Tuesday, 3 November 2020

"کجا ہستی جان پدر"




گزشتہ روز کابل یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے موبائل فون اور دوسری ذاتی اشیاء اکٹھے کررہا تھا ہر شہید طالب علم کے سیل فون پر بے شمار گھنٹیاں آرہی تھی ، بہت سوں کو جواب دیا بھی مگر کچھ نمبرز کو جو اماں اور ابا جان کے نام سے محفوظ تھے کو اٹھانے کی سکت نہ تھی ایک طالبہ کے سیل فون پر ایک سو بیالیس بار کال کی گئی تھی اور آخر میں ایک میسج آیا جس نے ہلا کے رکھ دیا ۔

"کجا ہستی جان پدر"
( امید مہریار )

فرانس پہ ، سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا حاشر ابن ارشاد

 فرانس پہ ، سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

حاشر ابن ارشاد
ولیم میور نے 1866 میں چار جلدوں پر مشتمل "لائف آف محمد" تحریر کی۔ اس کتاب کے مآخذ تاریخ طبری، کتب احادیث اور سیرت کے اولین نسخہ جات تھے۔ کتاب تنقیدی نقطہ نظر سے لکھی گئی تھی اور اس میں موجود بے لاگ تجزیے عقیدت اور مدح کی قید سے آزاد تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نبی کی ذات کے ایسے زاویے مآخذ کی روشنی میں سامنے آئے جو مسلمانوں کو قابل قبول نہ تھے۔ مسلم دنیا میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص ایک شور سا اٹھ گیا۔ کتاب پر تنقید شروع ہو گئی جو جلد ہی ایک سماجی غم اور غصے کی لہر میں بدل گئی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سرسید احمد خان علی گڑھ کالج کا بیج بونے میں مصروف تھے اور اسی سلسلے میں سائنٹیفک سوسائٹی آف علی گڑھ کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔
ولیم میور کی کتاب بزبان انگریزی تھی۔ سرسید اس کے خلاف مظاہروں میں بھی شریک ہو سکتے تھے، تقریر کرنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور کتاب پر پابندی لگوانے کی مہم بھی سامنے تھی۔ سرسید نے البتہ ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ سب سے پہلے تو انہوں نے خود ولیم میور کی کتاب کا اردو ترجمہ کروایا تاکہ اس پر ایسے لوگوں سے بھی رائے لی جا سکے جو کتاب کو انگریزی میں پڑھنے سے قاصر ہونے کے باوجود اس پر تنقید میں پیش پیش تھے۔ اس کے بعد سرسید احمد خاں خود لندن جا پہنچے۔ گرچہ ان کا یہ سفر کثیر المقاصد تھا جس میں بنیادی توجہ برطانوی تعلیم نظام کا مطالعہ تھا لیکن انہوں نے ساتھ ساتھ سینکڑوں گھنٹے لندن کے کتب خانوں میں گزارے تاکہ "لائف آف محمد" کے حوالے سے اپنی تحقیق مکمل کر سکیں۔
قریبا تین سال کی تحقیق کے بعد سرسید احمد خان نے الخطبات الاحمدیہ فی العرب والسیرت المحمدیہ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی جس میں "لائف آف محمد" میں اٹھائے گئے اعتراضات اور سوالوں کا علمی محاکمہ کیا گیا تھا۔ اس کتاب کو آج ہم خطبات احمدیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ 1870 میں ہی اس کا انگریزی ترجمہ بھی سرسید نے لندن سے شائع کروایا تاکہ انگریزی دان طبقہ دونوں کتابیں پڑھ کر اپنا فیصلہ خود کر سکے۔ سرسید نے نہ صرف "لائف آف محمد " کے تجزیے پر اپنا تبصرہ کیا بلکہ اسلامی مآخذ کو بھی بڑی بے رحمی سے تنقید کا نشانہ بنایا جن کی بنیاد پر یہ کتاب تشکیل دی گئی تھی ۔ اس کا ایک ضمنی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سرسید کے خلاف منکر حدیث، منکر اجماع، منکر تفسیر اور منکر فقہہ کے الزام اور مستحکم ہو گئے پر سرسید اس کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام میں لگے رہے اور مسلمانان ہند کے لیے ایک تعلیمی انقلاب کی راہ بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے عشق رسول کی شہادت بھی علمی میدان میں رکھ دی جو آج بھی تاباں ہے۔
کچھ سال آگے چلتے ہیں ۔ 1923 میں راج پال نامی ایک پبلشر ایک کتابچہ شائع کرتا ہے جس کا عنوان "رنگیلا رسول" ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کتابچے کا مصنف کون ہے اس لیے سارا نزلہ راج پال پر گرتا ہے ۔ "لائف آف محمد" کی طرح اس کتابچے کا مواد بھی بخاری، محمد ابن اسحاق کی سیرۃ الرسول اللہ، تاریخ طبری اور حدیث کی دیگر مستند کتب سے اٹھایا گیا ہے اور انہی سے اخذ و استنباط کر کے رسول اللہ کی شخصیت اور زندگی پر ایک دفعہ پھر اعتراضات کھڑے کیے گئے ہیں۔
1924 میں مولانا ثناءاللہ امرتسری "مقدس رسول" کے نام سے ایک جوابی کتاب تحریر کرتے ہیں لیکن اب عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے شعلہ بیان مقررین کا دور ہے جو علمی میدان سے زیادہ جذبات کے میدان میں شہ سواری کو ترجیح دیتے ہیں ۔ "مقدس رسول" اس شہ سواری سے اٹھی گرد میں گم ہو جاتی ہے اور مظاہروں ، گھیراؤ جلاؤ اور احتجاج کی نیو پر ایک نئی طرح کی تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ انتقام اور قتال کی صدا در صدا بلند ہوتے ہوتے 1929 میں اس مقام پر پہنچتی ہے جب علم الدین نامی نوجوان لاہور میں راج پال کو قتل کر کے اپنی دانست میں عشق رسول کا ثبوت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ عدالتی کارروائی میں وہ اس قتل کی واردات سے مکمل بے خبری کا دعوی کرتے ہوئے مکر جاتا ہے کہ قتل اس نے کیا تھا۔ گواہ مضبوط ہیں اور شہادتیں بھی قوی ہیں اس لیے اسے موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔
سرسید احمد خان کی تحریک علی گڑھ یونیورسٹی کی صورت میں ، اور کسی حد تک مسلمانان ہند کے ایک الگ ملک پاکستان کی صورت میں آج دیکھی جا سکتی ہے۔ عطاء اللہ شاہ بخاری اور غازی علم الدین کی ڈالی گئی روایت بھی ممتاز قادری، اکرم ماچھی، عامر چیمہ اور فیصل خالد کی صورت دیکھی جا سکتی ہے ۔ اس موازنے میں خطے کے باسیوں کے لیے کیا سبق پوشیدہ ہیں وہ سمجھنے کے لیے تھوڑی بہت عقل بھی کافی ہے۔ اس لیے میں بات یہیں چھوڑ کر آگے بڑھتا ہوں۔ برصغیر سے نکلتے ہیں اور فرانس کی ساحل پر اترتے ہیں۔
1789 میں فرانسیسی انقلاب شروع ہوتا ہے اور دس سال کی خونی جدوجہد کے بعد فرانسیسی ری پبلک وجود میں آتی ہے۔ اس انقلاب کی بنیاد "انسان اور شہری کے حقوق کا اعلامیہ" ہے۔ یہ اعلامیہ لاک، جیفرسن، لافییاٹ، آبے سیا اور والٹیئر جیسے نابغوں کی دین ہے جو انسان کے فطری حقوق کی پاسداری کا اعلان ہے۔ یہ اعلامیہ نشاۃ ثانیہ کی انتہا اور تاریکی سے نور کی جانب مراجعت کا اہم سنگ میل ہے۔ فرانسیسی آئین اسی اعلامیے کی ترویج کرتا ہے جہاں انسان کی آزادی، آزادی اظہار سے عبارت ہے۔ مذہب یا عقیدہ کار حکومت سے الگ ہے ، سماج کی تشکیل میں مذہبی کردار کی نفی ہے اور قوانین کی بنت شعور اجتماعی پر منحصر ہے۔
1789 کے بعد فرانس کی ثقافتی، سماجی اور ریاستی شناخت کا دوسرا اہم پڑاؤ 1905 ہے جب کلیسا کو مکمل طور پر کار ریاست سے بے دخل کر دیا گیا اور فرانس ایک مکمل سیکولر ریاست کے طور پر سامنے آیا جہاں مذہب فرد تک محدود کر دیا گیا۔ 1905 کے قوانین مذہب کی نفی نہیں کرتے بلکہ انفرادی سطح پر اس حق کی ضمانت فراہم کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنے مذہب کو فرد کے طور پر ماننے اور اس پر عمل کرنے میں آزاد ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی لیکن ریاست اس معاملے میں مکمل غیر جانبدار رہے گی۔
فرانس نے سیکولرزم کے فلسفے کو حرز جاں بنانے تک کے سفر میں ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں جانوں کی قربانی دی ہے اس لیے یہ سوال تو اٹھتا ہی نہیں کہ وہ کسی بھی صورت اس سے روگردانی کر سکتا ہے۔ ہم فرانس کو اپنی عینک کے شیشوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس لیے کبھی بھی درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔
فرانس کے خاکوں سے جڑی دہشت گردی کے خلاف ردعمل کو سمجھنے کے لیے شاید فرانس کے حالیہ سیاسی منظر نامے کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون ایک معتدل رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں جن کا جھکاؤ نہ بائیں بازو کی طرف ہے نہ دائیں بازو کی طرف۔ وہ سوشل لبرلزم اور ہمہ گیر ثقافت پر یقین رکھتے ہیں جس میں فرانسیسی اقلیتوں کے تحفظ کی مکمل ضمانت موجود ہے۔ اینگلا مرکل ہی کی طرح انہوں نے مسلمان پناہ گزینوں کے لیے انتہائی نرم امیگریشن پالیسی کا انتخاب کیا اور فرانس کی ثقافت میں مسلمانوں کے کردار کا مسلسل دفاع کرتے رہے۔
ان کے مقابلے میں نیشنل ریلی پولیٹیکل پارٹی کی راہ نما میرین لی پین ہیں جو سخت گیر دائیں بازو کی نمائندہ ہیں ۔ لی پین کے خیال میں ہمہ گیر ثقافت کا نظریہ ناکام ہو چکا ہے ۔ وہ میکرون کے بالکل برعکس فرانسیسی معاشرے کو اسلامی اثرات سے پاک کرنے کی مہم پر زور دیتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امیگریشن قوانین میں مسلم ممالک سے کسی ہجرت کی گنجائش نہیں رکھنی چاہیے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی فوری بے دخلی ان کے ایجنڈا پر ہے۔ ان کی سخت گیری اس حد تک ہے کہ عرب بہار کے بعد انہوں نے فرانسیسی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ شینجن سے فرانس کو الگ ہو جانا چاہیے تاکہ باقی یورپ سے کوئی عرب تارک وطن فرانسیسی سرحدوں میں داخل نہ ہو سکے۔
اسلام پسندوں کی حالیہ تشدد پسندی کی لہر کے بعد لی پین کے بیانیے کو تقویت ملی ہے اور میکرون کے پاس اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا کہ وہ اس معاملے پر سخت ترین موقف اختیار کریں۔ خاکوں کے معاملے پر ان کا رویہ فرانسیسی آزادی اظہار کے حقوق کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ اس سب کے باوجود میکرون نے یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ خاکے کوئی حکومتی پروجیکٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا تعلق حکومتی بیانیے سے ہے۔ حکومت لیکن اپنے شہریوں کی جان کی حفاظت کو سب سے مقدم جانتی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔
یاد رکھیے کہ مسلم شدت پسندی کی لہر اور بڑھتی ہے تو یہ فرانس کے لاکھوں مسلمان شہریوں کے لیے ایک بہت بڑا امتحان کھڑا کر دے گی۔ لی پین کی مزید سیاسی قوت کا مطلب مسلمانوں کے لیے مشکلات میں کمی نہیں، بلکہ اضافہ کرے گا۔ لیکن امت مرحوم کے نمائندے اس منظر نامے سے بالکل لاتعلق نظر آتے ہوئے عطاء اللہ شاہ بخاری اور علم الدین کی پیروی میں مصروف ہیں۔
اگلا سوال خاکوں سے متعلق ہے؟ کیا خاکے محض اس لیے بنائے گئے کہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا جا سکے۔ کیا ان کا مقصد اسلامی حمیت کو پرکھنا تھا۔ کیا ان کے پیچھے کوئ گہری سازش موجود تھی۔ یہ سارے جواز مسلم معاشروں میں 2011 سے دیے جارہے ہیں جب پہلی دفعہ ان خاکوں کے ردعمل کے طور پر چارلی ہیبڈو پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
چارلی ہیبڈو بنیادی طور پر ایک بائیں بازو کا نمائندہ رسالہ ہے جو 1970 سے کام کر رہا ہے۔ رسالے میں طنزیہ مضامین، کیری کیچرز اور کارٹون تواتر سے شائع ہوتے ہیں۔ تاریخی، ثقافتی اور سماجی تناظر میں چارلی ہیبڈو کے نزدیک عقائد یا تاریخی شخصیات کسی تقدس کی حامل نہیں ہیں اس لیے ان کا مذاق اسی طرح اڑایا جا سکتا ہے جیسا کہ کسی سیاسی راہنما کا یا کسی سیاسی فکر کا۔ مثال کے طور پر پچھلے پچاس سال میں چارلی ہیبڈو نے سینکڑوں دفعہ کیتھولک چرچ کا مذاق اڑایا ، حضرت عیسی کے حوالے سے بھی ایسے ہی خاکے بنے۔ عیسائی مذہب پر تنقید کے دفتر کھولے گئے لیکن تمام عیسائی دنیا سے اس پر کوئی سخت ردعمل نہیں آیا۔ چارلی ہیبڈو نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بھی ایسے ہی خاکے بنائے لیکن اس پر بھی یورپ یا امریکا کے سرمایہ دارانہ معاشروں نے کوئ ردعمل نہیں دیا۔ متمدن معاشرے اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ عقائد، فلسفے، فکر اور شخصیات علمی یا طنزیہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتے اور وہ اسے اہانت یا تضحیک جیسے لفظوں سے نہیں جوڑتے بلکہ اسے معاشرتی اور سماجی تطہیر کا ایک جزو سمجھتے ہیں ۔
2001 کے بعد مسلم شدت پسندی کی لہر کو دنیا بھر نے محسوس کیا۔ ہزاروں لوگ اس شدت پسندی کی بھینٹ چڑھے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی وجوہات میں امریکا بہادر کی استعماری پالیسی ایک بہت اہم وجہ تھی لیکن اس پر سارا الزام رکھ کر مسلم شدت پسندی کا دفاع ممکن نہیں۔ دہشت گردی کی اس لہر کے جواز اس کے علمبرداروں نے مذہب سے برآمد کیے اور یہ وہی مذہب تھا جس کا پیغام محمد عربی ﷺ کے ذریعے نوع انسانی تک پہنچا۔ چونکہ ہم اس شدت پسندی والے بیانیے پر بضد رہے اس لیے مغرب اس پر کسی معذرت خواہانہ جواز کا قائل نہ ہو سکا اور شدت پسندی مذہب اسلام اور مذہب اسلام کا پیغام لانے والے نبی سے براہ راست جڑ گئی۔ غلط یا صحیح، یہ بحث اب غیر متعلق ہے۔ پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا ہے اور گھڑی کی سوئیاں ایک ہی سمت سفر کرتی ہیں۔
2006 میں چارلی ہیبڈو نے اسی موضوع پر کچھ خاکے شائع کیے جس میں ہدف تنقید مسلم بنیاد پرست تھے اور محمد ﷺ کو اس بنیاد پرستی سے عاجز دکھایا گیا۔ اس پر دو حوالوں سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ پہلا ردعمل اس حوالے سے تھا کہ مسلمانوں کے ایک بڑے حلقے میں مقدس شخصیات کی کسی بھی طرح تصویر کشی غلط سمجھی جاتی ہے چہ جائیکہ اسے کیری کیچرز کی صورت میں سامنے لایا جائے اور دوسرا یہ کہ شدت پسندی یا بنیاد پرستی کو نبی کی ذات سے جوڑا گیا۔ فرانسیسی صدر شیراک نے بھی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا لیکن ان کے بعد آنے والے صدر سرکوزی نے طنز کی قدیم فرانسیسی روایت کا دفاع کرنا مناسب جانا۔
اس سلسلے میں فرانسیسی عدالت میں رسالے پر مقدمہ بھی قائم ہوا جس سے 2007 میں ایگزیکیٹیو ایڈیٹر کو بریت مل گئ۔ اس دوران اس موضوع پر بے شمار مضمون لکھے گئے۔ دونوں اطراف کے نقطہ ہائے نظر سامنے آئے اور ایک ایسی بحث کا در کھلا جس سے خیر کے بہت سے راستے متوقع تھے کہ مسلم علماء کو موقع ملا کہ وہ دین اسلام کے خلاف کسی بھی غلط فہمی پر اپنی رائے دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔ اسی طرح مسلم سماج کے پاس بھی یہ موقع تھا کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی سے دور ہٹنے کا واضح موقف اختیار کر سکتا۔
اس واقعے کے پانچ سال بعد 2011 میں اسی موضوع پر دوبارہ ایک خاکہ شائع ہوا جو بنیادی طور پر تیونس کی اسلام پسند پارٹی کی انتخابات میں جیت اور امتیازی شریعہ قوانین کے نفاذ پر ایک طنز تھا۔ لیکن 2006 کے برعکس اس دفعہ چارلی ہیبڈو کے دعوے کو مزید تقویت دینے کے لیے مسلم شدت پسندوں نے رسالے کے دفتر پر بم حملہ کر ڈالا۔ جوابی ردعمل میں 2012 میں چارلی ہیبڈو نے پہلے سے بھی زیادہ تضحیک آمیز خاکے شائع کر ڈالے۔ یہ سلسلہ اسی طرح دراز ہوتا گیا۔ 2015 میں چارلی ہیبڈو کے بارہ ملازم قتل کر دیے گئے۔ قتل اپنی جگہ، لیکن ترجمان امت نے اس دہشت گردی کی تحسین کر کے ایک بار پھر اس سوچ کو مستحکم کیا کہ مسلمان دلیل اور علم کے بجائے تلوار اور بندوق سے اپنی رائے کے نفاذ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اب 2020 میں یہ قضیہ پھر کھڑا ہو گیا ہے جہاں ہم نے اپنے ردعمل کا اظہار فرانسیسیوں کے سر کاٹ کر اور پھر نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر " سر تن سے جدا" کے جواز درجواز دے کر کیا ہے۔ ردعمل کی نفسیات، فرانسیسی سیکولرزم اور آزادی اظہار کے تحفظ اور اپنی سیاسی ساکھ کی حفاظت کے طور پر اس کے بعد میکرون نے وہی کیا جس کے سوا شاید ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
اب آئیے، دیکھتے ہیں اس سب سے حاصل کیا ہوا۔ چارلی ہیبڈو ایک اوسط اشاعت رکھنے والا جریدہ تھا جسے ہم نے بین الاقوامی شہرت عطا کر دی۔ وہ خاکے جنہیں شاید صرف ایک ڈیڑھ لاکھ لوگ دیکھتے اب انہیں کروڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ تضحیک اور اہانت کا دائرہ ہم نے خود لامحدود کر دیا ہے۔ اسی حوالے سے "انوسینس آف مسلمز " نامی شارٹ فلم یاد کر لیجیے جس پر شاید چند ہزار ڈالر لاگت آئی تھی۔ ایک بیہودہ اور گھٹیا ترین پروڈکشن جسے شاید یو ٹیوب پر پانچ سو ویوز بھی نہ ملتے لیکن ہم نے آسمان سر پر ایسا اٹھایا کہ یہ ویڈیو تاریخ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں سے ایک بن گئی۔ پرتشدد مظاہروں میں مسلمانوں نے اپنے ہی ہم مذہبوں میں سے پچاس کی زندگیاں قربان کیں اور اربوں کا نقصان کیا ۔ سلمان رشدی کی شاید سب سے کمزور کتاب " سٹینک ورسز " پر بھی ہمارے ایسے ہی رویوں نے اسے بیسٹ سیلر بنا دیا۔ وہ پیغام جو ہم روکنے کے لیے متحرک ہوئے تھے وہ لاکھوں لوگوں تک ہماری اسی کوشش کے صدقے پہنچ گیا۔ باقی مالی اور جانی نقصان جو مسلم ممالک نے اپنے ہی مظاہرین کے ہاتھوں سہے ، وہ الگ۔ ایسی اور بھی کتنی ہی مثالیں ہیں جن سے ہم نے دنیا کی مسلم شدت پسندی اور اسلاموفوبیا سے جڑی سوچ کو اور راسخ کر ڈالا۔
جب ہم فرانس جیسے ممالک سے بلاسفیمی کے لیے قوانین کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہالو کاسٹ سے جڑے قوانین کو مثال بناتے ہیں ۔ لیکن یہ بھول جاتے ہیں یا اس سے واقف نہیں ہیں کہ ہالوکاسٹ پر کسی تنقیدی تحقیق پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ رد ہالو کاسٹ پر البتہ یہ قوانین حرکت میں آتے ہیں اور اس کی وجہ بہت سادہ ہے ۔ ہالو کاسٹ کوئی مذہبی تاریخی مظہر نہیں ہے بلکہ پچھلی صدی میں گزرا ایک واقعہ ہے۔ اس خون ریز نسل کشی کا شکار ہونے والوں کے خاندان بھی زندہ ہیں اور اس سے بچ نکلنے والے خوش قسمت بھی۔ فرانس جیسے ممالک نے اسی جنگ میں ہزاروں جانیں گنوائی ہیں ۔ نسل پرستی اور مذہبی منافرت کے نام پر ہالو کاسٹ کا انکار ایک بدترین انسانی سانحے کی اہانت ہے ۔
نسل پرستی کے ارتداد کے لیے بنائے گئے قوانین ان معاشروں کی صرف یہودی اقلیت ہی نہیں ، مسلمان اقلیت کے تحفظ کے بھی ضامن ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس سب کے باوجود یہ قوانین کسی کا سر تن سے جدا کرنے کی بات نہیں کرتے ۔ ان کے تحت مقدمہ چلانا اور ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے اور پچھلے پچاس سالوں میں سزا کی کل مثالیں شاید پچیس سے بھی کم ہیں ۔ ان میں سے بھی ایک آدھ مقدمے کو چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ سزا جرمانےیا چند ماہ قید کی رہی ہے۔ ان قوانین کا موازنہ پاکستان کے بلاسفیمی کے قوانین سے کسی بھی صورت نہیں کیا جا سکتا۔ رد ہالو کاسٹ پر کسی مغربی معاشرے میں کبھی کسی نے کسی کو قتل تو دور ، تھپڑ بھی رسید نہیں کیا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم توہین کے حوالے سے اپنے پرتشدد رویوں کی دلیل ان سے برآمد کرنے پر مصر رہتے ہیں ۔
کچھ باتیں اور سمجھ لیجیے۔ یہ جنگ صلیب اور ہلال کی نہیں ہے۔ فرانس ایک سیکولر ریپبلک ہے جو ریاستی سطح پر کسی مذہب کا علمبردار نہیں ہے۔ وہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے۔ کلونینزم کے بعد کا فرانس اب ہمہ گیر ثقافت کا حامل ہے۔ فرانس میں بسنے والے لاکھوں مسلمان اتنی ہی مذہبی آزادی رکھتے ہیں جتنا کوئی عیسائی۔ یقین رکھیے کہ اس سارے ہنگام میں کسی ایک فرانسیسی مسلمان نے بھی اپنی شہریت ترک نہیں کی ہے ۔ اس وقت بھی دو لاکھ سے زیادہ مسلمان تارکین وطن فرانس میں پناہ کی درخواست لیے بیٹھے ہیں۔
فرانس میں اگر عوامی مقامات پر اسلام کے مظاہر پر پابندی ہے تو یہی پابندی عیسائی مذاہب کے مظاہر پر بھی ہے۔ چارلی ہیبڈو جیسے جریدے بھی بلا تفریق ہر مذہب پر طنز کرتے ہیں۔ یہ سوال پوچھنا برمحل ہے کہ سارے عقائد میں صرف ہمارا عقیدہ ہی نازک ترین کیوں ٹھہرتا ہے؟ رہا بائیکاٹ اور بین تو عرض یہ ہے کہ فرانس کی برآمدات 570 ارب ڈالر ہیں جن میں سے پاکستان کا حصہ ایک فی صد کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔ تو ہم ساری فرانسیسی مصنوعات بھی مسترد کر دیں تو اس سے ان کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا ،ہاں، ہماری بہت سی صنعتیں مشکل کا شکار ہو جائیں گی۔ دفاعی امداد اور انسانی امداد کے اربوں کا تو ذکر ہی کیا۔ باقی رہے میراج طیارے ، اوگستا آبدوزیں اور سویلین ایرکرافٹ تو ان کے پرزے اور مستقبل کی خرید کے بغیر ہم کہاں کھڑے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔
سو باتوں کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارا اپنا کردار اس امر کا تعین کرے گا کہ ہم باقی دنیا سے کس قسم کے رویے کے متمنی ہیں ۔ مغرب میں اب یہ باتیں اہمیت نہیں رکھتیں کہ چرچ کے مقدس ہونے پر حرف زنی ممکن ہے یا نہیں ۔ بلاسفیمی کے قوانین محض دور جہالت کی یادگار ہیں ۔ آزادی اظہار مقدم ہے لیکن رنگ، نسل اور ذات کی بنیاد پر استحصال کی ہر ممکن حوصلہ شکنی ہے۔ مغرب " جیسس کرائسٹ سپر اسٹار" یا "لاسٹ ٹیمپٹشن آف کرائسٹ " جیسی فلموں پر لٹھ اٹھائے باہر نہیں نکلتا ۔ اور تو اور ہمارے پڑوس میں " پی کے " اور "او مائی گاڈ" جیسی فلمیں بنتی ہیں اور بے پناہ بزنس کرتی ہیں ۔ اکا دکا آوازیں اٹھتی ہیں لیکن کوئی ہنگامہ برپا نہیں ہوتا۔ مغرب کے لیے حضرت عیسی مقدس ہیں لیکن چارلی ہیبڈو جیسے رسائل اور جریدے ان کے خاکے شائع کرتے ہیں۔ کوئی اس پر معترض نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس اعتراض کو اہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی حضرت عیسی سے محبت کا ثبوت دینے کے لیے وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے کو درست خیال کرتے ہیں۔
جب ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مقدسات کا احترام کیا جائے تو ہم یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ ہماری نصابی کتب تک میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کو کس پیرائے میں یاد کیا جاتا ہے۔ دن رات خطیب یہود، ہنود اور نصرانیوں کو مغلظات سناتے ہیں ۔ ہم غیر مسلموں کو ہمہ وقت جہنم کی خوش خبری دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار جیسے علماء آن ریکارڈ اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری ٹھہراتے ہیں ۔ ہم مندروں کو بزور بازو منہدم کرتے ہیں۔ احمدیوں کی ہر حوالے سے تضحیک اور اہانت کرتے ہیں۔ ان کے مذہبی پیشواؤں کو بدترین گالیاں دیتے ہیں۔ بالا دست گروہ دوسرے فرقوں کو علی الاعلان کافر کافر کہتے ہیں۔ مذہب کے نام پر ہم واجب القتل کے فتووں سے کہیں آگے بڑھ کر گروہ در گروہ قتال کرتے ہیں۔ ہندو اور عیسائی مذہب کی نشانیوں کا سر عام تمسخر اڑاتے ہیں۔
لیکن ان سب باتوں پر پر کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔ اسمبلیوں تک میں اہانت کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہمارا منصف اعلی اپنے سے مختلف عقیدہ رکھنے والوں کا نام تک لینے کا روادار نہیں ہوتا۔ اس پر ہمارے یہاں کوئ مظاہرے نہیں ہوتے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی، کسی کو اشتعال میں آنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اور یہ سارا سلسلہ ریاستی سطح پر جاری رہتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس کی ترویج ہوتی ہے۔ روزگار کی شرائط تک میں عقیدے کے تفریق در آتی ہے ہمارے اپنے گھر میں یہ کسی جریدے کا معاملہ نہیں ہے ، یہ پورے معاشرے کا حال ہے۔ ہم کس منہ سے چارلی ہیبڈو سے جواب مانگتے ہیں ، یہ میرے فہم سے پرے کا معاملہ ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ جو صورت گری اب ہے ، اس میں کریں کیا؟ یہ جذباتی ہتھکنڈے اور مظاہرے اور بائیکاٹ تو تماشے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ اس ضمن میں بھی کچھ گذارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کر لیجیے۔ دنیا اسلام کا مذاق نہیں اڑاتی، اسلام کے پیروکار شدت پسندوں اور بنیاد پرستوں کے اعمال اور فکر کا مذاق اڑاتی ہے۔ جب ہم شریعت کے نام پر خواتین کو گھروں میں بند کرتے ہیں، لڑکیوں کو سنگسار کرتے ہیں، ہم جنس پرستوں کو دس منزلہ عمارت سے نیچے پھینکتے ہیں، کم عمری کی شادی کے بل کے خلاف اسمبلیوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جبری مذہب کی تبدیلی کے بل کو منظور نہیں ہونے دیتے۔عورتوں کی تعلیم اور روزگار پر قدغن لگاتے ہیں، گھریلو تشدد کے خلاف قانون کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ، ریپ میں ڈی این اے کی شہادت کو مسترد کرتے ہیں۔ آدھی وراثت اور آدھی گواہی پر مصر رہتے ہیں۔ غیر مسلموں کو بلاتفریق جہنمی قرار دیتے ہیں، اسمبلیوں میں ایک گروہ کو کافر قرار دینے کا بل بیسیوں صدی میں پاس کراتے ہیں اور اکیسویں صدی میں عقائد کے نام پر مقدمے قائم کرتے ہیں، لوگوں کو عقیدے کے فرق کے نام پر قتل کر کے اجتماعی طور پر اس کی تحسین کرتے ہیں تو مذاق تو اڑے گا۔ اور جب ہم ان سارے اعمال کے جواز نبی کی تعلیمات سے برآمد کرنے پر مصر رہیں گے تو پھر نبی کی شخصیت کا دفاع کیونکر کریں گے۔ اپنے دین کو سلامتی کا دین کہنا کافی نہیں ہے ، اسے ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔
قدیم مذہبی اور تاریخی شخصیات پر ایک رائے قائم کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے کہ اکثر اوقات تاریخ مشکوک ہوتی ہے، راوی ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں اور تقدس کی دھند میں حقائق غائب کر دیے جاتے ہیں۔ نبی اکرم کے حوالے سے ہم اگر اس زاویے کو مقدم جانیں جو حضرت خدیجہ سے ان کے تعلق، شعب ابی طالب ، سفر طائف، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کی عام معافی سے سامنے آتا ہے تو اسلام، امن، درگزر، صنفی مساوات اور امن پسندی لازم و ملزوم ٹھہریں گے تاہم اگر ہم بنو قریظہ ، ابن خطل، کعب بن اشرف، رجم کی سزا، لونڈیوں سے تعلق اور حضرت عائشہ کی چھ برس کی عمر کی شادی جیسی روایات پر اصرار اور اس کی تاویل پر مصر رہیں گے تو ہم بنیاد پرستی اور شدت پسندی کے لیبل سے شاید کبھی بھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اب یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم آج کے دن اپنی زندگی کو دور جدید اور مہذب دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کون سی راہ چنتے ہیں ۔
طنز اور تضحیک کے سب تیر اس کمان سے چلتے ہیں جو ہمارے اعمال بناتے ہیں ۔ اپنا راستہ، اپنا قبلہ ، اپنے اعمال ٹھیک کر لیجیے تو طنز کی دھار خود ہی کند ہو جائے گی۔ مذاق کے راستے خود ہی بند ہو جائیں گے اور اہانت کا کوئی وار ممکن ہی نہیں رہے گا۔ آپ کے عقیدے کی حرمت کا تعین آپ کا رویہ اور آپ کا عمل کرتا یے ۔توجہ دینے کے میدان کہیں اور ہیں اور ہم کہیں اور ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔
باقی یہ ہے کہ جب کچھ اور یاد رکھنے کو نہ ہو تو یہ یاد رکھیے گا کہ عشق میں سر دینے کی رسم تو ہے، سر اتارنے کی کوئی ریت نہیں ہے۔

Friday, 30 October 2020

کیا روضہ رسول میں جانا ممکن ہے ؟؟؟کیا روضہ رسول میں جانا ممکن ہے ؟؟؟

 

کیا روضہ رسول میں جانا ممکن ہے ؟؟؟
ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے کہ سعودی حکام نے چیچن صدر رمضان قدیروف کیلئے بارہ ربیع الاول کے روز روضۂ رسولؐ کھول دیا۔ جس میں صدر صاحب کو پردے سے لپٹ کر روتے اور درود و سلام پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والے مناظر کو اس دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا میں خوب پھیلایا جا رہا ہے:”تاریخ میں پہلی بار روضۂ اطہر کی عکس بندی ہوئی ہے، جسے دیکھ کر اپنے ایمان کو جلا بخشیں۔“ اس لئے ضروری خیال کیا کہ اس حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے کہ کیا یہ واقعی قبر مبارک والے حجرہ شریف کے اندرونی مناظر ہیں؟ کیا موجودہ زمانے میں سعودی حکام سمیت کسی نے بھی روضۂ اطہر کو دیکھنے کی سعادت حاصل کی ہے؟ یقینا گنبد خضرا وہ گنبد ہے، جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے دل میں گنبد خضرا کی زیارت کی خواہش انگڑائی نہ لیتی ہو۔ قبر اطہر پر یہ گنبد مملوک سلطان سیف الدین قلاوون کے دور 1279ءبمطابق 678ھ میں تعمیر کروایا گیا۔ اصل ساخت میں لکڑی استعمال کی گئی تھی۔ ہر نئے حکمران کی طرف سے بحالی کے کاموں کے دوران اسے مختلف رنگ کئے جاتے رہے۔ 1481ءمیں مسجد نبوی میں آگ لگی، جس کے نتیجے میں گنبد بھی جل گیا۔ گنبد کی دوباہ تعمیر کا کام مملوک سلطان قائتبائی نے شروع کیا۔ اس مرتبہ ایسے حادثات سے بچاﺅ کےلئے لکڑی کے بجائے اینٹوں کا ڈھانچہ بنایا گیا اور لکڑی کے گنبد کی حفاظت کےلئے سیسہ کا استعمال کیا گیا۔ سولہویں صدی میں عثمانی سلطان سلیمان اعظم نے گنبد کو سیسے کی چادروں کے ساتھ مڑھوایا، پھر 1818ءمیں عثمانی سلطان محمود بن عبد الحمیدؒ نے اسے سبز رنگ کروایا۔ اس کے بعد سے یہ ایسا ہی ہے۔ اسی سبز رنگ کی وجہ سے اسے ”گنبد خضرا“ اور ”القبة الخضرا“ (Green Dome) کہا جاتا ہے۔ یہ گنبد فن تعمیر کا ایک شاہکار ہونے کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ 1925ءمیں جب آل سعود نے مدینہ منورہ کو فتح کیا تو مقامی علما کے حکم پر جنت البقیع میں قبور پر بنے تمام گنبد گرا دیئے گئے۔ کیونکہ شرعاً قبروں پر گنبد وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔ پھر انہوں نے گنبد خضراءکے بھی انہدام کا ارادہ کیا۔ جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی۔ مختلف ممالک کے علما نے انہیں منع کیا تو انہوں نے مناظرے کا چیلنج دیا۔ اس دوران ہندوستان سے بھی علما کا ایک وفد سعودی عرب پہنچا۔ شامی، عراقی اور ترک علما پہلے سے موجود تھے۔ تمام علما نے مناظرے کیلئے ہندوستانی وفد کے رکن علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو آگے کردیا۔ انہوں نے ناقابل تردید دلائل سے عرب علماء کوقائل کرلیا کہ گنبد خضراءکو نہیں گرایا جاسکتا۔یوں گنبد خضراءکے انہدام کا ارادہ ملتوی کردیا گیا۔ خدا کے محبوب نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰؐ کے روضہ مبارک پر قائم اس گنبد خضرا کے نیچے اور روضہ شریف کے اندر کیا ہے، اس کے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ انٹرنیٹ پر کئی جعلی تصاویر گردش میں رہتی ہیں۔ انواع و اقسام کی قبروں کو قبر رسول کے نام سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ کبھی کسی آدمی کی تصویر اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے کہ یہ روضہ رسول کے خادم ہیں اور قبر مبارک کی صفائی کی خدمت پر مامور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سب دعوے بے بنیاد اور مصنوعی ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ روضہ شریف کے اندر کیا ہے؟ کیا کوئی قبر مبارک تک رسائی رکھتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات کچھ عرصہ قبل سعودی حکومت نے باضابطہ طور پر دیئے ہیں اور اندرونی ہال کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں، جن سے سب خرافات اور بناوٹی باتوں کا قلع قمع ہوتا ہے۔ آنحضرت کا وصال ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ مبارک میں ہوا تھا اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ اس کے بعد پھر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی وہاں مدفون ہوئے۔ اس طرح روضہ شریف کے اندر اس وقت تین قبریں ہیں۔ اس طرح کوئی بھی ایسی تصویر جس میں صرف ایک قبر ہو، وہ کسی صورت رسول اقدس کے مرقد شریف کی نہیں ہو سکتی اور ویسے بھی خدا کا شکر کہ آپ کی قبر مبارک کی کوئی تصویر دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحابؓ کی قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے، جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔ یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے بنوائی تھی اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہٰذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ روضہ رسول کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔ قبر مبارک کی صفائی کے متعلق بھی بہت سی کہانیاں گردش کرتی رہتی ہیں۔ یہ بھی سو دس فیصد جھوٹ ہیں، کیوں کہ اندرونی دیواروں میں دروازہ نہ ہونے کی وجہ سے قبر مبارک تک رسائی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ تاہم ان دیواروں کے ساتھ اور جالیوں کے پیچھے کی صفائی کی جاتی ہے، لیکن اس کےلئے کوئی وقت متعین نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی شخص مقرر ہوتا ہے، بلکہ ایک جماعت کی صورت میں کچھ لوگ آتے ہیں اور کسی بھی خادم کو پکڑکر ان جالیوں کے متصل پیچھے اور دیوار کے ساتھ صفائی کروائی جاتی ہے، جتنی مٹی وغیرہ جمع ہو، اسے ایک لفافے میں ڈال کے وہ ساتھ لے جاتے ہیں، تاکہ لوگ اس کو حاصل کرنے کے فتنے میں مبتلا نہ ہوں۔ روضہ رسول پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر پڑا ہوا ہے۔ اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضرت کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے، لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔ ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔ گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے، سوائے دو مواقع کے۔ ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں ان کا غلام اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ السمہودیؒ کے بیان کے مطابق وہ خود۔ مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب ہے۔ سرور کونین کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔ بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے، یعنی جنت البقیع کی سمت۔ یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمة الزہرہؓ کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔ العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔ 1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔ اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز آل سعود کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔ مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی، جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔ 91 ہجری سے 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا تھا۔ اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے بوسیدہ ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودیؒ مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ (ہمارے بچپن کے دوست منیب حسین کے مطابق علامہ سہمودی مدینہ طیبہ کے مفتی تھے۔ منیب حسین عرب امور کے ماہر اور محقق عالم دین ہیں) علامہ سمہودیؒ لکھتے ہیں کہ 14 شعبان 881ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے رسول اقدس اور آپ کے دونوں خلفائے راشدینؓ کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔ میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا اُبھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر فاروقؓ کی قبر مبارک تھی۔ مقدس قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔ اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔ السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبویؐ کے فرش سے تقریباً 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی، جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا، جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“۔ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے حجرے کی چھت پر واقع اس گنبد کے حوالے سے بڑی عجیب بات لکھی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں شدید قحط سالی ہوگئی تو لوگوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے شکایت کی تو انہوںنے فرمایا کہ اپنے نبی کی قبر کے اوپر چھت کھول دو، تاکہ اس کے اور آسمان کے مابین کوئی پردہ نہ رہے۔ چنانچہ صدیقہؓ کے حجرے کی چھت قبر اطہرکے اوپر کھولی گئی تو موسلادھار بارش سے مدینہ منورہ جل تھل ہوگیا۔ اس سال اتنی بارش ہوئی کہ ہرطرف ہریالی ہوگئی، اونٹ خوب موٹے ہوگئے تو اس سال کا نام ہی ”عام الفتق“ پڑ گیا۔ (ابن حجرؒ نے یہ روایت مشکوٰة شریف کی شرح 362/5 میں نقل کی ہے) روضہ اطہر سے متعلق مذکورہ بالا معلومات معروف کتاب ”وفاءالوفاءبا اخبار دار المصطفیٰ“ کے مولف السمہودیؒ نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں۔ مسجد نبوی، حجرہ شریف اور قبر مبارک کے حوالے سے یہ کتاب سب سے مستند حوالہ ہے۔ یہاں تک کہ وکی پیڈیا میں روضہ اطہر سے متعلق درج تمام تفصیلات بھی اسی سے اخذ شدہ ہیں۔ اس کتاب میں مدینہ منورہ کی تاریخ سے متعلق تمام معلومات جمع کی گئی ہیں۔ علامہ السمہودیؒ کی وفات 911 ہجری میں ہوئی۔ 881 ہجری یا 1477 عیسوی سے لے کر اب تک تقریباً ساڑھے پانچ سو سال کے عرصے میں کوئی انسان آنحضرت کی قبر مبارک کی زیارت نہیں کر سکا ہے۔ تو چیچن صدر کہاں سے قبر مبارک تک پہنچ گئے؟ جہاں تک صدر صاحب کو لے جایا گیا، یہ سیدہ فاطمہؓ کی محراب والا کمرہ ہے۔ وہاں سے آگے روضہ اطہر تک مزید چار دیواریں اور ہیں۔ جیسے کہ آپ نقشے میں دیکھ سکتے ہیں۔

https://www.facebook.com/profile.php?id=100009666136877&__cft__[0]=AZU3uegC3DavmFniMuRxzxnEiAtcafzjVOVmOcl49oLWA3OG9vCpPIWSw6kX4vzoE-l4uJWUWF0mTxkuPlKMqlLsb1L3df6VedDYlPlvFusUiNjuZD6CZdwgK35TwicYpc0&__tn__=-UC%2CP-R

Sunday, 11 October 2020

مقتول (مبشر علی زیدی)

 مقتول

(مبشر علی زیدی)
۔
پولیس کے محرر نے
قتل کی ایف آئی آر لکھ لی ہے
حاکم کے ترجمان نے
قاتلوں کی فوری گرفتاری کے حکم والا بیان تیار کرلیا ہے
اپوزیشن لیڈر نے
مذمتی بیان ریکارڈ کروادیا ہے
چیف جسٹس ازخود نوٹس لینے کا اعلان کرنے والے ہیں
اخبار کے ایڈیٹر نے
خون آلود شہہ سرخی بنالی ہے
اس سانحے کی
جو ابھی رونما نہیں ہوا
لیکن سب کو یقین ہے
کہ وہ ضرور ہوگا
جلد ہوگا
میں نے بھی ایک نوحہ کہہ ڈالا ہے
اس شخص کے لیے
جسے مناسب موقع پر
قتل کردیا جائے گا
میں نے اس نوحے میں
مقتول کا نام نہیں لکھا
کیونکہ ابھی اسے قتل نہیں کیا گیا
نام کے بجائے
ایک نمبر ڈال دیا ہے
اس نمبر سے پہلے کئی ہزار نمبر ہیں
اور اس کے بعد بھی کئی ہزار نمبر آئیں گے
میں نے اس نوحے میں
مقتول کا پیشہ نہیں لکھا
لیکن وہ کوئی عالم ہوگا یا استاد
کیونکہ ان کے رونے والے زیادہ ہوتے ہیں
میں نے مقتول کا مسلک نہیں لکھا
لیکن یقین ظاہر کیا ہے کہ
قتل کا سبب یہی ہوگا
کیونکہ کسی اور وجہ سے قتل کرنے میں
اتنا ثواب نہیں ملتا
اتنا لطف بھی نہیں آتا
میں نے اس نوحے میں
قتل کا الزام
سرحد پار کے قاتلوں پر لگایا ہے
کیونکہ وہ کبھی پکڑے نہیں جاتے
ملک کی کئی سرحدوں میں سے
قاتل کی سرحد کا تعین
قتل کے بعد کیا جائے گا

Thursday, 8 October 2020

اگرگھربیٹھ کرمیری زمین پر قبضہ کرسکتےہیں توگھر بیٹھے پیسے بھی دے دینے چاہیں





 1996
کوئٹہ میں 4ایکڑ زمین لی، کاغذات تیارکروائےجب اپنی زمیں پرگھربنانےکی پلاننگ کی توآرمی کیطرف سےمجھےروک دیاگیااور میری اپنی زمیں پرمجھےداخل ہونےسےمنع کردیاگیا،میری طرح اورکئی لوگ جووہاں زمین کے مالک تھےانکواپنےحق سےمحروم ہوناپڑا۔وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ فائرنگ رینج ہےوغیرہ وغیرہ 
اب اسی زمیں پرڈی ایچ ایےبن رہا ہے،جنرل سلیم باجوہ میرے دوست ہیں،2016میں جب کینیڈا شفٹ ہواتواس سےپہلےمیں نے انکوایک کال کی اوربتایاکہ میری کوئٹہ والی زمیں کاکیابنےگا؟ انہوں نےمجھےجواب دیا"کہ گھربیٹھ کرتوآپکوکوئی پیسے نہیں دےگا،مجھےکاغذات بھجوائیں میں ڈی ایچ اےوالوں سےبات کروں گاوہ آپکوپیسے دےدیں گے۔"جنرل صاحب کابہت شکریہ کہ انہوں نے تعاون کی یقیں دہانی کروائی لیکن میں نےدل میں سوچا کہ اگرگھربیٹھ کرمیری زمین پر قبضہ کرسکتےہیں توگھر بیٹھے پیسے بھی دے دینے چاہیں .جب میں سول سروسز میں تھاتو میرے کورس میٹ کے والد بریگیڈئیرتھےشہرکےبیچ کنٹونمنٹ میں انکاگھرتھا،ان کے گھرکےسامنےایک پلازہ تعمیرکیاجا رہاتھا،اس پلازہ کی عمارت جب بریگیڈئیرصاحب کےگھرسےاونچی ہونےلگی تواس پلازہ کی عمارت کو سیکورٹی رسک قراردےکر رکوادیا گیادنیاکےکسی بھی ملک میں افسرشہرکے بیچ و بیچ نہیں رہتےکیوں کہ پلازہ کی اونچی عمارت سیکوڑٹی رسک نہیں بلکہ آپ اردگرد رہنے والے کئی سویلینز کے لیے سیکوڑٹی رسک ہیں، آپکو رہنا ہے تو کہیں بارڈرکےپاس یاسویلین آبادی سےدوربسیراکریں۔راولپنڈی میں اکثرشام کی چائے دوستوں کےساتھ پینےکنٹونمنٹ میں واقع ایک ہوٹل پرجاتےتھے، اس ہوٹل میں رش لگاہوتاتھا کیونکہ لوگ اسکی چائے کےدیوانےتھے،ایک دن جب ہم چائےپینےگئےتودیکھاکہ اس ہوٹل کےپاس دوسائن بوڑڈزلگےتھے" out of bound"دوکان کھلی تھی،چونکہ کنٹونمنٹ کاایریاتھا تواسی نوٹس بوڑڈکےپاس ایک" ایم پی"والابھی کھڑاتھاہم نے ہوٹل والےسےاس سارےماجرے کی وجہ پوچھی تواس نےبتایاکہ ساتھ ہی ایک کرنل صاحب کاڈیری فارم ہے،توکرنل صاحب کافی عرصےسےبضدتھے کہ ہوٹل کیلیےدودھ انکےفارم سے لیاجائے،میں نےوہ دودھ try بھی کیا،لیکن اس دودھ کی چائےکاوہ ذائقہ نہیں جس کےگاہک شوقین ہیں تومیں نےکرنل صاحب سےمعذرت کی کہ میں جہاں سےدودھ لیتا ہوں وہیں سےcontinueکروں گا۔اسی بات پراتنا تنازعہ بڑھتا چلاگیا اورآج یہ ساری صورت حال ہے۔میں اکثر ایسے فوج کے افسروں کو بھی جانتا ہوں جوdown to earth ہیں،میری اسٹیبلشمنٹ سے مرادوہ طبقہ ہےجو عدالتوں کے فیصلوں کوایک کاغذکاٹکڑا تصور کرتے ہیں۔جو لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرتےہیں وہاں dhaبناتے ہیں۔جن کے لیےایک پلازہ کی عمارت سیکورٹی رسک ہےجواس ملک کےکسی ادارےکوترقی نہیں کرنےدیتے، کیونکہ ادارےترقی کرجائیں تو انکی من مانی اورمرضی کیسے چلے گی۔اسی طرح ان سب کی اولادیں اور سرمایہ اس ملک سے باہر ہے،دنیا کےکسی بھی ملک کاافسردوسرے ملک شفٹ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اسکےپاس اہم ملکی رازہوتےہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ سب کی اولادیں اورکاروبارملک سےباہر کیوں ہیں؟کوئی ان سےسوال نہیں کرسکتا۔کیایہ اس ملک کےلیے خطرہ نہیں ہیں؟
جوحوالداربارڈرپرشہیدہوتاہےاسے سلام لیکن اس حوالدارکی قربانی کوکسی مخصوص طبقےکاپیٹ 

بھرنےکی قطعی اجازت نہیں دےسکتا۔

Wednesday, 7 October 2020

Begum Akhtar: The Queen of Ghazals

 

For Begum Akhtar, also known as the Mallika-e-Ghazal (The Queen Ghazals), it was a series of personal tragedies that formed the basis of her legendary vocal performances. Her magic lay in not merely expressing this pain, love and hope, but translating these emotions in ways that future generations would empathise with and understand.

Rita Ganguly, a student of the great Begum, once said that her soulful voice emerged from the depths and years of “loneliness, pain, suppression and silence”. Her unforgettable voice took to the masses, the various forms of semi-classical and classical Hindustani music like the ghazal, thumri and dadra that were once restricted to private mehfils (audiences).

It was her voice which brought life and a certain soul to the remarkable poetry of literary giants like Mirza Ghalib, Kaifi Azmi, Shakil Badayuni, Mir Taqi Mir and Jigar Moradabadi.

For the only artist allowed to smoke in the premises of the All India Radio’s recording studios, it was music which had literally kept her alive amidst a series of personal tragedies until it finally consumed her. Posthumously awarded the Padma Bhushan, Begum Akhtar espoused a unique spirit in her voice which inspired legends like Pandit Jasraj to become a singer as a six-year-old and Agha Shahid Ali, the Kashmi-American poet, to pick up the pen.





Born on 7 October 1914, in Faizabad, Akhtar probably endured more heartaches than most of us do in a lifetime. Her lawyer father, Asghar Hussain, abandoned his wife, Mushtari, a small-time tawaif (courtesan, a profession Akhtar would don till her eventual marriage) and his two children – Akhtar and Zohra (twin sisters) when they were only four years old. After consuming poisoned sweets, both sisters were rushed to the hospital, but Zohra tragically didn’t make it.

In the midst of the devastating loss of a twin sister, it was music that offered Akhar refuge. While her mother insisted that she learn conventional Hindustani Classical Music, it was in other forms like the ghazal or thumri where she could truly express herself. Unfortunately, like many female singers of the time, she also endured a lot of physical abuse at the hands of her masters.

“Worse, Bibbi, or Akhtari Bai Faizabadi as she was by then known, was raped by a raja of one of the states of Bihar who was a patron of classical music. She gave birth to a girl, Shamima. Mushtari, determined that her daughter would not face the world as an unwed mother, pretended the baby was her own and Shamima became Akhtar’s sister. The singer stood by this story until her death,” says this 2008 profile in Mint.

All these events happened by the time she reached 13 years of age. However, her musical gift grew from strength to strength. She performed for the first time in front of an audience at a concert for the victims of 1934 Nepal-Bihar Earthquake, where Sarojini Naidu heaped praise on her singing talents. Akhtar even had a short stint in the film industry till the early 1940s, but left because her mother would have none of it.




But Akhtari Bai managed to escape the matriarchal hold by arranging a marriage for herself into high society. She did this knowing that the price of respectability was a life in purdah, giving up the arts and individual freedom,” writes Mehru Jaffer for Women’s Feature Service.


For eight years, she gave up music. However, following multiple miscarriages and the death of her mother, she was devastated both mentally and physically. Doctors felt that it was only music that would give her an outlet for this grief, and soon she returned to music.

This gave her a second lease of life, and it was during this phase that she got into singing serious poetry. She even shifted her audiences from largely private mehfils to the public venues and eventually the All India Radio, which broadcasted her voice through vast swathes of this country.

Having mesmerised audiences through the length and breadth of India with her unforgettable performances, she eventually passed away on 30 October 1974, suffering a heart attack during a performance in Ahmedabad at the age of just 60.

It is noted critic Raghava Menon who best captures the essence of her greatness.

“Akhtar was constantly caught up in a male-dominated world. She could never escape, even in the middle class, for there were inescapable social stigmas. But, it seems to me, she had an understanding of the predicament of the human being, and she used her life as a source of understanding of the masses who have looked for things, searched for things, gone on a journey to discover things and, in some cases, come back empty handed, finally realising that the important thing is the journey. She seemed like that to me. She was a remarkable, highly evolved woman,” he once said.

زندگی کے سفر میں سب سے بھاری سامان خالی جیب ہوا کرتی ہے۔

 زندگی کے سفر میں سب سے بھاری سامان خالی جیب ہوا کرتی ہے۔

یہ بہت کڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو بچپن سے اہتمام رکھا جاتا ہے کہ بڑے ہو کر کہیں غلطی سے امیر ہونے کی سوچ چھو کر بھی نہ گزرے۔
پیسہ کمانا الگ معاملہ ہے اور امیر ہونا ایک بالکل علیحدہ چیز ہے۔ روزی روٹی کے لیے سب کوشش کرتے ہیں۔ تھوڑی بہت تنخواہ ملتی ہے تو سمجھیے سفر چالو ہو گیا۔ لیکن مسافر یہ نہیں سوچتا کہ گزارا ہونا اور فراغت ہونا، بے فکری ہونا، یہ دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔
آپ کو بچپن سے ان بزرگوں کے قصے پڑھائے جاتے ہیں جو شدید غربت میں بھی عزت دار زندگی گزارتے تھے۔ جن کے کپڑے پھٹے ہوتے تو وہ پیوند لگا لیتے مگر نئے لباس کا نہ سوچتے۔ جن کے لیے پیسے سے زیادہ اہم ان کا مقصد تھا۔ ایسے بادشاہوں کا بتایا جاتا ہے جو خود بھوکے رہتے لیکن ان کی رعایا پیٹ بھر کے سوتی تھی۔
سوچیے کبھی کوئی امیر آدمی کورس کی کتابوں میں ہیرو دیکھا ہے آپ نے؟ ایک ہوتا تھا وہ حاتم طائی۔ اس کا بھی چکر یہ تھا کہ سخاوت کے مارے وہ بھی مفلسی کے کنارے چھوتا پھرتا تھا۔ حاتم کے علاوہ اگر کسی امیر آدمی کا ذکر ہیرو کے طور پہ آئے گا تو یا اس نے اپنے خزانوں کے منہ غریبوں کے لیے کھول دیے ہوں گے یا کوئی اور ایسا کام کیا ہو گا جسے فلاح عامہ کہتے ہیں۔
کوئی ایسا امیر انسان جس نے خود اپنا پیسہ انجوائے کیا ہو وہ کبھی ہمارا ہیرو نہیں ہوتا۔ اسی چکر میں ہم نے قائد اعظم کی تنخواہ بھی ایک روپیہ مشہور کر دی۔ ہمارے نیک بادشاہ ٹوپیاں سیتے تھے اور باقی سب نے بھی تاریخ کو ٹوپیاں کرا دیں۔
ہم ساری عمر اسی وجہ سے کنفیوز رہتے ہیں۔ امیر آدمی کا تصور ہمارے دماغ میں ایک ولن جیسا ہوتا ہے۔ سوچیں، کبھی اگر کوئی آپ کو سیٹھ کہے، تو کیا آپ کمفرٹیبل ہوں گے؟ یا اسے بھی چھوڑیں، آپ اپنی دفتری زبان دیکھ لیں۔ خط کتابت میں لکھا جائے گا فدوی یہ عرض کرتا ہے، احقر کی گذارش ہے، کمترین یہ چاہتا ہے، اور پھر، یہاں سے گزر کے لٹریچر میں آئیں گے تو باقاعدہ فقیر، درویش، حقیر وغیرہ کہلانے کی ٹرائے ماریں گے۔ کیوں؟ آپ حقیر، فقیر کی جگہ اپنا نام ہی کیوں نہیں لکھ دیتے یا لفظ میں کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ کیا چکر ہے؟ کیوں پوری قوم غربت کو گلوریفائے کر کے گھوم رہی ہے؟ میں نواب حسنین، سیٹھ حسنین یا کوئی بھی دولت مند قسم کا ٹائٹل تک حاصل کیوں نہیں کرنا چاہتا؟
اس کی وجہ وہی ہے کہ ہمارے یہاں امیر ہونا باقاعدہ ایسا گناہ ہے جس پر شرمندگی جائز ہے۔ مذہب میں بھی امیروں کی پکڑ زیادہ دکھائی جاتی ہے، کورس میں بھی انہیں ٹھڈے مارے جاتے ہیں، باقی کسر ڈرامے یا فلموں نے پوری کرنی ہوتی ہے۔
اب ہوتا کیا ہے۔ ہمارا کانسیپٹ کلئیر نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھئی اصل میں ہم قناعت پسندی کر رہے ہیں جب کہ ہم جو کر رہے ہوتے ہیں اسے غربت میں چادر کھینچ قسم کا گزارہ کہتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم سفید پوشی کا بھرم رکھ کے معزز ہو رہے ہیں جب کہ اصل میں صدیوں کی بھوک ہماری آئندہ نسلوں کے دماغوں میں بھی جگہ بنا رہی ہوتی ہے۔ ہم اپنی طرف سے تھوڑا پیسہ آنے پہ حاتم طائی بننے کی خواہش کرتے ہیں، مرنے کے بعد بچے گالیاں دیتے ہیں کہ باپ ماں نے ہاتھ آیا پیسہ بھی نہیں سنبھالا۔
عقل کو ہاتھ ماریں۔ غربت میں عظمت ٹائپ کے سبق پڑھانا بند کریں بچوں کو۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری پوری نسل قناعت مارکہ غریبوں میں بدل گئی ہے۔ جو فقٹے ہیں لیکن جنہیں لگتا کہ ان کی جہان میں بادشاہی ہے، جب زندگی میں اونچ نیچ ہوتی ہے وہاں ہاتھ پاؤں پھولتے ہیں کہ پیسے نہیں ہیں تو اب کریں کیا۔ ایک نوکری کرتے ہیں اور ٹھنڈے ٹھنڈے شام کو گھر میں بیٹھ کے مالی مسئلوں پہ دماغ لڑاتے ہیں۔ شام کو آخر دوسرا اور رات کو تیسرا کام کیوں نہیں کرتے؟ کیوں کہ بھائی قناعت میں عزت، غربت میں عظمت، کنگلے پن میں بادشاہی، ملنگی میں سرداری، درویشی میں نوابی اور فقیری میں امیری ٹائپ کے نشے خود بڑے ہمارے ہم کو لگا کر گئے ہیں۔
ہم لوگ بی اے کر کے نوکری کا خواب آخر کیوں دیکھتے ہیں؟ کوئی بچہ کبھی دکاندار بننے کا خواب کیوں نہیں دیکھتا؟ کبھی آپ نے سوچا کہ آپ بچے کو پراپرٹی ڈیلنگ سکھائیں گے یا آپ کا بچہ گوشت کی دکان کھولے گا بڑا ہو کے؟ قصائی تک چاہے گا کہ بیٹا بابو بنے کاروبار کو مت پھیلائے۔ کیوں؟
یقین کیجیے اس مصنوعی رویے نے ہماری مت ماری ہوئی ہے۔ بچے کو بتائیں کہ بیٹا پیسہ کیوں اہم ہے، اسے کمانا کیوں ضروری ہے، اسے بچانا کیوں ضروری ہے، اس سے آپ کی ساری فکریں دور کیسے ہوتی ہیں ۔۔۔۔ نہ ۔۔۔ ایک منٹ!
وہ کیا تھا، پیسہ ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا، پیسہ ہاتھ کا میل ہے، باقاعدہ لاحول ولا قوة! اے شدید مطمئن غریب لوگو، یہ دو تین کہاوتیں اس سارے فساد کی جڑ ہیں۔ بتاؤ بچوں کو وہ سب کچھ جو بہت بڑے ہونے کے بعد تمہیں خود سمجھ میں آیا ہے! پیسہ ہے تو ہر مسئلے کے بہت سے ممکنہ حل ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ پیسہ ہاتھ کا میل نہیں ہے بلکہ پیسے کمانے والے میلے ہاتھوں میں عظمت ہے۔ عظمت بھی کیا ہے، یہ ایک اور غلط جذباتی لفظ ہے، یوں کہیں کہ پیسے کمانے والا میلا ہاتھ کم روپے کمانے والے صاف ہاتھ سے بہتر ہے، پیسے سے محبت خریدی نہیں جا سکتی لیکن گاڑی بنگلہ ہو تو ڈھیر محبتیں ایک وقت میں ہیلو ہائے کر لیا کرتی ہیں اور وغیرہ وغیرہ۔
جہاں تک غریبی کے تقدس کی بات ہے تو یار خدا اس غربت سے بچائے جس میں بھوکے پیٹ ایک روٹی دیکھنے سے ایمان خراب ہوتا ہو اور وہ امارت نصیب کرے جس میں بندہ خود آٹے کی بوریاں بانٹنے والا بن سکے بھلے ساتھ تصویریں بھی کھنچواتا پھرتا ہو۔
یہ سب مجھے چالیس برس کی عمر میں سمجھ آیا ہے۔ کوئی بول بچن نہیں کرا رہا، میں خود ملنگ ٹائپ آدمی ہوں۔ ایسا ملنگ جیسے گاندھی جی تھے۔ جن کی درویشی کو مینٹین رکھنے کے لیے ساتھ سیکیورٹی والوں کا خرچہ بھی ہوتا تھا اور تن پہ جن کے کپڑا نہیں تھا کوئی ہوتا۔ جن کو بکری کا دودھ ناشتے میں پلانے کے لیے الگ سے بکریاں پالی بھی جاتی تھیں۔ کسی اپنے ملنگ، درویش یا فقیر کی مثال دوں گا تو مارا جاؤں گا، اس لیے گاندھی جی پہ گزارا کریں، پرایوں کو رگڑا لگانا آسان ہے۔
تو خیر، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ فقیری کی عیاشیاں آپ نے کر لیں، ہم نے کر لیں، بچوں کو اس آگ میں نہ جھونکیں۔ پیسے کو برا کہنے سے پیسہ برا تو نہیں ہوتا بس آپ کی نسلوں سے ناراض ہو جاتا ہے۔ اپنا نقصان کر لیا، ان کا مت کریں۔ انہیں آن لائن کوئی چیز بیچنے کی ترغیب دیں، کوئی ہنر پڑھائی کے ساتھ سکھائیں، ان کے ذہن میں ڈالیں کہ میاں پندرہ سولہ سال کے ہو جاؤ تو اللہ کا نام لو اور شروع کرو کوئی کمانے کا دھندہ، پڑھائی وڑھائی ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔ شاید اس طرح بائیس تئیس سال کا ایک ڈگری یافتہ نوجوان خالی جیب کا بھار لیے زندگی کے لمبے سفر کی شروعات نہ کرے!
اولاد کو پیسے کمانے پر لگائیں، غربت میں عظمت کے بھاشن مت دیں.
حسنین جمال

Urdu Poetry