس وقت لاہور میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے فی مریض تیس لاکھ روپے وصول کئے جاتے تھے۔ اور یہاں سندھ میں یہ ٹرانسپلانٹ مفت میں ہو رہا تھا۔
میں نے ڈاکٹر محمد خان کو جنم دن مبارک دینے کے ساتھ پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ نے ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ لینے سے انکار کیا، یہاں کتنی تنخواہ ملتی ہے؟ انہوں نے کہا چار لاکھ روپے کے قریب ہے، ٹیکس وغیرہ کاٹیں تو اور کم ہوجائیگی۔
میرا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ سندھ اور پاکستان میں سب کچھ بربادی نہیں۔ ابھی بہت کچھ ہے۔
ڈاکٹر محمد خان سندھ کے دور دراز علاقے جوہی سے تعلق رکھتے ہیں، بچپن سے مظلوم و محکوم عوام سے محبت، ان کی خدمت، اور غربت ختم کرنے کا جنون جاگا۔ اسی ساتھ میں شامل ہوئے جو غریبت کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ مظلوموں کے ساتھ ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی بنیادی طور پر کوئی امیر خاندان سے نہیں۔ اپنی محنت اور عوام سے محبت کی لگن میں وہ مہارت حاصل کی جو ایک خواب اور پاکستان کی ضرورت ہے۔
وہ ڈاکٹر ادیب رضوی کی ٹیم میں شامل ہوئے، کراچی میں کئی دہائیاں ایس آئی یو ٹی میں کام کیا۔ غریبوں کے مفت آپریشن کیئے۔ یہ ڈاکٹر ادیب رضوی کا کمال ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر محمد خان، ڈاکٹر مرلی دھر سمیت بہت سے کمیٹیڈ ڈاکٹر تیار کئے اور اب دنیا کے مانے ہوئے کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن ہیں۔ لیکن سب سے بہتر یہ بات کہ انہوں نے مال بنانے کیلئے یہ مہارت حاصل نہیں کی بلکہ، ننگے پائوں، پھٹے کپڑوں، جھونپڑیوں میں رہنے والوں، ایک وقت کا کھانا کھانے کی سکت نہ رکھنے والوں سے محبت اور خدمت کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک نبھا رہے ہیں۔ کمانا چاہیں تو کروڑ پتی بننا مسئلہ نہیں لیکن وہ یہیں مطمئن ہیں۔ مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں، اور اپنے ضمیر اور نظریے پر خوش ہیں۔ یہی ہمارے سماج کا فخر ہیں۔ یہی تاریخ کے مثال ہیں۔ جنم دن مبارک ہو، ڈاکٹر محمد خان ببر صاحب۔
اے وطن، تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا،
انڈیا میں اب تک تقریباً تیس کے قریب آرمی چیف رہے ہیں جن میں سے صرف ایک نے چار سال تک اس عہدے پر کام کیا، دو نے پونے چار سال تک اور ایک نے تین سال تک یہ عہدہ سنبھالے رکھا۔ باقی کے 26 آرمی چیفس نے اوسطاً تقریباً پونے تین سال تک یہ عہدہ سنبھالا، اور بغیر کسی ایکسٹینشن کے ریٹائرڈ ہوتے گئے۔
کوئی ایک بھارتی آرمی چیف ایسا نہیں جس نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملک سے باہر رہائش اختیار کی ہو، یا بیرون ملک ملازمت کی ہو۔
اسی طرح بھارت کا کوئی بھی ایسا سابق حکمران نہیں جس کے بیرون ملک کاروبار و جائیدادیں ہوں اور وہ وہیں رہتا ہو۔
دوسری طرف 1993 سے لے کر اب تک، جتنے بھی آرمی چیفس آئے، ان میں سے شاید کوئی ایک بھی اس وقت پاکستان میں موجود نہیں۔ سب کے سب باہر سیٹلڈ ہیں۔
یہی حال ہمارے ماضی کے حکمرانوں کا بھی رہا۔ نوازشریف، زرداری، بینظیر، سب کے اثاثہ جات بیرون ملک اور جب وہ اقتدار سے باہر ہوں تو رہائش بھی وہیں اختیار کرلیتے ہیں۔
راہ حق کے شہیدوں کا ہمیں کیا فائدہ ہوا جب سیاسی اور ملٹری قیادت ہی اس ملک میں رہنا پسند نہیں کرتی۔ اپنی مرضی کی تاریخ لکھ کر جتنے مرضی من گھڑت افسانے لکھ لیں، حقیقت یہی ہے کہ جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پرویزمشرف، جنرل پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف - یہ سب بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔
آپ ہمیں 65 کی جنگ میں بھارتی ٹینکوں کا ڈھانچہ مت دکھائیں، آپ ہمیں اپنی قیادت کی ریٹائرمنٹ زندگی کے متعلق بتائیں، اور ساتھ یہ بھی بتائیں کہ جرنیلوں کو 800 ایکڑ زمین الاٹ کرکے بھی اگر آپ انہیں ملک میں رہنے پر مجبور نہیں کرسکتے تو کم از کم یہ زمین جرنیلوں کو دینے کی بجائے پانچ پانچ مرلے عام فوجی سپاہیوں کو ہی دے دیں۔
اے وطن، تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا،
دوبارہ پکارا تو ہم بیرون ملک چلے جائیں گے.
-
1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد لکھی ہوئی احمدفرازکی عظیم الشان انقلابی نظم ان کے جنم دن پر پیش کی جارہی ہے۔آج فراز نوّے برس کے ہو ...
-
وہ ہم نہیں تھے پھر کون تھا سر ِبازار! جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارہ نہیں! ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین! ہمارے پاس زمینوں کا...

